The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 14 October 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

پاکستان میں موبائل انٹرنیٹ کی صنفی خلیج کم ہو کر 8 فیصد رہ گئی، آئندہ تین برسوں میں 60 فیصد ٹاورز کو فائبرائز کریں گے، شزا فاطمہ خواجہ

Chitral Times

پاکستان میں موبائل انٹرنیٹ کی صنفی خلیج کم ہو کر 8 فیصد رہ گئی، آئندہ تین برسوں میں 60 فیصد ٹاورز کو فائبرائز کریں گے، شزا فاطمہ خواجہ

پاکستان میں موبائل انٹرنیٹ کی صنفی خلیج کم ہو کر 8 فیصد رہ گئی، آئندہ تین برسوں میں 60 فیصد ٹاورز کو فائبرائز کریں گے، شزا فاطمہ خواجہ

پاکستان میں موبائل انٹرنیٹ کی صنفی خلیج کم ہو کر 8 فیصد رہ گئی، آئندہ تین برسوں میں 60 فیصد ٹاورز کو فائبرائز کریں گے، شزا فاطمہ خواجہ

.
اسلام آباد ( نمائندہ چترال ٹائمز)وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے ایشیا پیسیفک کے خطے میں ڈیجیٹل تقسیم ختم کرنے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے عملی روڈ میپ کی تشکیل پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے موبائل انٹرنیٹ تک رسائی میں صنفی خلیج 38 فیصد سے کم کر کے ریکارڈ 8 فیصد پر لا کھڑی کی ہے، ملک میں انٹرنیٹ ہاؤس پاسز 50 لاکھ سے تجاوز کر چکے ہیں جبکہ 5G کے دور میں آئندہ تین برسوں کے دوران 60 فیصد ٹیلی کام ٹاورز کو فائبرائز کرنے کا انقلابی ہدف مقرر کیا گیا ہے۔وہ منگل کو وزارتِ آئی ٹی اور یونیورسل سروس فنڈ (یو ایس ایف) پاکستان کے زیر اہتمام ایشیا پیسیفک ٹیلی کمیونٹی (اے پی ٹی)کے اشتراک سے منعقدہ تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس “اے پی ٹی سمپوزیم برائے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اینڈ یو ایس ایف” کے باضابطہ افتتاح کے موقع پر خطاب کررہی تھیں۔

ایشیا پیسیفک ٹیلی کمیونٹی کے سیکرٹری جنرل مسانوری کونڈو، چیئرمین پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی (پی ٹی اے)، ایم ڈی نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (این ٹی سی)، ایڈیشنل سیکرٹری ممبر ٹیلی کام توفیق بریرو سمیت عالمی مندوبین، پالیسی ساز اور صنعتی رہنما شریک تھے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹوکیو اعلامیے کی روشنی میں یہ سمپوزیم علاقائی ڈیجیٹل تبدیلی کو محض بیانیے سے نکال کر ٹھوس، قابلِ عمل اور جامع حکمت عملی میں بدلنے کا بہترین پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کوئی بھی ڈیجیٹل تبدیلی اس وقت تک ادھوری ہے جب تک وہ آخری فرد تک کنیکٹیوٹی کی شکل میں نہ پہنچے کیونکہ جدید دور میں ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی ہی دراصل معاشی استحکام، صحت و تعلیم تک رسائی اور قومی سلامتی کا ضامن بنیادی ڈھانچہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے خواتین کو مرکزی معاشی دھارے میں لانے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے اور جی ایس ایم اے کے مطابق پاکستان دنیا میں سب سے تیزی سے صنفی ڈیجیٹل خلیج کو کم کرنے والا ملک بن کر ابھرا ہے۔

ایشیا پیسیفک کے تناظر میں انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین (آئی ٹی یو)کے مطابق جہاں دنیا میں 2.2 ارب لوگ آف لائن ہیں وہیں ایشیا پیسیفک میں 48 فیصد آبادی کا آف لائن ہونا عالمی اوسط سے کہیں زیادہ ہے جسے ترجیحی بنیاد پر حل کرنا ہوگا۔شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی براہِ راست نگرانی میں “ڈیجیٹل نیشن پاکستان”وڑن پر تیزی سے عمل درآمد جاری ہے جس کے تحت ٹیکنالوجی کے ذریعے 1 کروڑ سے زائد شہریوں تک ایندھن سبسڈی کی بلاتعطل فراہمی ممکن بنائی گئی۔انفراسٹرکچر کی توسیع پر روشنی ڈالتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی برسوں میں 3 نئی سب میرین کیبلز کا اضافہ کیا گیا، یو ایس ایف کے تعاون سے 17 ہزار کلومیٹر سے زائد آپٹک فائبر بچھائی گئی اور ہاؤس پاسز 30 لاکھ سے بڑھا کر 50 لاکھ سے تجاوز کر چکے ہیں، اس کے علاوہ ضلعی سطح پر سی واس (CVAS) لائسنسز کے ذریعے مقامی کاروباری افراد کو بااختیار بنایا جا رہا ہے تاکہ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں آخری میل تک انٹرنیٹ رسائی ممکن ہو سکے۔

انہوں نے بتایا کہ 480 میگا ہرٹز سپیکٹرم کی تاریخی نیلامی اور ملک میں 5G ٹیکنالوجی کے اجرا کے بعد ٹاور فائبرائزیشن کی اہمیت دوچند ہو گئی ہے جسے موجودہ 19 فیصد سے بڑھا کر تین سال میں کم از کم 60 فیصد تک لے جایا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ایل ای او سیٹلائٹ ریگولیشنز اور ایف ایس ایس فریم ورک بھی حتمی مراحل میں ہے جس سے نان ٹیرسٹریل نیٹ ورکس کے ذریعے ملک بھر کے دشوار گزار علاقوں میں رابطے کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔

.

.