پی ٹی آئی کی کال پر چترال شہراور اپر چترال کی ضلعی ہیڈ کوارٹرز بونی میں تاجر برادری کی طرف سے ملا جلا رجحان، بازار کی مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی اپیل مسترد کردی گئی، دکانیں اور کاروباری مراکز کھلے رہے، ٹریفک بھی رواں دواں
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) پی ٹی آئی کی کال پر چترال شہراور اپر چترال کی ضلعی ہیڈ کوارٹرز بونی میں تاجر برادری کی طرف سے ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا جبکہ بازار کی مکمل شٹر ڈاؤن کی اپیل مسترد ہوگئی۔ دونوں مقامات پر مقامی تجاریونین نے متفقہ طور پر اس کال سے لاتعلق رہنے اور دکانوں کو بند یا کھلا رکھنے کا اختیار دکانداروں کو دے دیا تھاکہ وہ اپنی مرضٰ سے چاہے دکان کھلا رکھیں یا بند۔ بائی پاس روڈ پر واقع ایک دکان کے مالک نے میڈیا کو بتایاکہ اتوار کے روز عموماً بازار میں کئی دکانیں بند رہتی ہیں جبکہ ماضی قریب میں تجار یونین کے صدر کی طرف سے دکانوں کو اتوار کرنے کی کوششیں بھی ناکام ہوئی ہیں۔
اس طرح اپر چترال کے بونی بازار میں بھی دکاندا ر دوحصوں میں تقسیم ہوئے اور کئی دکانیں بند ہوگئے لیکن بعض دکانیں اور کاروباری مراکز کھلے رہے۔ ڈرائیور ایسوسی ایشن نے بھی اتوار کے روز حسب معمول ٹرانسپورٹ کو چالو رکھنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے نتیجے میں اتالیق بازار اور کڑوپ رشت بازار میں واقع اڈوں سے گاڑیاں ضلع سے باہر اور ضلع کے اندرونی مقامات کی طرف جاتے ہوئے اور آتے ہوئے دیکھے گئے۔
پی ٹی آئی نے اس دن کی مناسبت سے جلوس نکالا جس کی قیادت مہتر چترال اور چترال سے صوبائی اسمبلی کے رکن فاتح الملک علی ناصر نے کی۔ بعد ازاں جلسہ منعقد کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا جبکہ مقررین نے کہاکہ اس دن کراچی سے چترال تک عوام کی مینڈیٹ پر شب خون مارا گیا اور فارم 47کی بنیاد پر قائم حکومت کی گئی۔
دریں اثنا متعدد دکانداروں نے شکایت کی کہ پی ٹی آئی جلوس میں شامل کارکنان نے زبردستی ہماری دکانیں بند کی جبکہ دکانیں بند نہ کرنے کی صورت میں توڑ پھوڑ کا خطرہ تھا، سوشل میڈیا میں بھی زیر گردش ویڈیو فوٹیجز کے مطابق پی ٹی آئی جلوس کے شرکا ہر دکان کے سامنے جاکر دکان زبردستی بند کراتے نظرآرہے ہیں۔ جس کو مختلف مکاتب فکر نے مذمت کی ہے۔ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جلوس کے شرکا نے تجاریونین کے صدر نورآحمد چارویلو کے دکان کے سامنے مظاہرہ کرکے دکان بند کروانے پر انھیں مجبور کردیا ہے، تجار یونین کے کابینہ کے اراکین نے الزام لگا یا ہے کہ احتجاجی مظاہرین نے صدر کے خلاف مبینہ طور پر نازیبا الفاظ کا استعمال بھی کیا ہے ، اور انھیں زود وکوب کرنے کی کوشش ہے ، بعداز اں تجار یونین کے نمائندوں نے مظاہرین کے خلاف کاروائی کیلئے سٹی تھانے بھی پہنچ گئے تھے۔تاہم پی ٹی آئی قیادت کی طرف سے معافی مانگنے پر درخواست واپس لے لی گئی۔


