The Voice of Chitral since 2004
Tuesday, 11 August 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

مشنِ نور – ثناءاللہ مجیدی

Chitral Times

مشنِ نور – ثناءاللہ مجیدی

مشنِ نور – ثناءاللہ مجیدی

مشنِ نور – ثناءاللہ مجیدی

قوموں کی اجتماعی زندگی میں جب بحران سر اٹھاتے ہیں تو عموماً بعض عناصر اپنے مفادات کے تحفظ اور سیاسی اہداف کے حصول کے لیے مذہب کے پاکیزہ عنوانات اور دینی شعائر کو آلۂ کار بنانے کی جسارت کرتے ہیں۔ تاریخ کے اوراق اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ جب بھی دین کو مغرب کی مروجہ تاریک سیاست کے مذموم اہداف کی تکمیل کے لیے ہتھیار بنایاگیا ، اس کے اثرات امت کے اتحاد و یگانگت کے لیے مہلک اور ضرر رساں ثابت ہوئے۔

موجودہ سیاسی منظرنامہ بھی اسی تلخ روایت کی عکاسی کرتا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایک ایسی تحریک منظرِ عام پر آئی ہے جس نے دینی شعارِ مقدس “اذان” کو اپنی مہم کا مرکز بنا کر عوامی جذبات کو استعمال کرنے کی سعی کی گئ ۔ 20 ستمبر کو عمران خان کی جماعت نے “مشنِ نور” کے عنوان سے ایک مہم کا آغاز کیا، جس کا دعویٰ یہ ہے کہ ہر شہری شب کے اوقات میں اپنی چھتوں اور دیواروں پر چڑھ کر اذان دے۔ بظاہر یہ عمل مذہبی جوش و جذبے کی علامت دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے پسِ پردہ جو حقائق اور محرکات کارفرما ہیں وہ نہ صرف سنگین ہیں بلکہ ملت کے اتحاد کے لیے تشویشناک پہلو بھی رکھتے ہیں۔

ایسے اقدامات دراصل اس المیے کی بازگشت ہیں جہاں مذہب کی روحانی رفعتوں کو سیاسی ہتھکنڈوں کے تابع کر کے اجتماعی شعور کو منتشر اور عوامی جذبات کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اذان، جو مسلمانوں کے لیے ایمان، وحدت اور بندگی کی صدائے بازگشت ہے، اگر اسے سیاسی نعرے میں بدل دیا جائے تو یہ عمل نہ صرف اس شعار کی عظمت کو مجروح کرتا ہے بلکہ امت کے اتحاد کو بھی پارہ پارہ کرنے کا سبب بنتا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام نے روزاول سے لے کر آج تک ایک تسلسل کے ساتھ یہ موقف پیش کیا ہے کہ بعض جماعتیں درپردہ قادیانی و یہودی لابی کی نمائندہ حیثیت رکھتی ہیں اوران کا نشانہ براہ راست پاکستان تحریک انصاف ہے ۔ یہ محض سیاسی الزام تراشی نہیں بلکہ وقتاً فوقتاً ایسے ٹھوس شواہد سامنے آئے ہیں جنہیں جھٹلانا ممکن نہیں۔

2018 میں جب “نیا پاکستان” کے نام پر حکومت قائم ہوئی تو کراچی میں وہ قادیانی عبادت گاہیں دوبارہ کھول دی گئیں جو برسوں سے بند پڑی تھیں۔ یہ اقدام بظاہر ایک انتظامی فیصلہ دکھائی دیتا ہے، مگر درحقیقت یہ اس ایجنڈے کا پہلا مرحلہ تھا جس کے تحت قادیانی فکر کو معاشرتی سطح پر ازسرِنو زندہ کرنے کی کوشش کی گئی۔

انتخابی مہم کے دوران خفیہ طور پر قادیانیوں سے ووٹ مانگنا اور آئینِ پاکستان میں ترمیم کے وعدے کرنا بھی اسی منصوبے کی کڑی تھی۔ ایک ایسی ترمیم جسے پاکستان کی نظریاتی اساس اور عقیدۂ ختمِ نبوت کے خلاف کھلا چیلنج قرار دیا جا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اقتدار کی ہوس میں کوئی جماعت کس طرح ایسے نازک عقیدے کو سودے بازی کا ذریعہ بنا سکتی ہے؟

آسیہ ملعونہ کا واقعہ بھی تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ سیاہ داغ بن کر موجود رہے گا۔ محض مغربی قوتوں کو خوش کرنے کے لیے اسے رہائی دلوانا اور بعد ازاں امریکہ جا کر اس کارنامے کا کریڈٹ لینا اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ یہ جماعت بیرونی دباؤ کے سامنے کس قدر بے بس اور بے اصول ہے۔

لیکن سب سے نمایاں اور ناقابلِ تردید حقیقت وہ لمحہ تھا جب قادیانی ماہرِ معیشت عاطف میاں کو اقتصادی مشیر کے طور پر نامزد کیا گیا۔ یہ فیصلہ محض ایک تقرری نہ تھی بلکہ ایک واضح پیغام تھا کہ قادیانی ایجنڈے کو ریاستی ڈھانچے میں سرایت دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ حالانکہ عوام اور دینی طبقات پہلے ہی اس معاملے پر بارہا اپنا دوٹوک موقف دے چکے ہیں۔

یہ تمام شواہد اس حقیقت کو آشکار کرتے ہیں کہ مذکورہ جماعت محض سیاسی کھیل نہیں کھیل رہی بلکہ ایک بڑے عالمی ایجنڈے کی تکمیل میں مصروف ہے۔ ملتِ اسلامیہ کے لیے لمحۂ فکریہ یہ ہے کہ وہ ایسے چہروں کو پہچانے جو دین کے نام پر اقتدار حاصل کر کے دراصل باطل قوتوں کی آبیاری کرتے ہیں۔

اب جہاں تک “مشنِ نور” کا تعلق ہے، تو یہ دراصل حکیم نورالدین کی طرف منسوب ہے جو مرزا غلام احمد قادیانی کا نہایت قریبی رفیق اور دستِ راست تھا۔ یہی نہیں بلکہ 20 ستمبر 1948 کو قادیانی مرکز “ربوہ” کے قیام کی تاریخ بھی اسی نسبت سے جُڑی ہوئی ہے۔ یہ ہرگز محض اتفاق نہیں، بلکہ ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی ہے کہ اسی دن کو “مشنِ نور” کے نام سے پیش کیا جائے تاکہ قادیانیت کی فکری جڑوں کو نئی شناخت اور ایک مصنوعی تقدس عطا کیا جا سکے۔

یہ افسوس ناک حقیقت ہے کہ عوام کو مذہبی جذبات کے نام پر الجھا کر دراصل ایک ایسے ایجنڈے کی تکمیل کی جا رہی ہے جو براہِ راست قادیانیت کے مفاد میں ہے۔ اذان جیسا مقدس اور عظیم شعار، جو توحید کی پکار اور ایمان کی بنیاد ہے، اسے سیاسی مقاصد اور باطل تحریک کے پرچم تلے استعمال کرنا ایک کھلا کھلواڑ اور سنگین خیانت ہے، جسے کسی طور بھی قبول نہیں کیا جا سکتا۔

ملتِ اسلامیہ کو ہوشیار رہنا ہوگا کہ “مشنِ نور” کا اصل چہرہ روشنی کا نہیں بلکہ اندھیروں کا مرقع ہے۔ یہ محض ایک فریب ہے جس کے پردے میں قادیانی افکار کو فروغ دینے اور امتِ مسلمہ کو فکری گمراہی کی دلدل میں دھکیلنے کی سازش پنہاں ہے۔ لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اس ناپاک منصوبے کو بے نقاب کریں اور دین و ایمان کے حقیقی شعائر کی پاسبانی کریں۔

یوں “مشنِ نور” کے نام پر رچایا جانے والا یہ ڈرامہ دراصل ایک فکری فریب اور قادیانیت کی پوشیدہ ترویج ہے، جس کا مقصد مسلمانوں کو ان کے اصل شعائر اور ایمانی اقدار سے دور کرنا ہے۔ اذان جیسا مقدس شعار، جو توحید اور رسالت کی ابدی صدائے حق ہے، اسے سیاسی مفاد اور باطل عزائم کے لیے استعمال کرنا امتِ مسلمہ کے عقائد کے ساتھ کھلا کھیل ہے۔

لہٰذا ملتِ اسلامیہ پر لازم ہے کہ وہ اس حقیقت کو پہچانے، اس تحریک کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کرے اور اپنی نئی نسل کو اس گمراہی سے بچائے۔ یہی وقت کا تقاضا، ایمان کی حفاظت اور ملت کی بقا کی ضمانت ہے۔

اے اللہ! ہمیں باطل کے مکر و فریب سے بچا، اپنے دین پر استقامت عطا فرما اور امت مسلمہ کو اتحاد و اخلاص کی دولت سے مالا مال کر۔ پروردگار! اذان کو ہمیشہ حق کی پہچان اور ایمان کی پکار بنا رہنے دے، اور ہمیں اپنے دین کے شعائر کی پاسبانی کا شرف عطا فرما۔آمین یا رب العالمین۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: ادارے کا مراسلہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں !