عمران خان کی رہائی کے لیے پشاور سے ممبرشپ مہم کا باقاعدہ آغاز، مہم کو پورے ملک میں وسعت دی جائے گی۔ خیبرپختونخوا میں 172 کیمپس قائم کیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ
۔
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ عمران خان کی رہائی کے لیے شروع کی گئی تحریک کی ممبرشپ مہم کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے اور اسے پورے ملک میں وسعت دی جائے گی۔ خیبرپختونخوا میں 172 کیمپس قائم کیے جائیں گے جہاں منظم انداز میں رکن سازی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید اعلان کیا کہ 10 اپریل کو پشاور کے نشتر ہال میں ملک بھر سے وکلائکا جرگہ بلایا جائے گا جس کے بعد کسانوں، مزدوروں اور دیگر طبقات کے نمائندہ جرگے بھی منعقد کیے جائیں گے تاکہ تحریک کو عوامی سطح پر مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے عمران خان رہائی امن تحریک کی ممبرشپ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کو ناحق قید میں رکھا گیا ہے اور ایک سال سے ان کے مقدمات تک نہیں لگائے جا رہے جو انصاف کے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان نے عمران خان کو ووٹ دیا مگر عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال کر انہیں جعلی مقدمات میں جیل بھیج دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات کے لیے تمام آئینی، قانونی اور جمہوری راستے اختیار کیے گئے۔ وفاقی حکومت، سپیکر قومی اسمبلی اور اعلیٰ عدالتوں کو خطوط لکھے گئے مگر اس کے باوجود ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ بطور فرد نہیں بلکہ ساڑھے چار کروڑ عوام کے نمائندے کے طور پر اڈیالہ جیل گئے مگر دروازے بند کر دیے گئے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب ظلم، جبر اور فسطائیت مسلط کی جائے، کارکنوں کو اٹھایا جائے، راستے بند کیے جائیں اور منتخب نمائندوں کو دیوار سے لگایا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر پرامن جدوجہد کے علاوہ کون سا راستہ باقی رہ جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان ہر شہری کو پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور ہم اپنے حقوق کے لیے ہر آئینی اور پرامن راستہ اختیار کریں گے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ کا پاسپورٹ بلاک کر دیا جاتا ہے جبکہ دوسرے صوبے کی وزیر اعلیٰ کے لیے 11 ارب روپے کا جہاز خریدا جاتا ہے، جو واضح دہرا معیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے لیے سڑکیں بند کی جاتی ہیں اور کارکنوں کو اٹھایا جاتا ہے، ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے پاس کون سا راستہ بچتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ایک طرف ڈاکووں کو پروٹوکول دیا جائے اور لندن کے لیے پورے پورے جہاز روانہ ہوں جبکہ دوسری طرف دوسرے صوبے کے وزیر اعلیٰ کے لیے اڈیالہ جیل کے دروازے بند کر دیے جائیں تو پھر ہمارے پاس کون سا راستہ رہ جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب امت مسلمہ کے لیڈر کو جیل میں ڈالا جائے اور ایک جعلی وزیراعظم کو مسلط کیا جائے تو ایسے حالات میں پرامن جدوجہد کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں دوہرا معیار قائم کر دیا گیا ہے جہاں کرپٹ عناصر کو پروٹوکول اور سہولیات دی جاتی ہیں جبکہ منتخب قیادت کے لیے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ماوں اور بہنوں کی عزت بھی محفوظ نہیں رہی اور چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان نے قوم کو واضح وژن دیا، شعور بیدار کیا اور حق اور باطل میں فرق سمجھایا۔
انہوں نے کہا کہ حقیقی لیڈر وہ ہوتا ہے جو سچ اور حق کے ساتھ کھڑا ہو اور قوم کی رہنمائی کرے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اور تمام قیادت یہ حلف اٹھائیں گے کہ عمران خان کے ساتھ کھڑے رہیں گے، نہ غداری کریں گے اور نہ پیچھے ہٹیں گے۔ انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ بھرپور تیاری کریں کیونکہ یہ صرف ایک سیاسی جدوجہد نہیں بلکہ پاکستان اور اس کے مستقبل کا معاملہ ہے۔ انہوں نے دیگر صوبوں سے آنے والے مہمانوں، وکلائ، سیاسی رہنماوئں، کارکنوں اور خواتین کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعلیٰ نے عالیہ حمزہ ملک کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ہتھکنڈوں سے تحریک کو دبایا نہیں جا سکتا۔
