چترال کے پگھلتے گلیشیئرز: ایک خاموش قومی بحران – تحریر: قریش خٹک
وادیٔ چترال، جو اپنی برف پوش چوٹیوں، شفاف چشموں اور بپھرے دریاؤں کی وجہ سے جانی جاتی تھی، آج ایک خاموش مگر گہرے بحران کی زد میں ہے۔ یہ بحران شور مچاتا ہوا نہیں آرہا ہے، لیکن اس کے اثرات خاموشی سے پوری وادی کا نقشہ بدل رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) نے چترال کے فطری توازن کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے کہ آنے والے برسوں میں یہ خطہ پانی کی بہتات سے پانی کی قلت کی طرف جاسکتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ محض ایک مقامی مسئلہ نہیں، بلکہ پورے پاکستان کی آبی و غذائی سلامتی کا معاملہ ہے۔
پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جن کا وجود گلیشیئرز کے مرہونِ منت ہے۔ ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ کے بلند و بالا پہاڑی سلسلے ہمارے لیے پانی کے قدرتی بینک ہیں۔ ان پہاڑوں میں منجمد برفانی ذخائر جب بتدریج پگھلتے ہیں تو دریاؤں میں زندگی دوڑتی ہے، جس سے ہماری زراعت، صنعت اور توانائی کا پہیہ چلتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دریائے سندھ کے مجموعی بہاؤ کا بڑا حصہ انہی گلیشیئرز سے نکلنے والے پانی کی وجہ سے ہے؛ لہٰذا ان سفید پہاڑوں میں ہونے والی معمولی سی تبدیلی بھی پاکستان کے مستقبل کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 1990ء کی دہائی کے بعد سے اب تک چترال کے گلیشیئرز کے رقبے میں تقریباً ایک تہائی کمی واقع ہو چکی ہے۔ گزشتہ تیس برسوں میں آٹھ سو مربع کلومیٹر سے زائد برفانی رقبہ پگھل کر ختم ہو چکا ہے اور یہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ اس تبدیلی کا سب سے بڑا محرک بڑھتا ہوا درجہ حرارت ہے۔ چترال کے پہاڑی علاقوں میں گرمی کی شدت میں اضافے نے برف پگھلنے کی رفتار کو تیزی دی ہے، جبکہ سردیوں میں برف باری کے تناسب میں واضح کمی آئی ہے۔ یہ غیر متوازن صورتحال ایک خطرناک چکر کو جنم دے رہی ہے: برف بننے کا عمل سست اور پگھلنے کا عمل تیز تر ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں گلیشیئرز کا حجم مسلسل سکڑ رہا ہے۔
اس ماحولیاتی بگاڑ کے اثرات مستوج، یارخون، لاسپور اور گرم چشمہ جیسے علاقوں میں ‘گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOF) کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ جب یہ نئی بننے والی جھیلیں اچانک ٹوٹتی ہیں تو بپھرا ہوا ریلا سڑکیں، پل، کھیت اور بستیاں بہا لے جاتا ہے۔ یہ صورتحال ایک عجیب تضاد کو جنم دے رہی ہے؛ ایک طرف گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے سے سیلاب کا خطرہ بڑھ رہا ہے، تو دوسری جانب مستقل خشک سالی کا سایہ گہرا ہو رہا ہے۔ چترال اس وقت انہی دو متضاد انتہاؤں کے درمیان کھڑا ہے۔
قومی سطح پر دیکھیں تو یہ بحران پنجاب اور سندھ کے زرعی میدانوں تک پھیلا ہوا ہے۔ پاکستان کی 90 فیصد زراعت دریائے سندھ سے وابستہ ہے، اور اگر شمال کے یہ برف اور پانی کے ذخائر خالی ہو گئے تو ملک میں خوراک کی کمی اور معاشی عدم استحکام پیدا ہونا یقینی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ہمارے پن بجلی (Hydel) منصوبے بھی براہِ راست دریاؤں کے بہاؤ سے جڑے ہیں،جن سے سستی بجلی پیدا ہوتی ہے یوں یہ مسئلہ توانائی کے بحران کو مزید سنگین بنا دے گا۔
خوش قسمتی سے، اس بحران کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے کچھ اہم اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) اور حکومتِ پاکستان کے اشتراک سے جاری GLOF-II جیسے منصوبے چترال کی مختلف وادیوں میں حفاظتی بند اور سیلابی راستوں کی تعمیر کر رہے ہیں تاکہ جانی و مالی نقصان کو کم کیا جا سکے ہ۔ مقامی سطح پر ‘پیشگی خبرداری کا نظام’ (Early Warning System) کا قیام ایک بڑی پیش رفت ہے۔ اب گلیشیئرز کے قریب جدید سینسرز نصب کیے جا رہے ہیں جو پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافے کی صورت میں نیچے موجود بستیوں کو بروقت خبردار کر دیتے ہیں۔
ماحولیاتی بقا کے لیے ‘نیچر بیسڈ سلوشنز’ پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ پہاڑی ڈھلوانوں پر شجرکاری کے ذریعے زمین کے کٹاؤ کو روکنے کی کوششیں جاری ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چترال میں ‘گلیشیئر گرافٹنگ’ (Glacier Grafting) جیسی قدیم مقامی روایت کو بھی جدید سائنسی بنیادوں پر زندہ کیا جا رہا ہے، جس میں مصنوعی طریقے سے برف جمع کر کے نئے گلیشیئرز ‘پالے’ جاتے ہیں تاکہ خشک موسم میں پانی کی فراہمی ممکن رہے۔
یہ تمام کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگرچہ خطرہ بڑا ہے، لیکن ہم بے بس اور بے خبرنہیں ہیں۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو آنے والے دہائیوں میں گلیشیئرز مزید سکڑ جائیں گے۔ یہ ایک ایسا سلسلہ ہے جو نہ صرف چترال بلکہ پورے پاکستان کو متاثر کر سکتا ہے۔چترال کی وادیاں آج بھی حسین ہیں اور پہاڑ اب بھی سر اٹھائے کھڑے ہیں، مگر اس ظاہری حسن کے پیچھے ایک خاموش تبدیلی جاری ہے۔ برف کی تہیں باریک ہو رہی ہیں اور موسموں کا مزاج برہم ہے۔ چترال کے پہاڑوں میں پگھلتی برف دراصل پاکستان کے مستقبل کی کہانی ہے۔اگر ہم نے آج ان پگھلتے گلیشیئرز کی پکار نہ سنی اور حفاظتی اقدامات کو جنگی بنیادوں پر استوار نہ کیا، تو یہ خاموش ماحولیاتی بحران کل ایک ایسے ہولناک قومی المیہ کی صورت اختیار کر جائے گا جس کے آگے ہم سب بے بس ہوں گے اور تلافی کی ہر مہلت ہاتھ سے نکل چکی ہو گی۔
