اپر چترال میں کرایہ ناموں پر نظرِ ثانی سے متعلق اجلاس، مشاورت سے کرایہ ناموں پر نظرِ ثانی کا فیصلہ
اپرچترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) اپر چترال میں پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایہ ناموں پر نظرِ ثانی کے حوالے سے ایک اہم اجلاس اسسٹنٹ کمشنر مستوج عدنان حیدر ملوکی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں تحصیلدار مستوج، تحصیلدار موڑکہو/تورکہو، پلاننگ آفیسر اپر چترال، ٹریفک پولیس کے اہلکاران اور ٹرانسپورٹ یونین کے صدر و دیگر ممبران نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
اجلاس کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ اور سابقہ کرایہ ناموں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے اس امر پر تفصیلی غور و خوض کیا کہ موجودہ حالات میں کرایوں میں اضافہ یا کمی کس حد تک ضروری ہے تاکہ عوام اور ٹرانسپورٹرز دونوں کے مفادات کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔
میٹنگ میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ضلعی انتظامیہ اپر چترال اور ٹرانسپورٹ یونین باہمی مشاورت سے ایک جامع ورک پلان تیار کریں گے، جس کے تحت تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر کرایہ ناموں پر نظرِ ثانی کی جائے گی۔ طے پایا کہ باقاعدہ ہوم ورک اور مشاورت کے بعد آئندہ پیر تک کرایہ ناموں کے حوالے سے حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے ٹرانسپورٹرز کو خصوصی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ موسمِ سرما کے دوران بونی سے پشاور، اسلام آباد اور دیگر شہروں کی جانب سفر کا آغاز اس انداز میں کیا جائے کہ مسافر اپنی منزل پر دن کے اوقات میں پہنچیں اور رات کے اوقات میں سفر یا اندھیرے میں پہنچنے سے حتی الامکان گریز کیا جائے، تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی مشکلات یا خطرات کا سامنا نہ ہو۔
انہوں نے مزید ہدایت کی کہ پشاور یا اسلام آباد پہنچنے کے بعد اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مسافروں کے لیے سرکاری نرخ ناموں کے مطابق مناسب ہوٹلوں میں قیام کا انتظام ہو، تاکہ انہیں اضافی مالی بوجھ یا رہائشی مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس کے علاوہ دورانِ سفر مسافروں کو ان کی سہولت اور مرضی کے مطابق صاف ستھرے اور مناسب قیمت والے ہوٹلوں پر کھانے کے لیے روکا جائے۔
اجلاس کے دوران اپر چترال میں رکشہ ڈرائیوروں کی جانب سے من مانی کرایہ وصول کرنے سے متعلق موصول ہونے والی شکایات پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ میٹنگ میں رکشہ سروس کے لیے بھی باقاعدہ کرایہ نامہ مقرر کیا جائے گا، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ رکشہ ڈرائیوروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لاتے ہوئے رکشہ سروس معطل یا ختم کی جائے گی۔
اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ عوامی سہولت، شفافیت اور انصاف کو مدنظر رکھتے ہوئے کرایہ ناموں سے متعلق فیصلے کیے جائیں گے اور ان پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔

