بونی بزند روڈ پر تعمیراتی کام میں تاخیر کے خلاف ورکوپ میں کارنر میٹنگ، 20 اپریل تک کا ڈیڈ لائن مقرر
.
اپر چترال( نمائندہ چترال ٹائمز ) بونی بزند روڈ پر کام میں مسلسل تاخیر کے خلاف ورکوپ، تورکھو میں ایک کارنر میٹنگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں اہلِ علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
میٹنگ سابق یو سی ناظم کیپٹن (ر) اکبر شاہ کی رہائش گاہ پر ان کی زیرِ صدارت منعقد ہوئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ٹی ٹی آر ایف کے رہنماؤں، عمائدینِ علاقہ اور مشران نے کہا کہ گزشتہ سال دسمبر میں روڈ پر کام بند کرتے وقت محکمہ سی اینڈ ڈبلیو نے وعدہ کیا تھا کہ آئندہ سال مارچ میں کام دوبارہ شروع کیا جائے گا، اور یہی یقین دہانی پشاور ہائی کورٹ میں بھی کرائی گئی تھی، تاہم مارچ گزرنے کے باوجود کام شروع نہ ہو سکا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 26 مارچ کو پشاور ہائی کورٹ میں کیس کی دوبارہ سماعت کے دوران سی اینڈ ڈبلیو کے چیف انجینیئر اور ایکسین اپر چترال نے عدالت میں پیش ہو کر یقین دہانی کرائی کہ اپریل کے پہلے ہفتے میں کام شروع کر دیا جائے گا، مگر اپریل کا دوسرا ہفتہ بھی گزرنے کے باوجود تاحال کام شروع نہیں کیا گیا۔
عمائدینِ علاقہ نے خبردار کیا کہ اگر 20 اپریل تک کام شروع نہ کیا گیا تو تورکھو اور تریچ یونین کونسلز کے عوام سڑکوں پر نکلیں گے اور سی اینڈ ڈبلیو کے دفتر تک مارچ کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقررہ مدت میں کام شروع نہ ہونے کی صورت میں تمام تر ذمہ داری ایکسین سی اینڈ ڈبلیو، متعلقہ محکمے اور ٹھیکیدار پر عائد ہوگی۔
اجلاس کے شرکاء نے ضلعی انتظامیہ اپر چترال، خصوصاً ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او سے مطالبہ کیا کہ سی اینڈ ڈبلیو کے مبینہ طور پر کرپٹ ایکسین کے خلاف کارروائی کی جائے، جس پر الزام ہے کہ وہ عوام اور انتظامیہ کے درمیان بداعتمادی پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے فوری تبادلے اور بونی بزند روڈ، ڈیزاسٹر اور دیگر مدات کے فنڈز میں مبینہ خردبرد کی شفاف تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔
اجلاس میں ایک متفقہ قرارداد منظور کی گئی، جس میں واضح کیا گیا کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں عوام احتجاج پر مجبور ہوں گے۔
ٹی ٹی آر ایف نے پشاور ہائی کورٹ اور چیف جسٹس سے بھی اپیل کی کہ سی اینڈ ڈبلیو اور اس کے متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی کی جائے اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر توہینِ عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ مزید برآں، چیف جسٹس سے درخواست کی گئی کہ منصوبے کی نگرانی عدلیہ کے ذریعے کرائی جائے اور بونی میں تعینات سینئر سول جج کو اس کی مانیٹرنگ کا حکم دیا جائے۔
دریں اثنا، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کو ایک درخواست بھی ارسال کی گئی ہے، جس میں اہالیانِ تورکھو تریچ یونین کونسل نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بونی تا تورکھو روڈ منصوبہ 2009 میں 26 کروڑ روپے کی لاگت سے شروع کیا گیا تھا، جس کی لمبائی 28 کلومیٹر ہے، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اس کی لاگت بڑھ کر تقریباً ایک ارب 70 کروڑ روپے تک پہنچ گئی، مگر اس کے باوجود خاطر خواہ کام مکمل نہیں ہو سکا۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالت میں متعدد بار یقین دہانیاں کرانے کے باوجود کام شروع نہیں کیا گیا، جو عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ عوام نے الزام عائد کیا ہے کہ منصوبے میں کرپشن، غفلت اور بدانتظامی کی گئی ہے، اور مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور عوام کو اس بنیادی سہولت کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

