مستوج۔بروغل روڈ کی تعمیر کے مطالبے پر ہزاروں افراد کا بونی کی جانب لانگ مارچ جاری، ضلعی انتظامیہ سے مذاکرات ناکام، شرکا بریپ پہنچ گئے
۔
اپر چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) مستوج۔بروغل روڈ تحریک کے زیر اہتمام مستوج سے بروغل تک 154 کلومیٹر طویل سڑک کی تعمیر کے مطالبے پر احتجاجی لانگ مارچ دوسرے روز بھی جاری رہا۔ تحریک کے صدر محمد وزیر خان کی قیادت میں یارخون ویلی کے 114 دیہات سے تعلق رکھنے والے ہزاروں مرد، خواتین، بزرگ، نوجوان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد پ گاڑیوں اور یدل مارچ کرتے ہوئے اپر چترال کے ضلعی ہیڈکوارٹر بونی کی جانب روانہ ہیں۔اخری اطلاع تک مارچ کے شرکا بریپ میں پہنچ گئے ہیں۔
مارچ کے شرکاء نے مختلف مقامات پر احتجاجی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مستوج۔بروغل روڈ صرف یارخون اور بروغل کے عوام کی ضرورت نہیں بلکہ قومی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے، جو پاکستان کو وسطی ایشیائی ریاستوں سے ملانے کا مختصر ترین زمینی راستہ بن سکتا ہے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ اس شاہراہ کی تعمیر سے نہ صرف سیاحت، تجارت، معدنیات، زراعت اور مقامی معیشت کو فروغ ملے گا بلکہ سرحدی علاقوں کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی سلامتی بھی مزید مستحکم ہوگی۔
مقررین نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود یارخون ویلی کی تقریباً پچاس ہزار آبادی آج بھی پختہ سڑک جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہے۔ سڑک نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو صحت، تعلیم، تجارت اور روزمرہ آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ مریضوں، طلبہ اور مسافروں کو ہر موسم میں خطرناک اور دشوار گزار راستوں پر سفر کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے وفاقی اور خیبرپختونخوا حکومت سے مطالبہ کیا کہ مستوج۔بروغل روڈ منصوبے کے لیے فوری طور پر فنڈز جاری کرکے تعمیراتی کام کا آغاز کیا جائے اور اسے قومی اہمیت کے منصوبے کے طور پر ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔
دریں اثناء، لانگ مارچ کے شرکاء سے مذاکرات کے لیے ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد عمران خان، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر، اسسٹنٹ کمشنر مستوج افضل علی نے تحریک کے قائدین سے تفصیلی ملاقات کی۔ مذاکرات کے دوران ضلعی انتظامیہ نے مظاہرین کے مطالبات اعلیٰ حکام تک پہنچانے اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی، تاہم تحریک کے رہنماؤں نے واضح کیا کہ محض یقین دہانیوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔اسی طرح مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے ختم ہوگئے ، اور لانگ مارچ جاری ہے۔
تحریک کے صدر محمد وزیر خان نے اعلان کیا کہ جب تک مستوج۔بروغل روڈ پر عملی تعمیراتی کام شروع نہیں کیا جاتا، لانگ مارچ اور احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ یارخون ویلی کے عوام اب مزید وعدوں کے بجائے عملی اقدامات چاہتے ہیں اور اپنے آئینی و بنیادی حق کے حصول تک پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔
