مستوج ۔ بروغل روڈ کی تعمیر کے مطالبے پر عوام کا لانگ مارچ شروع، دربند میں تاریخی جلسہ ہوگا
,
اپر چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) یارخون اور بروغل ویلی کے عوام نے مستوج۔بروغل روڈ کی فوری تعمیر کے مطالبے کے حق میں بونی کی جانب لانگ مارچ کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ کل پیر کے دن تاریخی مقام دربند میں ایک بڑے عوامی جلسے کا انعقاد کیا جائے گا، جس میں بروغل سے شولکوج تک مختلف علاقوں کے عوام کی بڑی تعداد میں شرکت متوقع ہے۔
تحریک کے منتظمین کے مطابق جلسے میں خواتین، بزرگ، نوجوان، طلبہ، اساتذہ، تاجر، کسان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شرکت کرکے مستوج۔بروغل روڈ کی تعمیر کے حق میں مشترکہ آواز بلند کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اجتماع کسی سیاسی جماعت یا گروہ کی نمائندگی نہیں بلکہ پورے علاقے کے عوام کے بنیادی اور دیرینہ مطالبے کی ترجمانی کرے گا۔
تحریک کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یارخون اور بروغل کے عوام ہمیشہ امن پسند، محب وطن اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کرنے والے رہے ہیں، تاہم اس کے باوجود یہ وسیع وادی آج بھی بنیادی انفراسٹرکچر، خصوصاً معیاری شاہراہ سے محروم ہے۔ ان کے مطابق مستوج۔بروغل روڈ صرف ایک ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ علاقے کے عوام کے لیے تعلیم، صحت، تجارت، سیاحت، روزگار اور بہتر مستقبل سے جڑا بنیادی مسئلہ ہے۔
تحریک کے شرکاء نے حکومتِ خیبرپختونخوا اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مستوج۔بروغل روڈ کے منصوبے پر فوری عملی پیش رفت کا آغاز کیا جائے تاکہ اس پسماندہ سرحدی خطے کے عوام کی دیرینہ محرومیوں کا ازالہ ممکن ہو سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس جائز عوامی مطالبے کو مزید نظرانداز کیا گیا تو احساسِ محرومی میں اضافہ ہوگا۔
دریں اثنا تحریکِ مستوج تا بروغل روڈ کے سلسلے میں گاؤں پاردن میں شہزادہ بہرام کی رہائش گاہ پر ایک اہم مشاورتی اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں پاردن اور ایمیت کے عمائدین، نوجوانوں اور مختلف مکاتبِ فکر کے افراد نے شرکت کی۔
اجلاس میں شرکاء نے متفقہ طور پر اس عزم کا اظہار کیا کہ مستوج تا بروغل روڈ پورے خطے کا آئینی، بنیادی اور اجتماعی حق ہے، جس کے حصول کے لیے وہ تحریک کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے۔ شرکاء نے اعلان کیا کہ جیسے ہی تحریک کے قائدین کی کال پر قافلہ ان کے علاقے میں پہنچے گا، پاردن اور ایمیت کے عوام بڑی تعداد میں اس میں شامل ہوں گے اور اتحاد، نظم و ضبط اور پرامن انداز میں اپنے مطالبے کے حق میں آواز بلند کریں گے۔
اجلاس کے اختتام پر مقررین نے اس امید کا اظہار کیا کہ عوامی اتحاد، استقامت اور پرامن جدوجہد کے ذریعے مستوج۔بروغل روڈ کی تعمیر کا دیرینہ مطالبہ جلد عملی شکل اختیار کرے گا۔
