ڈی ایس ایس استانی کی بھرتی میں میرٹ کی پامالی کا الزام، مروہ زیب کی پریس کانفرنس
۔
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول کوڑ بروز میں ڈی ایس ایس ٹیچر کی بھرتی کا عمل تنازع کا شکار ہو گیا۔ امیدوار مروہ زیب نے محکمہ تعلیم پر میرٹ لسٹ میں ردوبدل اور انتقامی کارروائی کا الزام عائد کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا۔
جوٹی لشٹ بروز کی رہائشی مروہ زیب کے مطابق محکمہ تعلیم کے سرکاری ٹیلنٹ پول معیار کے تحت ایف ایس سی میں 75 فیصد یا زائد نمبروں پر 16 گریڈڈ نمبر دیے جاتے ہیں۔ ان کے ایف ایس سی میں 74.6 فیصد نمبر تھے جو ریاضی کے اصولوں کے مطابق 75 فیصد بنتے ہیں، تاہم انہیں 10 نمبر دیے گئے۔
چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 21 مئی 2026 کو ڈی ای او (فیمیل) چترال کو درخواست جمع کرائی۔ اس وقت جاری میرٹ لسٹ میں وہ تیسرے نمبر پر تھیں جبکہ صرف دو آسامیاں تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جائز 16 نمبر ملنے کی صورت میں وہ دوسرے نمبر پر آ جاتیں۔
امیدوار کے مطابق محکمے نے 26 دن تک معاملہ مؤخر رکھا اور پھر نظرثانی شدہ لسٹ میں FSc کے نمبر درست کرنے کے بجائے ان کے BS کے 12 نمبر کاٹ دیے۔ مروہ زیب کا کہنا ہے کہ BS میں 77 فیصد نمبروں پر 32 نمبر بنتے تھے جو کم کر کے 20 کر دیے گئے اور انہیں تیسرے سے آٹھویں نمبر پر منتقل کر دیا گیا۔
ان کا مؤقف ہے کہ محکمے نے اچانک فیصد کی بجائے CGPA کا جواز پیش کیا جو اپنے ہی طے شدہ معیار کے خلاف ہے، کیونکہ میٹرک سے BS تک تمام تعلیمی اسناد کا حساب فیصد کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔
مروہ زیب نے نشاندہی کی کہ ان کی شکایت کے بعد ایک منتخب امیدوار کے میٹرک کے 6 اور BS کے 12 نمبر کم کیے گئے، جس سے وہ دوسرے سے نویں نمبر پر چلی گئی۔ ان کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ابتدائی لسٹ میں فالتو نمبر دیے گئے تھے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر BS کے نمبروں کا حساب ابتدا سے غلط تھا تو ADEO، ASDEO، DDEO اور DEO سمیت چاروں سطح پر جانچ کے باوجود غلطی سامنے کیوں نہ آ سکی؟ ساتھ ہی الزام لگایا کہ منتخب امیدوار کی اسناد طلب کرنے پر متعلقہ حکام معلومات فراہم کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔
مروہ زیب نے ڈپٹی کمشنر چترال اور دیگر متعلقہ حکام سے غیر جانبدارانہ تحقیقات، سرکاری فارمولے کے مطابق دوبارہ میرٹ لسٹ کی تیاری اور تمام ریکارڈ پبلک کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ آئندہ بھرتیوں میں شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔