کمشنر ملاکنڈ ڈویژن اور آرپی او کے زیر صدارت افغان مہاجرین کی واپسی کے حوالےسے اجلاس، مہاجرین کی باعزت واپسی کیلئے پندرہ دن کا ڈیڈ لائن دیدیا گیا، ٹائم لائن کے دوران انخلاء کو یقینی بنانے کی ہدایت
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) صوبائی حکومت خیبر پختونخوا کے احکامات کی روشنی میں کمشنر ملاکنڈ ڈویژن مسعود احمد نے ریجنل پولیس آفیسر ملاکنڈ سید فدا حسن شاہ کے ہمراہ افغان پناہ گزینوں کے انخلاء سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں ملاکنڈ ڈویژن کے تمام ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔
اجلاس کے دوران افغان پناہ گزینوں کے باعزت انخلاء کے عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ تمام متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور ضلعی پولیس افسران نے اپنے اپنے اضلاع میں افغان پناہ گزینوں کے انخلاء سے متعلق پیش رفت سے آگاہ کیا۔
کمشنر ملاکنڈ نے وفاقی و صوبائی حکومت کی واضح ہدایات کی روشنی میں تمام افغان پناہ گزینوں کے باعزت اور بروقت انخلاء کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ انخلاء کے دوران افغان پناہ گزینوں کو درپیش مسائل کے حل اور سہولیات کی فراہمی کا خصوصی خیال رکھا جائے۔
اس اجلاس میں محمد عمران خان ڈپٹی کمشنر اپر چترال نے آن لائن شرکت کی۔اجلاس کے دوران کمشنر ملاکنڈ ڈویژن نے افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے باقاعدہ اور جامع ایکشن پلان مرتب کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر کمشنر ملاکنڈ ڈویژن نے متعلقہ ایس ایچ اوز کو ہدایت کی کہ وہ ان افراد کے خلاف اقدامات کریں جنہوں نے اپنے مکانات یا کمرے افغان مہاجرین کو کرایہ پر دے رکھے ہیں اور ان مقامات کو خالی کروانے کے لیے فوری اقدامات یقینی بنائیں۔
مزید برآں کمشنر ملاکنڈ ڈویژن نے اپر اور لوئیر چترال میں باقیماندہ افغان باشندوں کی وطن واپسی کے لیے 15 دن کی ٹائم لائن مقرر کرتے ہوئے احکامات جاری کیے کہ مذکورہ مدت کے اندر اندر تمام افغان باشندوں کی روانگی کو یقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں ریجنل پولیس آفیسر ملاکنڈ ڈویژن فدا حسن شاہ نے بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضلع دیر لوئر اور لوئر چترال میں افغان مہاجرین کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے لہٰذا اس حوالے سے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز باہمی اشتراک سے مؤثر اقدامات کریں۔
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد عمران خان نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریلیف اینڈ ایچ آر اپر چترال اور محکمہ پولیس کو ہدایت کی کہ کمشنر ملاکنڈ ڈویژن کی ہدایات کی روشنی میں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھاتے ہوئے مقررہ ٹائم لائن کے اندر افغان باشندوں کی انخلا اور روانگی کو یقینی بنایا جائے۔

