معروف ماہرِ تعلیم اور کھوار زبان و ادب کے مایہ ناز قلمکار غلام عمر مرحوم کی یاد میں ایک پروقار ”محفلِ مذاکرہ
.
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) چترال پریس کلب اور جامعہ پشاور کے سابق چیئرمین شعبہ جغرافیہ پروفیسر اسرار الدین کے اشتراک سے معروف ماہرِ تعلیم اور کھوار زبان و ادب کے مایہ ناز قلمکار غلام عمر مرحوم کی یاد میں ایک پروقار ”محفلِ مذاکرہ” کا انعقاد کیا گیا، جس میں ادیبوں، دانشوروں اور عمائدینِ علاقہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس تعزیتی و علمی نشست کی صدارت غلام عمر مرحوم کے دیرینہ ساتھی اور ممتاز ماہرِ تعلیم مکرم شاہ نے کی جبکہ نظامت کے فرائض ماہرِ تعلیم عالمگیر بخاری نے انجام دیے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ مجلس مکرم شاہ، پروفیسر اسرار الدین، ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی، صدر پریس کلب ظہیر الدین، عبدالولی خان عابد، عنایت اللہ اسیر، حاجی عید الحسین، صالح نظام ایڈووکیٹ، محکم الدین، ضیاء الدین، محمد عرفان عرفان اور مرحوم کے صاحبزادے زکریا عمر نے غلام عمر کی علمی و سماجی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
مقررین نے ان کے نمایاں کارناموں کا احاطہ کرتے ہوئے مختلف پہلوؤں کو اجاگرکرتے ہوئے کہاکہ بحیثیت ڈسٹرکٹ انسپکٹر آف اسکولز چترال میں تعلیمی نیٹ ورک کو مضبوط کیا اورکھوار زبان کی ترویج کے لئے 1970ء اور 1980ء کی دہائیوں میں انجمن ترقی کھوار کے دوسرے صدر کے طور پر کھوار زبان کو نئی جلا بخشی اور لوک ورثے کا قومی ادارہ اور اکادمی ادبیات سمیت دوسرے اداروں کے ذریعے ادبی اور ثقافتی ورثے کو محفوظ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔صدرِ مجلس مکرم شاہ نے مرحوم کو ایک انتہائی شفیق، مخلص اور انسان دوست شخصیت قرار دیا اور ان کی انجمن ترقی کھوار کے پلیٹ فارم سے ان کی ادبی خدمات کا ذکر کیا۔ الطاف حسین خیاب نے مرحوم کی یاد میں ایک مرثیہ پیش کر کے محفل کو آبدیدہ کر دیا۔
مقررین نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غلام عمر جنوری 1984 میں محض 48 برس کی عمر میں، عین شباب کے عالم میں اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے تھے۔ ان کی ناگہانی موت سے چترال ایک عظیم ماہرِ تعلیم اور کھوار ادب کے بے لوث خادم سے محروم ہو گیا، جس کا خلا آج بھی محسوس کیا جاتا ہے۔ تقریب کا باقاعدہ اختتام افتخار الدین کی رقت آمیز دعا پر ہوا۔


