The Voice of Chitral since 2004
Tuesday, 16 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

مدینہ کا نادر کتبہ اور عمرؓ کی عظمت  – تحریر: ثناء اللہ مجیدی

Chitral Times

مدینہ کا نادر کتبہ اور عمرؓ کی عظمت  – تحریر: ثناء اللہ مجیدی

مدینہ کا نادر کتبہ اور عمرؓ کی عظمت  – تحریر: ثناء اللہ مجیدی

مدینہ کا نادر کتبہ اور عمرؓ کی عظمت  – تحریر: ثناء اللہ مجیدی

.

حالیہ دنوں عالمِ اسلام میں گردش کرنے والی خبروں میں ایک خبر نے بالخصوص اہلِ اسلام، مؤرخین اور محققین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔ سعودی عرب کے ہیریٹیج کمیشن نے اعلان کیا کہ مدینہ منورہ کے علاقے المہد میں آثارِ قدیمہ کی تحقیق کے دوران ایک نادر اور تاریخی سنگی کتبہ دریافت ہوا ہے، جس پر یہ عبارت نقش ہے:”اللہ عمر بن خطاب کا دنیا اور آخرت میں مددگار ہے۔”یہ مختصر مگر بامعنی عبارت اپنے اندر تاریخ، عقیدت، کردار اور روحانیت کے کئی جہان سموئے ہوئے ہے۔ اس دریافت کی اہمیت صرف اتنی نہیں کہ ایک قدیم کتبہ دریافت ہوا ہے، بلکہ اس کی اصل اہمیت یہ ہے کہ یہ ابتدائی اسلامی دور کی ایک ایسی عظیم شخصیت کے بارے میں گواہی دے رہا ہے جس کا نام عدل، دیانت، تقویٰ اور خوفِ خدا کا استعارہ بن چکا ہے۔
وہ شخصیت امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ہے، جن کی شہادت کی یاد یکم محرم الحرام کے موقع پر تازہ ہو جاتی ہے۔تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کے کارنامے صرف کتابوں کے صفحات تک محدود نہیں رہتے، بلکہ زمانے کی یادداشت، تہذیبوں کے شعور اور قوموں کے اجتماعی حافظے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ حضرت عمر فاروقؓ انہی نابغۂ روزگار شخصیات میں سے ایک ہیں۔ چودہ صدیاں گزر جانے کے باوجود ان کا نام عدل و انصاف کی علامت، دیانت داری کی مثال اور حکمرانی کے مثالی نمونے کے طور پر لیا جاتا ہے۔سعودی عرب میں دریافت ہونے والا یہ نادر کتبہ درحقیقت اسی تاریخی حقیقت کا ایک اور ثبوت ہے۔ آثارِ قدیمہ کے ماہرین کے مطابق یہ تحریر قدیم حجازی رسم الخط میں لکھی گئی ہے، جو عربی رسم الخط کی ابتدائی صورتوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ دریافت اس امر کی شاہد ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت اور ان کا اثر و رسوخ صرف سیاسی اور انتظامی میدان تک محدود نہیں تھا، بلکہ عوام کے دلوں میں بھی ان کے لیے غیر معمولی محبت اور احترام پایا جاتا تھا۔اگر ہم اس عبارت پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ کسی نامعلوم قلم کار نے حضرت عمرؓ کے لیے جو الفاظ منتخب کیے، وہ دراصل ان کی پوری زندگی کا خلاصہ ہیں۔ “اللہ عمر بن خطاب کا دنیا اور آخرت میں مددگار ہے” محض ایک جملہ نہیں، بلکہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ حضرت عمرؓ کی زندگی اللہ تعالیٰ کی رضا، اس کے دین کی خدمت اور اس کے احکام کے نفاذ کے لیے وقف تھی۔ جو شخص اپنی خواہشات سے زیادہ اللہ کے حکم کو ترجیح دے، جو اقتدار کو خدمت کا ذریعہ سمجھے، جو راتوں کو رعایا کی فکر میں جاگے اور دن کو عدل قائم کرنے میں مصروف رہے، اللہ کی نصرت اور تائید اسی کا مقدر بنتی ہے۔حضرت عمر فاروقؓ کا دورِ خلافت اسلامی تاریخ کا سنہری باب ہے۔ ان کے دور میں عراق، شام، مصر اور بیت المقدس فتح ہوئے۔ اسلامی ریاست کی بنیادیں مضبوط ہوئیں،
بیت المال کا نظام قائم ہوا، عدالتی اور انتظامی ڈھانچہ منظم کیا گیا اور رعایا کی فلاح و بہبود کو ریاستی ذمہ داری قرار دیا گیا۔ لیکن ان تمام عظیم کامیابیوں کے باوجود حضرت عمرؓ کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو ان کا تقویٰ اور خوفِ خدا تھا۔روایات میں آتا ہے کہ آپؓ راتوں کو مدینہ کی گلیوں میں گشت کرتے تاکہ کسی ضرورت مند، بھوکے یا مظلوم کی خبر لے سکیں۔ ایک مرتبہ بیت المال کے اونٹوں کو دیکھ کر فرمایا کہ اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر گیا تو عمر سے اس کے بارے میں سوال ہو گا۔ یہ احساسِ ذمہ داری دراصل اسی تعلقِ مع اللہ کا نتیجہ تھا جس نے حضرت عمرؓ کو تاریخ کے عظیم ترین حکمرانوں میں شامل کر دیا۔شاید یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب میں دریافت ہونے والا کتبہ صرف ایک تاریخی نوشتہ نہیں، بلکہ حضرت عمرؓ کے تقویٰ اور دیانت داری کی ایک خاموش مگر مؤثر گواہی ہے۔
یہ کتبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ابتدائی اسلامی معاشرے میں حضرت عمرؓ کو کس نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ لوگ ان کی شخصیت میں اللہ کی نصرت، دین کی سربلندی اور عدل کے نفاذ کا عملی نمونہ دیکھتے تھے۔یکم محرم الحرام کا دن ہمیں حضرت عمر فاروقؓ کی شہادت کی یاد دلاتا ہے۔ اسلامی تاریخ کا یہ واقعہ امتِ مسلمہ کے لیے نہایت دردناک ہے۔ فجر کی نماز کے دوران ایک مجوسی غلام، ابو لؤلؤ فیروز، نے آپؓ پر قاتلانہ حملہ کیا۔ زخم انتہائی گہرے تھے اور جان بچنے کی امید نہ تھی، لیکن ان کٹھن لمحات میں بھی حضرت عمرؓ کی فکر اپنی ذات نہیں، بلکہ اسلام اور مسلمانوں کا مستقبل تھا۔شدید زخمی حالت میں بھی آپؓ نے نماز کی تکمیل کا اہتمام کیا، خلافت کے نظم کو برقرار رکھنے کے لیے شوریٰ قائم کی اور امت کو انتشار سے بچانے کی کوشش کی۔ یہ وہ اوصاف ہیں جو ایک حقیقی قائد اور مخلص خادمِ ملت میں پائے جاتے ہیں۔
حضرت عمرؓ کی شہادت محض ایک فرد کی وفات نہیں تھی، بلکہ عدل، استقامت اور جرأت کے ایک عظیم باب کا اختتام تھا۔ صحابۂ کرامؓ پر اس سانحے کا گہرا اثر ہوا اور پوری اسلامی دنیا غم میں ڈوب گئی۔ تاہم حضرت عمرؓ کا کردار، ان کی سیرت اور ان کے قائم کردہ اصول ہمیشہ کے لیے امت کے لیے مشعلِ راہ بن گئے۔آج جب ہم سعودی عرب میں دریافت ہونے والے اس نادر کتبے کی خبر سنتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ تاریخ خود حضرت عمرؓ کی عظمت کی گواہی دے رہی ہے۔ پتھروں پر کندہ الفاظ بھی ان کے مقام و مرتبے کا اعتراف کر رہے ہیں۔ یہ دریافت نئی نسل کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اصل عظمت دولت، اقتدار یا شہرت میں نہیں، بلکہ دیانت داری، عدل، تقویٰ اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ مضبوط تعلق میں ہے۔حضرت عمر فاروقؓ کی زندگی اور شہادت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حکمرانی خدمت کا نام ہے، اقتدار امانت ہے اور انصاف ہر حال میں قائم رہنا چاہیے۔ یہی وہ اصول ہیں جنہوں نے ایک عام انسان کو تاریخ کا عظیم ترین حکمران بنا دیا اور یہی وہ صفات ہیں جن کی گواہی آج بھی صدیوں پرانے کتبے دے رہے ہیں.
یکم محرم الحرام کے موقع پر ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم حضرت عمر فاروقؓ کی سیرت کو محض تاریخ کا حصہ سمجھنے کے بجائے اپنی عملی زندگی کا نمونہ بنائیں۔ اگر ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی میں عمرؓ کا عدل، ان کی دیانت، ان کا خوفِ خدا اور ان کی خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا ہو جائے تو بہت سے معاشرتی، سیاسی اور اخلاقی مسائل خودبخود حل ہو سکتے ہیں۔آج جب دنیا قیادت کے بحران، اخلاقی زوال اور انصاف کی کمی کا شکار ہے، حضرت عمر فاروقؓ کی سیرت پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ ان کا طرزِ حکمرانی ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ایک حکمران کی اصل طاقت اس کی فوج، خزانے یا اقتدار میں نہیں، بلکہ اس کے عدل، دیانت اور عوام کے ساتھ اخلاص میں ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدیوں بعد بھی ان کا نام احترام، عقیدت اور عظمت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے، ان کے عدل و تقویٰ کو اپنانے اور ان کی سیرت سے رہنمائی حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔