The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 12 August 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

پہلی مرتبہ لوئر چترال کے دیہات میں جنگلات کی رائلٹی کی تقسیم  منصفانہ اور شفاف طریقے سے کیا گیا، ، شہزادہ افتخارالدین 

Chitral Times

پہلی مرتبہ لوئر چترال کے دیہات میں جنگلات کی رائلٹی کی تقسیم  منصفانہ اور شفاف طریقے سے کیا گیا، ، شہزادہ افتخارالدین 

پہلی مرتبہ لوئر چترال کے دیہات میں جنگلات کی رائلٹی کی تقسیم  منصفانہ اور شفاف طریقے سے کیا گیا، ، شہزادہ افتخارالدین 

پہلی مرتبہ لوئر چترال کے دیہات میں جنگلات کی رائلٹی کی تقسیم  منصفانہ اور شفاف طریقے سے کیا گیا، ، شہزادہ افتخارالدین

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور سابق ایم این اے شہزادہ افتخار الدین نے لوئر چترال کے دیہات کالکاٹک اور بیوڑی کے فارسٹ رائلٹی ہولڈرز میں جنگلات کی رائلٹی کی منصفانہ اور شفاف تقسیم پر ضلعی انتظامیہ کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ انہوں نے ماضی کی روایات کے برعکس اس مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے پر ڈپٹی کمشنر لوئر چترال ہاشم عظیم، اسسٹنٹ کمشنر دروش محمد علی، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ظفر اقبال اور تحصیلدار عتیق الرحمن کے لیے حکومت سے خصوصی ایوارڈز کا مطالبہ کیا ہے۔

پیر کے روز چترال میں مقامی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق ممبر قومی اسمبلی نے کہا کہ ماضی میں جنگلات کی رائلٹی کی تقسیم میں شدید بے قاعدگیاں کی جاتی تھیں۔ ماضی کے طریقہ کار پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ پہلے پورے گاؤں کی رائلٹی کی بھاری رقم چند بااثر افراد کے جعلی اور من گھڑت کاغذات کی بنیاد پر یکمشت ان کے حوالے کر دی جاتی تھی۔ اس غیر قانونی طریقے کے باعث غریب حقداروں کی رقم چند مخصوص اور بااثر لوگوں کی جیبوں میں چلی جاتی تھی اور اصل حقدار محروم رہ جاتے تھے۔شہزادہ افتخار الدین نے کہا کہ اس بار ڈپٹی کمشنر اور ان کے عملے نے رائلٹی کی تقسیم کا پورا طریقہ کار ہی تبدیل کر دیا۔

ضلعی انتظامیہ نے ماضی کے کرپٹ نظام کو مسترد کرتے ہوئے رائلٹی کی رقم براہِ راست ہر خاندان کے سربراہ کو فراہم کی، جو کہ رائلٹی ہولڈرز کا دیرینہ مطالبہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ چترال کی تاریخ میں پہلی بار رائلٹی کی منصفانہ اور شفاف تقسیم کا یہ طریقہ کار اپنایا گیا ہے، جس پر ضلعی انتظامیہ لوئر چترال عوامی سطح پر داد و تحسین کی مستحق ہے۔ متاثرہ دیہات کے رائلٹی ہولڈرز نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ 10 سالوں کے دوران جنگلات کی رائلٹی کی غیر قانونی اور مبینہ بوگس تقسیم کی اعلیٰ سطح پر خصوصی انکوائری کرائی جائے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ ماضی میں غیر مجاز افراد کو ادائیگیاں کرنے والے تمام ذمہ دار افسران اور بااثر کرداروں کا تعین کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ مستقبل میں کوئی غریب کا حق نہ مار سکے۔