The Voice of Chitral since 2004
Friday, 21 August 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کیوں؟ – تحریر: قریش خٹک

Chitral Times

بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کیوں؟ – تحریر: قریش خٹک

بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کیوں؟ – تحریر: قریش خٹک

بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کیوں؟ – تحریر: قریش خٹک

.

مقامی حکومتوں کو جمہوری نظام کی اساس اور نرسری تصور کیا جاتا ہے، کیونکہ یہی وہ بنیادی انتظامی سطح ہے جہاں عام شہری کو ریاستی ڈھانچے، سیاسی نمائندگی اور جمہوری احتساب کا بلاواسطہ تجربہ حاصل ہوتا ہے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 140-A صوبائی حکومتوں کو پابند بناتا ہے کہ وہ مقامی حکومتیں قائم کریں اور انہیں سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتقل کریں۔ مزید برآں، الیکشنز ایکٹ، 2017ء کے تحت مقامی حکومتوں کی مدت ختم ہونے کے 120 دنوں کے اندر انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی قانونی ذمہ داری ہے۔

مقامی حکومتیں محض شہری سہولیات کی فراہمی کے ادارے نہیں بلکہ عوامی شرکت، سیاسی تربیت اور مقامی قیادت سازی کا حقیقی محور ہیں۔ اگر ملک میں جمہوریت کو مستحکم کرنا ہے تو جمہوری عمل کو وفاقی و صوبائی دارالحکومتوں سے آگے بڑھا کر نچلی انتظامی سطح تک وسعت دینی ہوگی۔ ایسا سیاسی نظام نامکمل اور نقائص کا حامل تصور ہوگا جہاں شہری کو قومی یا صوبائی سطح پر تو نمائندے منتخب کرنے کا حق حاصل ہو، لیکن اپنے گلی محلے کے بنیادی مسائل، پینے کے پانی، صفائی اور مقامی منصوبہ بندی کے لیے کسی منتخب نمائندے تک رسائی میسر نہ ہو۔

تاہم، ملک کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ان اداروں کو تقویت دینے کے بجائے بالعموم اپنے سیاسی و انتظامی مفادات کے تابع رکھنے کی پالیسی پر گامزن رہی ہیں۔ خواہ بلدیاتی انتخابات کا باقاعدہ انعقاد ہو یا منتخب اداروں کو بااختیار بنانا، سیاسی مداخلت اور انتظامی تاخیر نے مسلسل بلدیاتی نظام کو کمزور کیا ہے۔ پاکستان میں بلدیاتی اداروں کا التوا ایک مسلسل ساختی مسئلہ بن چکا ہے۔ حکومتیں مقامی منتخب اداروں کی مقررہ مدت کے دوران اصلاحات سے گریز کرتی ہیں، اور مدت کے اختتام پر قانون سازی، نئی حلقہ بندیوں اور نئے قواعد کی تشکیل کا سلسلہ شروع کر دیتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں حلقہ بندیوں کا عمل متاثر ہوتا ہے، الیکشن کمیشن مزید وقت طلب کرتا ہے، معاملات عدلیہ تک جاتے ہیں اور بالآخر انتخابات التوا کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس طرزِ حکمرانی کا نتیجہ یہ ہے کہ مقامی حکومتیں ملکی سیاسی نظام کا پائیدار حصہ نہیں بن پاتیں اور سیاسی قیادت اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے بجائے مرکزیت کو ترجیح دیتی ہے۔

اسلام آباد پنجاب اور خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا تعطل اسی رویے کا نتیجہ ہے۔ وفاقی حکومت کی انتظامی نااہلی کی وجہ سے اسلام آباد کے بلدیاتی نظام کی ساخت کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی اور آئے روز کی ترامیم کی وجہ سے الیکشن کمیشن کو حلقہ بندیاں متعدد بار کرنا پڑیں، جس سے پیسہ اور وقت دونوں کا ضیاع ہوا۔ پنجاب کی حکومت بھی مختلف حلیوں بہانوں سے انتخابات سے گریزاں نظر آتی ہے ۔

تاہم اس حکومتی نااہلی کی ایک نمایاں اور حالیہ مثال خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں کی جانے والی حالیہ ترمیم سے سامنے آتی ہے۔ ایک شفاف انتخابی عمل کا مسلمہ اصول یہ ہے کہ قوانین، قواعد اور حلقہ بندیوں کا تعین انتخابی شیڈول سے قبل مکمل کیا جائے۔ الیکشن کمیشن کا اصولی مؤقف بھی یہی رہا ہے کہ ساختی اصلاحات لوکل گورنمنٹ کےمدت کے اختتام سے کم از کم ایک برس قبل ہونی چاہئیں۔

جولائی کے اوائل میں صوبے کے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں ہو چکی تھیں اور صوبائی چیف سیکرٹری الیکشن کمیشن کو یہ باور کرا چکے تھے کہ حکومت انتخابات کرانے کے لیے تیار ہے، لیکن 21 جولائی کو قانون بدل دیا گیا۔ خیبر پختونخوا میں کی جانے والی ترمیم کے ذریعے ویلج اور نیبرہڈ کونسلوں کی حلقہ بندی کے لیے آبادی کی حد 5,000 تا 15,000 سے بڑھا کر 30,000 تا 40,000 مقرر کر دی گئی، لیکن متوازی طور پر ایکٹ کے نویں شیڈول کے تحت نشستوں کی مقررہ تعداد کو اس تناسب سے تبدیل کیے بغیر برقرار رکھا گیا۔

یہ نقض محض ایک تکنیکی سہو نہیں ہے۔ آبادی کے حجم میں اس قدر نمایاں اضافے کے باوجود نمائندگی اور انتخابی ڈھانچے کو جمود کا شکار رکھنا قانونی تضاد کو جنم دیتا ہے۔ اس غیر متوازن ترمیم کے نتیجے میں 23 اضلاع میں مکمل ہونے والی حلقہ بندیوں کی عملی افادیت متاثر ہوئی اور پورا انتخابی عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔ یہ امر بالخصوص قابلِ غور ہے کہ مذکورہ ڈرافٹ صوبائی لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور محکمۂ قانون، دونوں کی قانونی چھان بین کے بعد صوبائی کابینہ اور بالآخر صوبائی اسمبلی سے منظور ہوا۔ اس کے باوجود اس نوعیت کا شدید قانونی تضاد قانونی ڈرافٹنگ کے معیار اور سنجیدگی پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔

یہاں بنیادی مسئلہ اسمبلی کے قانون سازی کے اختیار پر نہیں جو یقیناً پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کا مسلمہ آئینی حق ہےبلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا قانون سازی کے اس اختیار کا استعمال انتخابی عمل کے دوران اس انداز سے کیا جا سکتا ہے کہ ایک الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داری کی ادائیگی سے قاصر ہو جائے؟ قانون سازی کا اختیار آئینی حدود سے آزاد نہیں ہو سکتا؛ اسے آئین کے دیگر تقاضوں، جمہوری اقدار اور بنیادی حقوق کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔ اگر انتظامی نااہلی یا ناقص منصوبہ بندی سے پیدا شدہ صورتِ حال کو آخری لمحات میں قانون سازی کے ذریعے سنبھالنے کی کوشش کی جائے، تو یہ محض ڈرافٹنگ کا نقص نہیں رہتا بلکہ آئینی حکمرانی اور جمہوری تسلسل کا بحران بن جاتا ہے۔

اس تناظر میں الیکشن کمیشن اور عدلیہ کا آئینی کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ آئینی اداروں کو یہ اصول قائم کرنا ہوگا کہ قانون سازی کے اختیار کو انتخابات کے غیر معینہ التوا کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی انتظامی تاخیر کا بوجھ انتخابی اداروں پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا، حل محض موجودہ قانونی تضاد کو دور کرنے میں نہیں، بلکہ لوکل گورنمنٹ انتخابا ت کے لئے ایک مربوط اور مستقل قانونی و انتخابی فریم ورک کی تدوین میں مضمر ہے، جس کے تحت بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے سے کم از کم ایک برس قبل تمام قانون سازی، حلقہ بندیوں کے اصول اور انتخابی قواعد مکمل کیے جائیں، اور مدت کے اختتام یا انتخابی عمل کے دوران ایسی ترامیم پر مکمل پابندی ہو جو جاری عمل کی سپیڈ اور ساخت کو متاثر کریں۔ اگر غیر معمولی حالات میں ترمیم ناگزیر ہو، تو اسے جاری انتخابی عمل پر لاگو کرنے کے بجائے آئندہ انتخابی دور کے لیے نافذ العمل کیا جائے تاکہ اصلاحات کا حق بھی محفوظ رہے اور الیکشن کمیشن کے فرائض میں بھی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

یہ موجودہ بحران اس بنیادی حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جمہوریت صرف انتخابات کے اعلان کا نام نہیں، بلکہ ان کا بروقت، شفاف اور قانونی تسلسل کے ساتھ انعقاد بھی جمہوری حکمرانی کا لازمی جزو ہے۔ اگر انتخابی قوانین کو سیاسی ضرورت کے تحت بدلنے کی روش جاری رہی تو الیکشن کمیشن کی خودمختاری، عوامی اعتماد اور جمہوری نظام کا استحکام شدید متاثر ہوگا۔ بلدیاتی نظام کو جمہوریت کی واقعی بنیاد بنانے کے لیے اسے سیاسی صوابدید سے آزاد کر کے آئینی تحفظ، مالی خودمختاری اور باقاعدہ انتخابی تسلسل فراہم کرنا لازمی ہے۔