بلدیاتی انتخابات کب ہوں گے؟ – قریش خٹک
.
جمہوری اصولوں کا بنیادی تقاضا ہے کہ اقتدار کا سرچشمہ عوام ہوں اور اختیار کی سمت اوپر سے نیچے نہیں بلکہ نیچے سے اوپر کی طرف ہو۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی حکومتیں جمہوریت کی بنیاد اور اس کے حقیقی ستون تسلیم کی جاتی ہیں۔ مگر پاکستان میں بدقسمتی سے اسی بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ جہاں قومی یا صوبائی اسمبلیوں کے بروقت انتخابات کے لیے ریاست کی تمام تر آئینی و انتظامی طاقت جھونک دی جاتی ہے، وہاں بلدیاتی انتخابات کے التوا پر نہ تو کوئی سنجیدہ شور مچتا ہے اور نہ ہی کوئی مؤثر جوابدہی ہوتی ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے 5 اکتوبر 2026 کو چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیرِ صدارت منعقدہ اجلاس کے بعد سامنے آنے والی تفصیلات ہمارے پورے آئینی اور انتظامی ڈھانچے پر ایک گہرا سوالیہ نشان ہیں۔ آئین کا آرٹیکل 140-A صوبوں کو مقامی حکومت کا نظام قائم کرنے اور سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داری و اختیار منتخب مقامی نمائندوں کو منتقل کرنے کا پابند بناتا ہے، جبکہ مقامی حکومتوں کے انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے۔ تاہم، کمیشن کے حالیہ اجلاس میں سامنے آنے والے حقائق یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ آیا الیکشن کمیشن اپنے وسیع آئینی اختیارات کو مؤثر طور پر بروئے کار لانے میں انتظامی رکاوٹوں کا شکار ہے، یا پھر ان اختیارات کے استعمال کا سیاسی و ادارہ جاتی عزم کمزور پڑ چکا ہے؟
اگر صوبائی اور وفاقی سطح کا جائزہ لیا جائے تو الیکشن کمیشن کے اختیارات اور حکومتوں کی تاخیر، عدم تعاون اور قانونی پیچیدگیوں کا ایک تکلیف دہ منظرنامہ سامنے آتا ہے۔ سندھ میں بلدیاتی ادارے قائم ہیں اور نئے انتخابات کے لیے تیاری شروع کر دی گئی ہے، جو دوسرے صوبوں کے لیے ایک اچھی مثال ہے۔ بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں بلدیاتی ادارے 8 فروری 2027 کو اپنی مدت پوری کرنے جا رہے ہیں۔ تاہم، دارالحکومت کوئٹہ اس پورے نظام سے اب تک محروم ہے۔ وفاقی آئینی عدالت کے حکم پر الیکشن کمیشن نے 21 مئی 2026 کو کوئٹہ میں حلقہ بندی مکمل کر دی تھی، لیکن صوبائی حکومت کی جانب سے کوئٹہ کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کے بعد نئی حدود اور مطلوبہ ڈیٹا فراہم نہ کرنے کے باعث عدالتی حکم اور انتخابی عمل کی تکمیل اب تک معلق ہے۔
پنجاب میں بلدیاتی اداروں کی مدت 31 دسمبر 2021 کو ختم ہو چکی ہے۔ الیکشن کمیشن نے ڈرافٹ الیکشن شیڈول تو ارسال کر دیا ہے اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران (DROs)، ریٹرننگ افسران (ROs) اور اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران (AROs) کی فہرستیں طلب کی ہیں، مگر کمیشن اب بھی صوبائی حکومت کے ضروری انتظامی تعاون کا منتظر ہے۔ آئینی طور پر خود مختار ادارہ ہونے کے ناطے الیکشن کمیشن کیا محض پانچ سال سے صوبائی حکومت کے ردِعمل کا انتظار کرتا رہے گا، یا اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے دستیاب اختیارات استعمال کرے گا؟
اس سال مئی تک خیبر پختونخوا کے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل ہو چکی تھیں اور 7 اضلاع میں جاری تھیں کہ صوبائی حکومت نے خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 میں ترمیم کرتے ہوئے ویلج و نیبر ہڈ کونسلز کے لیے آبادی کی حد کو 5,000–15,000 سے یکلخت بڑھا کر 30,000–40,000 کر دیا۔ اس ترمیم کے بعد قانون کے متعلقہ شیڈول میں درج ویلج اور نیبر ہڈ کونسلز کی تعداد اور نئی آبادی کی حد میں ایسا تضاد پیدا ہوا کہ الیکشن کمیشن کے مطابق موجودہ ڈھانچے کے تحت حلقہ بندی عملی طور پر ممکن نہیں رہی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے متعلقہ شیڈول میں ضروری ترمیم اور حکومت سے تعاون کی درخواست کے باوجود صوبائی حکومت کی عدم پیش رفت نے معاملے کو مزید طول دے دیا ہے۔ یہ محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ اس بڑے سیاسی مسئلے کی علامت ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے وقت قانون سازی میں آخری لمحے کی تبدیلیاں کس طرح انتخابی عمل کو دوبارہ صفر پر لے آتی ہیں۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تمام تر تیاریوں کے باوجود اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ ترمیمی آرڈیننس 2026 کی میعاد ختم ہو چکی ہے۔ الیکشن کمیشن نے وفاقی حکومت سے فوری قانون سازی مکمل کرنے کا مطالبہ کیا ہے، تاہم ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر قانون سازی مکمل نہ ہوئی تو وہ موجودہ قانونی فریم ورک، یعنی 2015 کے ایکٹ، کے تحت انتخابات آگے بڑھانے پر غور کرے گا۔ سوال یہ ہے کہ جب انتخابی تیاری مکمل ہو چکی ہو تو قانون سازی کی تاخیر شہریوں کو ان کے مقامی نمائندوں سے کب تک محروم رکھے گی؟
کنٹونمنٹ بورڈز میں بھی الیکشن کمیشن کی بارہا یاد دہانیوں اور چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے وزیراعظم کو خط لکھے جانے کے باوجود وفاقی حکومت کی جانب سے انتخابات کے انعقاد کے لیے درکار رسمی درخواست تاحال موصول نہیں ہوئی۔ اگرچہ الیکشن کمیشن نے اب وزارتِ دفاع کو حتمی خط لکھنے اور تسلی بخش جواب نہ ملنے کی صورت میں انتخابات کے انعقاد کے بارے میں مناسب فیصلہ کرنے کا اشارہ دیا ہے، لیکن یہاں بھی بنیادی سوال وہی ہے: اگر الیکشن کمیشن کو انتخابات کرانے کا آئینی اختیار حاصل ہے تو حکومتوں کی رسمی اجازت یا درخواست کے مرحلے کو اتنی اہمیت کیوں حاصل ہے؟
یہ صورتِ حال محض انتظامی مسائل کا مجموعہ نہیں، بلکہ الیکشن کمیشن کی آئینی خودمختاری اور اس کے عملی اختیار کا امتحان ہے۔ آئین کا آرٹیکل 220 تمام وفاقی اور صوبائی انتظامی حکام کو الیکشن کمیشن کی معاونت کا پابند بناتا ہے۔ آرٹیکل 218 الیکشن کمیشن کے قیام اور اس کے بنیادی آئینی کردار کا فریم ورک فراہم کرتا ہے، جبکہ آرٹیکل 219 اور آرٹیکل 140-A مقامی حکومتوں کے انتخابات کے حوالے سے اس کی ذمہ داری کو مزید واضح کرتے ہیں۔ الیکشن ایکٹ 2017ء کی دفعہ 219(4) کے تحت الیکشن کمیشن پر لازم ہے کہ وہ مقامی حکومتوں کی مدت ختم ہونے کے 120 دن کے اندر بلدیاتی انتخابات کرائے۔ جب آئین اور قانون الیکشن کمیشن کو انتخابات کرانے کا اختیار اور ذمہ داری دیتے ہیں، تو پھر قانون سازی میں اچانک ترمیم، حدود کی تبدیلی یا انتظامی عدم تعاون کے سامنے کمیشن کو بار بار حکومتوں کے خطوط اور یاد دہانیوں تک محدود کیوں ہونا چاہیے؟
اس التوا کا اصل سبب صرف انتظامی پیچیدگیاں نہیں بلکہ اقتدار کی مرکزیت کی وہ سیاسی سوچ ہے جس کے تحت صوبائی وزرائے اعلیٰ، وزرا اور ارکانِ اسمبلی ترقیاتی فنڈز اور انتظامی اختیارات کو اپنے سیاسی دائرۂ اختیار میں رکھنا چاہتے ہیں، اور اقتدار کی نچلی سطح پر منتقلی سے خائف ہیں۔ الیکشن کمیشن کی اپنی سالانہ رپورٹ بھی یہ نشاندہی کر چکی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مقامی سطح پر انتظامی اور مالی اختیارات تقسیم کرنے پر آمادہ نہیں اور قوانین، انتظامی حدود اور مقامی حکومتوں کے ڈھانچے میں تبدیلیوں کے ذریعے انتخابی عمل میں تاخیر ہوتی رہی ہے۔ لیکن اس سیاسی ہچکچاہٹ کے آگے الیکشن کمیشن کا صرف نوٹسز، خطوط اور یاد دہانیوں تک محدود رہنا اس کے اپنے آئینی رعب اور دائرۂ اختیار کو کمزور کر رہا ہے۔
پاکستان کو اب حتمی طور پر یہ طے کرنا ہوگا کہ بلدیاتی انتخابات وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور بیوروکریسی کی صوابدید ہیں یا آئینی حکم؟ اگر الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ایک طاقتور آئینی ادارہ رہنا ہے تو اسے محض یاد دہانیوں اور خطوط کے مرحلے سے نکل کر اپنے آئینی اختیارات، بالخصوص آرٹیکلز 140-A، 219 اور 220، نیز الیکشن ایکٹ 2017ء کی متعلقہ شقوں کا مؤثر استعمال کرتے ہوئے انتخابی عمل کو آگے بڑھانا ہوگا۔ خود الیکشن کمیشن نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ مقامی حکومتوں کے انتخابات کے انعقاد کا آئینی طور پر پابند ہے اور ماضی میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کی قانونی تبدیلیوں کے باعث انتخابی عمل بار بار متاثر ہوتا رہا ہے۔
جب تک الیکشن کمیشن اپنے آئینی اختیار کو محض کاغذی اختیار کے بجائے عملی طاقت میں تبدیل نہیں کرے گا، تب تک صوبائی و وفاقی حکومتیں تکنیکی اور انتظامی پیچیدگیوں کی آڑ میں عوام کو ان کے بنیادی جمہوری اور بلدیاتی حق سے محروم رکھتی رہیں گی۔ جمہوریت صرف قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ایوانوں میں زندہ نہیں رہتی، اس کی اصل زندگی اس وقت شروع ہوتی ہے جب شہری کو اپنے محلے، یونین کونسل، تحصیل اور شہر کے معاملات پر براہِ راست اختیار حاصل ہوتا ہے۔ بلدیاتی انتخابات کو مسلسل مؤخر کرنا دراصل جمہوریت کو عوام کی دہلیز سے دور رکھنا ہے۔ سوال اس لیے صرف یہ نہیں کہ بلدیاتی انتخابات کب ہوں گے، اصل سوال یہ ہے کہ اقتدار عوام کی دہلیز تک کب پہنچے گا؟