یورجوغ (گرم چشمہ) میں زمین مسلسل سرکنے لگی، درجنوں گھر متاثر، حکومت سے فوری امداد کا مطالبہ
گرم چشمہ (نمائندہ چترال ٹائمز) گرم چشمہ کے گاؤں یورجوغ میں گزشتہ ایک ماہ سے زمین مسلسل سرک رہی ہے، جس کے نتیجے میں متعدد گھروں میں گہری دراڑیں پڑ چکی ہیں اور علاقہ رہائش کے قابل نہیں رہا۔
ایک معتبر ادارے کی تازہ تکنیکی رپورٹ کے مطابق علاقے میں کسی بھی وقت بڑا حادثہ پیش آنے کا واضح خدشہ موجود ہے۔
اہلِ علاقہ کے مطابق وہ متعدد مرتبہ ضلعی انتظامیہ، مقامی نمائندوں اور میڈیا کے ذریعے اپنی فریاد پہنچا چکے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر چترال سے براہِ راست ملاقات بھی کی گئی، تاہم اب تک حکومت یا انتظامیہ کی جانب سے کوئی عملی اقدام یا ریلیف فراہم نہیں کیا گیا۔
مزید افسوسناک امر یہ ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو جو چند خیمے فراہم کیے گئے ہیں، وہ حکومت کی جانب سے نہیں بلکہ ادارہ اکاہ (AKAH) کی مدد سے دیے گئے ہیں — اور وہ خیمے بھی اسی خطرناک مقام پر نصب کیے گئے ہیں جہاں زمین اب بھی سرک رہی ہے اور پہاڑوں سے بڑے پتھروں کے گرنے کا خطرہ مسلسل موجود ہے۔
نومبر کی سخت سرد راتوں میں جب درجہ حرارت منفی ڈگری تک گر جاتا ہے، وہاں شیرخوار بچوں، خواتین اور بزرگوں کا خیموں میں رہنا نہ صرف انتہائی تکلیف دہ بلکہ غیر انسانی رویہ ہے۔ اہلِ علاقہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر زلزلہ، بارش یا برف باری ہوئی تو جانی نقصان کا شدید خدشہ ہے۔
لٹکوہ ڈیولپمنٹ فورم (LDF) کے صدر نصرت الٰہی نے حکومتِ خیبر پختونخوا، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے، اور انہیں مناسب رہائش، روشنی، خوراک، کمبل اور دیگر ضروری سہولیات فوری فراہم کی جائیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ چند دنوں میں کوئی عملی قدم نہ اٹھایا گیا تو متاثرہ خاندانوں کو لے کر ڈپٹی کمشنر آفس چترال کے سامنے احتجاج کیا جائے گا، اور کسی بھی ممکنہ جانی نقصان کی ذمہ داری حکومت اور انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

