چترال لوئیر؛ دنین میں طبی سہولیات کا فقدان، میڈیکل ڈسپنسری کے قیام کا مطالبہ
۔
چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال ٹاون کے نواحی علاقے دنین میں بنیادی طبی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مقامی آبادی، جو دس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، اب بھی میڈیکل فرسٹ ایڈ جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہے۔
عوامی حلقوں کے مطابق دو نائبرہوڈ کونسل پر مشتمل دس ہزار سے زیادہ آبادی پر مشتمل دنین نہ صرف گنجان آباد علاقہ ہے بلکہ یہاں سرکاری ملازمین کی بڑی تعداد بھی رہائش پذیر ہے، تاہم اس کے باوجود کسی قسم کی ڈسپنسری یا ابتدائی طبی مرکز قائم نہیں ہے، جبکہ معمولی ابتدائی طبی امداد کیلئے مریضوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال لے جانا پڑتا ہے،
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی بھرتیوں کے موجودہ عمل کے پیش نظر دنین میں بھی میڈیکل ڈسپنسری قائم کی جائے۔ ان کے مطابق دنین لشٹ سے چیوپل تک کسی بھی سرکاری عمارت میں یہ سہولت فراہم کی جا سکتی ہے تاکہ لوگوں کو بنیادی طبی خدمات ان کی دہلیز پر میسر آئیں۔
شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ اگر علاقے میں ڈسپنسری قائم کی جائے تو بلڈ پریشر چیک کرنے، انجیکشن لگوانے، ویکسینیشن اور دیگر ابتدائی طبی امداد جیسی سہولیات مقامی سطح پر دستیاب ہوں گی، جس سے نہ صرف عوام کو ریلیف ملے گا بلکہ ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال پر مریضوں کا دباؤ بھی کم ہو جائے گا۔
عوامی حلقوں نے منتخب ایم پی اے ، محکمہ ہیلتھ کے اعلیٰ حکام اورخصوصی طور پر ڈپٹی کمشنر لوئیر چترال سے مطالبہ کیا ہے کہ دنین میں فوری طور پر طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ علاقے کے مکینوں کو درپیش مسائل کا ازالہ ہو سکے۔

