کنڑ کی روحانی میراث: سید مصطفی بن پیر باباؒ و نسبت یافتگان – تحریر و تحقیق: نجیم شاہ
سید مصطفی بابا، سید علی ترمذی المعروف پیر باباؒ کے فرزند تھے، جنہوں نے والد کے وصال کے بعد نہ صرف امامت و طریقت کی ذمہ داریاں سنبھالیں بلکہ روحانی قیادت کو سیاسی حکمت کے ساتھ جوڑ کر کنڑ کے ایک مؤثر رہنما کے طور پر اُبھرے۔ اُن کا اثر دریائے کنڑ، دریائے کابل اور دریائے سندھ کے کناروں تک پھیلا ہوا تھا۔ وہ علم، فقر اور قیادت کا سنگم تھے۔ سید مصطفی بابا کا مزار کنڑ کے علاقے دونھی (پَشَد) میں دریائے کنڑ کے بائیں کنارے واقع ہے، جو آج بھی روحانی تاریخ کا ایک اہم حوالہ ہے۔
مستند شجرۂ جات اور روایات میں سید مصطفی بابا کے تین فرزندان کا ذکر عام ہے: سید عبدالوہاب، سید قاسم اور سید حسن بابا۔ تاہم افغانستان کے پشتون سادات اور کنڑ کی مقامی تاریخ میں میاں سید عباس نامی چوتھے فرزند کا بھی ذکر ملتا ہے، جن کی نسل بھی کنڑ میں موجود بتائی جاتی ہے۔ وہ پَشَد (پشت) میں مدفون ہیں، اور اُن کے متعلقہ سلسلۂ نسب بھی محفوظ شجرۂ جات میں الگ طور پر درج ہے۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سید مصطفی بابا کی روحانی اور نسلی میراث کنڑ میں مختلف شاخوں میں پروان چڑھی اور آج بھی اثر پذیر ہے۔
سید مصطفی بابا کی نسل بونیر، دیر، باجوڑ، چترال، مردان، ہزارہ اور پشاور سمیت پاکستان کے متعدد علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے، جہاں ان کے خانوادے کے افراد مختلف سماجی اور دینی شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ تاہم اِس کالم کا مرکز سرحد پار افغانستان کا علاقہ کنڑ ہے، جہاں اُن کی اولاد نے روحانیت کے ساتھ ساتھ تعلیم، سیاست، سفارت اور مزاحمت کے میدانوں میں بھی قابلِ ذکر کردار ادا کیا۔ یہ خانوادہ مختلف ادوار میں قیادت، بصیرت اور خدمت کی علامت کے طور پر سامنے آیا، اور ہر نسل نے وقت کے تقاضوں کے مطابق اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔
ان نمایاں شخصیات میں سب سے ممتاز نام سید محمود پاشا کنڑی کا ہے، جو سید بہاء الدین کے فرزند اور کنڑ کے حکمران تھے۔ امیر دوست محمد خان نے اپنے پوتے وزیر اکبر خان کی بیٹی کا نکاح اُن سے کیا۔ 1298تا 1299ہجری قمری (تقریباً 1880تا 1882عیسوی) میں اُنہوں نے کابل کی امارت سے انکار کر کے خود کو ’’بادشاہِ کنڑ‘‘ قرار دیا۔ قبائلی اثر و رسوخ، سیاسی حکمت اور خودداری نے اُنہیں نہ صرف کنڑ بلکہ افغانستان کی تاریخ میں ایک منفرد حیثیت دی، جو آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا باعث بنی۔
سید غلام حیدر پاشا، اسی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ مشروطہ تحریک کے دُوسرے مرحلے میں میر سید قاسم خان اور عبدالہادی داوی کے ساتھ متحرک رہے۔ تعلیم کے لیے ترکی گئے اور مصطفی کمال اتاترک کے خیالات سے متاثر ہوئے۔ وطن واپس آ کر وزارتِ خارجہ میں کام کیا اور ’’دکور غم‘‘ نامی اصلاحی نشریہ جاری کیا۔ نادر شاہ کے دور میں قید کا سامنا کیا اور چودہ برس بعد وفات پائی۔ اُن کی زندگی علم، جدوجہد اور فکری مزاحمت کا حسین امتزاج تھی۔
سید شمس الدین مجروح، جو 1911ء میں کنڑ کے علاقے شین کورک میں پیدا ہوئے، ساداتِ کنڑ کی علمی روایت کا روشن باب تھے۔ اُن کے والد نورستان میں دعوتِ دین سے وابستہ تھے۔ سید شمس الدین نے نہ صرف عدلیہ اور پارلیمان میں خدمات انجام دیں بلکہ مصر، شام، لبنان اور اردن میں سفارتی فرائض بھی ادا کیے۔ پشتو زبان کے فروغ کے لیے سرگرم رہے اور ’’مجروح‘‘ کے تخلص سے ادبی میدان میں بھی یادگار نقوش چھوڑے، جو اُن کی فکری گہرائی کا عکس تھے۔
پروفیسر سید بہاء الدین مجروح اور اُن کے صاحبزادے افغانستان کے اہم مفکرین میں شمار ہوتے ہیں۔ اُنہوں نے فرانس سے فلسفہ و نفسیات کی تعلیم حاصل کی اور کابل یونیورسٹی میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ افغان اکیڈمی آف سائنسز اور انجمن تاریخِ افغانستان کے سربراہ رہے۔ اُن کی کتاب ’’اژدھای خودی‘‘ فکری حلقوں میں گہرے اثرات کی حامل ہے۔ 1988ء میں پشاور میں نامعلوم افراد کے ہاتھوں شہید ہوئے، اور اُن کے قتل کو اُس دور کی سیاسی کشمکش سے جوڑا جاتا ہے۔
جنرل سید حسن شیون، جو سید غلام حیدر کے چچا زاد تھے، نہ صرف فوجی تربیت میں مہارت رکھتے تھے بلکہ دینی علوم میں بھی نمایاں تھے۔ امیر امان اللہ خان کے دور میں اُنہیں ارگ شاہی اور بعد ازاں وزارت حربیہ کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ وہ مشروطہ تحریک کے دوسرے مرحلے میں فعال کردار ادا کرتے رہے۔ فارسی اور پشتو زبان میں شاعری کے علاوہ، وہ علامہ اقبالؒ کے فکری نظریات سے بھی متاثر تھے۔ بدقسمتی سے، 1319 ہجری شمسی (تقریباً 1940-1941 عیسوی) میں سیاسی وجوہات کے باعث اْنہیں دہمزنگ جیل میں شہید کر دیا گیا۔
سید گل پاچا الفت، لغمان میں پیدا ہوئے اور پشتو زبان کے ممتاز شاعر، صحافی، اور ادیب کے طور پر جانے گئے۔ وہ پشتو تولنہ، افغان اکیڈمی آف سائنسز، مجلسِ شورہ اور دیگر علمی اداروں سے منسلک رہے۔ اُن کی شاعری میں عوامی درد، مذہبی شعور اور فکری گہرائی موجود تھی۔ ’’ویش زلمیان‘‘ تحریک سے اختلاف کے بعد اُنہوں نے ’’وُلسْ‘‘ کے نام سے آزاد نشریہ جاری کیا۔ 1356 ہجری شمسی (تقریباً 1977-1978 عیسوی) میں اُن کا انتقال ہوا، مگر اُن کا فکری اثر آج بھی محسوس کیا جا سکتا ہے۔
ساداتِ کنڑ کی تاریخ محض خاندانی عظمت کا حوالہ نہیں، بلکہ ایک ایسی فکری، روحانی اور عملی روایت کا تسلسل ہے جس نے مختلف ادوار میں معاشرے کو شعور، سمت اور قیادت فراہم کی۔ اِس خانوادے نے علم، خدمت، مزاحمت اور اخلاقی استقامت کے ذریعے خود کو ہر دور کے فکری اور سماجی چیلنجز کے مقابل لا کھڑا کیا۔ ان کی جدوجہد صرف اپنے لیے نہیں، بلکہ ایک وسیع تر معاشرتی شعور کی تشکیل کے لیے تھی۔ ان کے افکار، خدمات اور کردار آج بھی ایک زندہ اور متحرک روایت کا حصہ ہیں، جو آئندہ نسلوں کے لیے فخر، آگہی اور عمل کی راہیں متعین کرتے ہیں۔
