بسم اللہ الرحمان الرحیم
۹۱ مارچ ۵۲۰۲ء
مشرقی اُفق
سعودی پاکستان دفاعی معاہدہ اور اسرائیل
میر افسر امان، میر
اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے”اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو اور آپس میں تفرقہ مت ڈالو اور اللہ کااحسان اپنے اُوپر یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمھارے دلوں میں ملاپ پیدا کر دیا پس اس کے فضل سے تم آپس میں بھائی بھائی بن گئے اور تم آگ کے گھڑے کے کنارے پر تھے تو اس نے تمہیں اس سے بچا لیا۔ اللہ تم سے یوں ہی اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے تاکہ تم ہدایات پاؤ“۔آل عمران۔۳۰۱۔شا عر ِ اسلام ڈاکٹر علامہ شیخ محمد اقبالؒ نے کیسے قرآنی تعلیمات کی ترجمانی کرتے ہوئے فرمایاتھا:۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر
اس شعر میں علامہ اقبالؒ سارے مسلمانوں، شیعہ سنی کو مخاطب کرکے کہہ ر ہاہے کہ آپس میں اتحاد اتفاق پیدا کرو۔ دشمن کے مقابلے میں یک جان ہو جاؤ۔ فلسطین قبلہ اوّل غزہ کے مسلمانوں کے خون رنگ لایا اور ایک تاریخی مدفاعی معاہدہ (SMDA)سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ریاض میں طے پایا۔ اس معاہدے میں یہ طے پایا ہے کہ ایک پر حملہ دونوں کے خلاف تصورہو گا۔ اس کامشترکہ جواب دیاجائے گا۔ اس معاہدے پر سعودی عرب کی طرف سعودی ولی عہد محمد بن سلیمان اور اسلامیہ جمہوری پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے دستخط کیے۔مقصد دو طرفہ دفاعی تعاون کو فروغ دیناہے۔یہ معاہدہ جو دونوں ملکوں کی اپنی سامتی کو بڑھانے اور خطے اور دنیا میں سلامتی اور امن کے حصول کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے اور اسکا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع و تحفظ کو مضبوط بناناہے۔ سعودی عرب اور پاکستان آٹھ دھائیوں پر محیط تاریخی شراکت داری ہے۔ معاہدے سے پاکستان اب حرمین شریفین کے تحفظ میں سعودی عرب کاپارٹنر بن گیاہے۔ یہ معاہدہ ونوں برادر اسلامی ملکوں کے وفود کی موجودگی میں مذاکرات کاباضابطہ سیشن ہوا۔ فریقین نے دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی اور اسٹرٹیجک تعلقات اور مشترکہ دلچسپی کے متعددموضوعات کا جائزہ
لیا۔ پاکستان کی طرف سے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق دار، فیلڈ مارشل، سید عاصم منیر، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر خزانہ محمد ارونگزیب اور دیگر وزراء شریک ہوئے۔ وزیر اعظم پاکستان شہبازشریف سعودی عرب کے دالخلافہ ریاض آمد پر شہر میں سبز ہلالی پرچم لہرائے گئے۔ دوسری طرف پاکستان میں جذبہ خیر سگالی کے طور پر وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کی اہم شاہراہوں، انڈر پاسز، چواہوں اورانٹرچیجز کو پاکستان اور سعودی عرب کے قومی پرچموں اور برقی قمقموں سے سجایا گیا۔یہ دہشت گرد اسرائیل کے قطر کے دارالحکومت دوحاپر اچانک حملے کی وجہ سے ہوا۔ پاکستان کی دفاعی اور خارجہ پالیسی ہمیشہ عدم جارحیت اور عدم مداخلت کے اصولوں پر رہی ہے۔
گزشتہ مئی میں بھارت کے جارحانہ اقدامات کے جواب میں پاکستان نے جس طرح دفاعی اور عسکری صلاحییتوں کا اظہار کیا، اس سے بین الاقوامی برادری کے پاکستان پر اعتماد میں زبردست اضافہ ہوا۔ اسرائیل کی ایران کے خلاف جارحیت کے موقع پر بھی پاکستان نے ایران اور امریکا کے مابین کشیدگی کم کرانے میں موثر اور مثبت کردار ادا کیا۔ جس کاامریکااور ایران دونوں نے برملا اعتراف کیا۔ قطر پر اسرائیل کے جارحانہ اقدام کے بعد پاکستان نے نہایت جرأت مندی سے قطر کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کیا۔ اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزاہم اور عظیم تر اسرائیل کے منصوبہ کی صرف مذمت ہی نہیں کہ، بلکہ ان کی روک تھام کے لیے اسلامی تعاون تنظیم اور عرب لیگ کے سربراہ اجلاس کے دوران ٹھوس اور قابل عمل تجویز نے عرب دنیا کے پاکستان پر اعتماد میں زبردست اضافہ ہوا۔ سربراہ کانفرنس کے موقع پر مسلم اور عرب ممالک کی مشترکہ دفاعی حکمت عملی کی تجویز نے عرب دنیا کے قریب تر کر دیا۔ اسی قربت کاایک مظہر پاکستان سعودی عرب کے مابین طے پانے والا مشترکہ دفاع کا معاہدہ ہے۔ اس معاہدے سے پاکستان کی فوجی طاقت، دفاعی صلاحیت اورسعودی عرب کے اقتصادی استحکام کے باہمی تعاون سے خلیج کی سلامتی کاایک نیا تصور ابھر کر دنیا کے سامنے آیا ہے۔ جس سے خطے کے عرب اور خصوصاً مسلمان ممالک میں تحفظ و سلامتی کا احساس اُجاگر ہو گا۔ اس معاہدے میں کسی تیسرے ملک کی شمولیت کی بھی رکھی گئی ہے، جو ایک مثبت اور قابل قدر پہلو ہے۔ خطے کے حالات کاتقاضہ ہے کہ اس معاہدے میں ایران سمیت دیگر عرب عجم ممالک کو شامل کیا جائے۔
یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ پہلے سے عرب ممالک کے امریکا اورمغربی ملکوں سے دفاعی معاہدے موجود ہیں۔ پاک سعودی دفاعی معاہدہ انہیں ہضم نہیں ہوگا۔ مگر یہ معاہدہ تو ان دفاعی معاہدوں کے رد عمل کے طور پر ہی سامنے آیا ہے۔ قطر سے امریکا کا دفاعی معاہدہ تھا۔ علاقہ میں امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈا قطر میں ہی ہے۔ مگر امریکا نے اسرائیل کو قطر پر حملے سے نہیں روکا۔ امریکی وزیر خارجہ اسرائیل کے ساتھ اظہار یکجہتی کے اسرائیل پہنچا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ حماس کی لیڈر شپ کو قطر ملک سے نکال دے ورنہ میں پھر حملہ کروں گا۔ اب امریکی وزیر خارجہ قطر آ کر ان کو تسلیاں دے رہا ہے کہ آیندہ اسرائیل قطر پر حملہ نہیں کرے گا۔ عرب امریکی منافقت کو سمجھ گئے ہیں۔ اب وہ امریکا پر اعتماد نہیں کرتے۔ پاک سعودی معاہدہ شروعات ہیں۔ایک ایک کر کے عرب اور دیگر اسلامی ملک اس دفاعی معاہدے میں شامل ہوتے جائیں گے۔ عربوں کوچاہیے کہ امریکہ اور مغربی ملکوں سے آہستہ آہستہ اپنا سرمایا نکال اسلامی ملکوں میں لگائیں۔ سب سے پہلے مرحلے میں ایران کو اس معاہدے دفاعی معاہدے میں شامل کریں۔ اس نے اسرائیل فلسطین جنگ میں فلسطین کاساتھ دے کر مسلمان عوام کے اندر نام پیدا کرلیا ہے۔ اسرائیل اورامریکہ نے اس پر حملہ کر دیا۔مگر اسرائیل کو شکست دے کر دنیا میں اس نے نام کمایاہے۔ مسلمانوں کو ایک دوسرے پر اعتماد بڑھاناہوگا۔مسقبل ان شاء اللہ اسلام کاہے۔
