صوبے میں سیلابی صورتحال، متاثرہ اضلاع میں مجموعی طور پر 309 افراد جان بحق اور 23 افراد زخمی ، وزیراعلیٰ کے زیر صدارت اجلاس، نقصانات کے معاوضوں کی ادائیگی اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لئے تین ارب روپے جاری
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) صوبے میں موجودہ ہنگامی صورتحال کے تناظر میں وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت اہم اجلاس ہفتے کے روز منعقد ہوا۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا، متعلقہ انتظامی سیکرٹریز، ڈویژنل کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، پی ڈی ایم اے حکام نے اجلاس میں شرکت کی جس میں کلاوڈ برسٹ، بارشوں اور سیلابی ریلوں سے متاثرہ اضلاع میں ہونے والی نقصانات، ریسکیو اور ریلیف کاروائیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ان حادثات اور امدادی کاروائیوں کے لئے باجوڑ جانے والے ہیلی کاپٹر حادثے کے شہداء کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کی گئی۔
متعلقہ حکام کی طرف سے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ابتدائی رپورٹس کے مطابق مختلف حادثات سے متاثرہ اضلاع میں مجموعی طور پر 309 اموات ہوئی ہیں اور 23 افراد زخمی ہوئے، سیلابی ریلوں سے 63 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے جبکہ تباہ شدہ انفراسٹرکچر پر سروے جاری ہے اور شام تک انفراسٹرکچر کے نقصانات کی رپورٹ مکمل کی جائے گی۔ مزید بتایا گیا کہ منقطع علاقوں تک رسائی کے لئے رابطہ سڑکوں کی بحالی پر کام جاری ہے، متاثرہ علاقوں میں میڈیکل ٹیمیں، ادویات، اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروری سامان پہچائی جارہی ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ریسکیو، ریلیف سرگرمیوں اور متاثرین کے نقصانات کے معاوضوں کی ادائیگی کے لئے پی ڈی ایم اے کو ڈیڑھ ارب روپے جاری کئے گئے جبکہ سڑکوں اور دیگر انفراسٹرکچر کی بحالی کے لئے محکمہ مواصلات کو ڈیڑھ ارب روپے جاری کئے گئے ہیں۔
اسی طرح جاں بحق افراد کے لواحقین کو معاوضوں کی ادائیگی کے لئے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو 50 کروڑ روپے جاری کئے گئے ہیں، متاثرہ اضلاع میں فلڈ اور ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کرکے ریلیف اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن مکمل ہوگئی ہیں، اب ریلیف اور بحالی کا کام شروع ہے، ریلیف اور بحالی کے کاموں کے لئے وفاقی حکومت اور پاک فوج بھی معاونت کر رہے ہیں تاہم صوبے کی سول انتظامیہ تمام عمل کو لیڈ کر رہی ہے۔ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعلی علی امین گنڈاپور نے کہا کہ صوبائی حکومت مشکل کی اس گھڑی میں اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے، انہیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور ان کی بحالی و آبادکاری کے لئے تمام وسائل استعمال کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ان حادثات سے جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ اس ہنگامی صورتحال میں بروقت رسپانس دینے پر سول انتظامیہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہوں کہا کہ ہنگامی صورتحال میں صوبائی حکومت کے اداروں اور ضلعی انتظامیہ نے جس طرح سے بروقت رسپانس کیا ہے اور جس بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابل ستائش ہے،
ہماری سول انتظامیہ نے ثابت کردیا کہ وہ کسی بھی صورتحال سے موثر انداز میں نمٹنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے سول انتظامیہ پر زور دیا کہ اب وہ ریلیف اور بحالی کے کاموں میں بھی اسی جذبے سے کام کرے۔ وزیراعلی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ انتظامیہ تمام متاثرہ لوگوں تک رسائی کو پہلی ترجیح میں یقینی بنائے، اس مقصد کے لئے سب سے پہلے رابطہ سڑکوں کو بحال کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں اور فی الوقت جن علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہے وہاں پر ہیلی کاپٹر امداد پہنچانے کے لئے ہیلی کاپٹرز کا بندوبست کیا جائے، متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی اگلے دو دنوں کے اندر یقینی بنایا جائے، متاثرہ اضلاع میں ریلیف اور میڈیکل سرگرمیوں کے لئے ملحقہ اضلاع سے طبی عملے اور اہلکار بھیجے جائیں، متاثرہ آبادیوں کو خوراک کی کوئی کمی نہیں ہونی چاہیے اور اس مقصد کے لئے تمام وسائل استعمال میں لائے جائیں۔
انہوں نے مزید ہدایت کی چیف سیکرٹری اور پی ڈی ایم اے کی سطح پر ریلیف کی کاموں کی نگرانی کا موثر نظام وضع کیا جائے، بہتر ریلیف اور بحالی سرگرمیوں کے لئے وفاقی اداروں، ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت کے درمیان کوآرڈینیشن کو مزید بہتر بنایا جائے، سڑکوں اور دیگر انفراسٹرکچر کی بحالی کے لئے ہیوی مشینری کو موبیلائیز کیا جائے، فیلڈ میں ریلیف سرگرمیوں اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے الگ الگ ٹیمیں تشکیل دی جائیں، پی ڈی ایم اے کے پاس دستیاب تمام فوڈ اور نن فوڈ آئٹمز متاثرہ اضلاع کو بھیجی جائیں اور متعلقہ منتخب عوامی نمائندوں کی مشاورت ریلیف سرگرمیوں کو آگے بڑھایا جائے۔

