The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 5 September 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

صوبے کی تاریخ میں پہلی دفعہ ٹرانسپورٹ کے شعبے کیلئے ایک جامع پالیسی متعارف کرنے کا فیصلہ

Chitral Times

صوبے کی تاریخ میں پہلی دفعہ ٹرانسپورٹ کے شعبے کیلئے ایک جامع پالیسی متعارف کرنے کا فیصلہ

صوبے کی تاریخ میں پہلی دفعہ ٹرانسپورٹ کے شعبے کیلئے ایک جامع پالیسی متعارف کرنے کا فیصلہ

صوبے کی تاریخ میں پہلی دفعہ ٹرانسپورٹ کے شعبے کیلئے ایک جامع پالیسی متعارف کرنے کا فیصلہ

۔
پشاور ( نمائند ہ چترال ٹائمز ) خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کی تاریخ میں پہلی دفعہ ٹرانسپورٹ کے شعبے کیلئے ایک جامع پالیسی متعارف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ ٹرانسپورٹ پالیسی ملک میں دیگر صوبوں اور خیبر پختونخواکی پہلی پالیسی ہوگی جو کابینہ سے منظوری کے بعد باضابطہ طور پر نافذ کی جائے گی۔ڈرافٹ خیبرپختونخوا ٹرانسپورٹ پالیسی 2026 پر مختلف اداروں اور محکموں کے سٹیک ہولڈرز کا مشاورتی سیشن جمعہ کے روز پشاور کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا۔ جس میں وزیر اعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ سمیع اللہ خان نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ سیشن میں سیکرٹری ٹرانسپورٹ محمد ذبیر،منیجنگ ڈایریکٹر خیبرپختونخوا اربن موبیلٹی اتھارٹی افتخار احمد،چیف ایگزیکٹیو افیسر ٹرانز پشاور ڈاکٹر سید مرتضیٰ اصغر بخاری،سیکرٹری پراونشل ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور ڈایریکٹر ٹرانسپورٹ سمیت مختلف اداروں اور محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

سیشن میں شرکا نے ڈرافٹ پالیسی کے حوالے سے اپنی قیمتی ارا اور تجاوز فراہم کیں جبکہ پالیسی کے ڈیلنگ کنسلٹنٹ ڈاکٹر سید اختر علی شاہ نے پالیسی کے اہم خدوخال اور اغراض و مقاصد پر سیر حاصل پریزنٹیشن دی۔مشاورتی سیشن سے اپنے خطاب میں وزیر اعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی سمیع اللہ خان نے کہا کہ ٹرانسپورٹ پالیسی لانا اس صوبے کیلئے ایک اعزاز ہے جسکا سہرا محکمہ ٹرانسپورٹ کی پوری ٹیم کی مرعون منت ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ پالیسی اس صوبے کا ٹرانسپورٹ کے شعبے کیلئے بڑا کارنامہ ہے کیونکہ ملک میں کسی اور صوبے نے ٹرانسپورٹ پالیسی نہیں بنائی ہے اور نہ یہاں پر پہلے ٹرانسپورٹ پالیسی موجود تھی۔معاون خصوصی نے کہا کہ ہم ٹیم ورک کی شکل میں ٹرانسپورٹ شعبے کی بہتری کے لئے مزید بھی اچھے منصوبے لائیں گے جس میں لوگوں کی تجاویز و ارا کو شامل کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی چئیرمین عمران خان کی تین عشروں پر محیط محنت اور جدوجہد میں انھوں نے جو وژن ہمیں دیا ہے وہ عوام کی خدمت و بھلائی اور قوم کو اگے لانے کا ہے۔اس طرح وزیر اعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل افریدی کی قیادت میں اس شفاف وژن کے تحت لوگوں کی بھلائی کیلئے ہم ہمہ وقت کام کریں گے۔ معاون خصوصی نے مزید کہا کہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ہم کئی نئے منصوبے لا رہے ہیں۔ سرکلر ریلوے منصوبے کے حوالے سے وفاقی وزارت ریلوے کیساتھ ایم او یو ہوا ہے۔ اسطرح الیکٹرک بائکس کا منصوبہ متعارف کیا جارہا ہے جس کے تحت خواتین اور بچییوں کو امدورفت اور تعلیمی اداروں وغیرہ کو انے جانے کیلئے سہولت ملے گی۔

اس منصوبے کے حوالے سے پشاور میں شروعات کیلئے تیاری مکمل ہے جبکہ ائندہ فیز میں اسے صوبے کے دیگر علاقوں تک لے جایا جا گا۔ انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے میں گرین ٹرانسپورٹ پر کام کررہی ہے جبکہ پشاور شہر کیلئے ٹرانسپورٹ ماسٹر پلان دے رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ڈویژنل ہیڈکوارٹرز کی فیزیبیلٹی سٹڈی میں گرین انرجی کا منصوبہ ڈالا جا رہا ہے۔معاون خصوصی نے کہا کہ متعارف کرنے والی ٹرانسپورٹ پالیسی 2026 پانی کا پہلا قطرہ ہے اور اس میں صوبے کے ضروریات و ترجیہات کے پیش نظر بہتری لائی جائے گی۔

اس پالیسی کے ثمرات سے عوام مستفید ہوں گے اور بانی چئیرمین عمران خان کے وژن کے تحت عوام کو ہر ممکن سہولت فراہم کریں گے۔ سیکرٹری ٹرانسپورٹ محمد ذبیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ پالیسی کا مطلب ایک روڈ میپ فراہم کرنا ہوتا ہے کہ اپنے طے شدہ مقاصد کو کیسے حاصل کرنا ہے۔انھوں نے کہا کہ وزیر اعلی خیبرپختونخوا نے ٹرانسپورٹ پالیسی بنانے کی ہدایت کی تھی اس کے نتیجے میں یہ ٹاسک پورا کیا۔ اب انکی ہدایت کے مطابق الیکٹرک وہیکلز پالیسی پر کام کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ اس پالیسی کا بنیادی مقصد معاشرے کے ہر سگمنٹ کو محفوظ اور ایکسیسبل ٹرانسپورٹ فراہم کرنا ہے۔خیبر پختونخوا ٹرانسپورٹ پالیسی کا مقصد صوبے میں ایک محفوظ، قابلِ رسائی، مؤثر اور پائیدار ٹرانسپورٹ نظام کا قیام ہے، جس کے ذریعے عوام اور اشیاء کی نقل و حمل کو بہتر بنایا جا سکے۔پالیسی کا مقصد سڑکوں پر حادثات میں کمی، محفوظ اور معیاری ٹرانسپورٹ نظام کا فروغ، اور سستی و جامع عوامی سفری سہولیات کی فراہمی ہے، جس میں خواتین، خصوصی افراد اور محروم طبقات کی ضروریات کو مدنظر رکھا جائے گا۔

اس کے علاوہ مختلف ذرائع آمدورفت کے درمیان رابطوں کو مضبوط بنایا جائے گا۔ پالیسی کے تحت مال برداری، لاجسٹکس اور تجارتی سرگرمیوں کو بہتر بنانے کے لیے جدید انفراسٹرکچر، بہتر رابطہ کاری، مؤثر ضابطہ کاری اور علاقائی تجارتی راہداریوں کو فروغ دیا جائے گا۔مزید برآں، ٹرانسپورٹ اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری، ڈیجیٹل نظام، شفاف حکمرانی اور مؤثر نگرانی کے ذریعے شعبہ ٹرانسپورٹ کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ سیشن سے منیجنگ ڈائریکٹر خیبرپختونخوا اربن موبیلٹی اتھارٹی افتخار احمد، چیف ایگزیکٹو افیسر ٹرانز پشاور نے بھی خطاب کیا۔