خیبرپختونخوا میں اضلاع کی سطح پر”سٹیٹس آف ویمن” کمیٹیوں کا قیام، صوبے کے 26 اضلاع میں قائم کی گئی سٹیٹس آف ویمن کمیٹیوں کی چیئرپرسنز کی نامزدگی کے باضابطہ نوٹیفیکیشنز جاری
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نےصوبہ بھر میں جاری فلاحی اقدامات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل ویلفیئر ہمارے قائد عمران خان کا پسندیدہ شعبہ ہے اور ہم ان کے وژن “عوام کا احساس” کے تحت سماجی بہبود کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔وہ خیبرپختونخوا میں اضلاع کی سطح پر “سٹیٹس آف ویمن” کمیٹیوں کے قیام کی افتتاح کی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی ثریا بی بی، سیکرٹری سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ شریف حسین، خیبرپختونخوا کمیشن برائے سٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس، ضلعی افسران، ضلع کی سطح پر کمیٹیوں کیلئے نامزد چیئر پرسنز اور دیگر متعلقہ حکام نے تقریب میں شرکت کی ۔ اس موقع پر صوبے کے 26 اضلاع میں قائم کی گئی سٹیٹس آف ویمن کمیٹیوں کی چیئرپرسنز کی نامزدگی کے باضابطہ نوٹیفیکیشنز جاری کئے گئے۔
وزیراعلیٰ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس اقدام کو خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ حکومت دارالامانوں، شیلٹر ہومز، “کوئی بھوکا نہ سوئے”، احساس کفالت اور دیگر فلاحی پروگراموں کو مزید موثر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ “زمنگ کور” ان کے دل کے بہت قریب ہے جو بے سہارا بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے ایک مثالی ادارہ ہے۔وزیراعلیٰ نے محکمہ سوشل ویلفیئر کو ہدایت کی کہ وہ صوبے میں جاری فلاحی اقدامات کو مزید وسعت دینے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے، حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔انہوں نے نامزد چیئرپرسنز کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھائیں اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ محمد سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ خواتین نے ہمیشہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور حکومت انہیں مزید بااختیار بنانے کے لیے پرعزم ہے۔وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خواتین کو اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ ہر چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکیں اور معاشرے کی فلاح و ترقی میں مزید موثر کردار ادا کریں۔
..
.

ڈرون حملوں اور ان کے شہری آبادی پر اثرات پر غور کے لیے خیبرپختونخوا اسمبلی کا خصوصی اجلاس
۔
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) ڈرون حملوں اور ان کے شہری آبادی پر اثرات پر غور کے لیے خیبرپختونخوا اسمبلی کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ڈرون حملوں سے متعلق صوبائی حکومت کے موقف، تحفظات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مفصل اظہار خیال کیا۔ وزیر اعلیٰ نے صوبے کو موجودہ حالات سے نکالنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مشکلات اصولی قیادت کو متزلزل نہیں کر سکتیں، اور جن کے ارادے مضبوط اور مقصد واضح ہو، وہ چیلنجز کے سامنے پسپا نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی قیادت کا امتحان پرسکون حالات میں نہیں بلکہ بحران کے وقت ہوتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ یہ اجلاس خاص طور پر ڈرون حملوں کے مسلسل مسئلے پر بلایا گیا ہے، جو گزشتہ دو دہائیوں سے جاری ہیں۔ انہوں نے پارٹی قیادت، بالخصوص عمران خان کے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ملٹری آپریشنز اور ڈرون حملے پیچیدہ سکیورٹی مسائل کا پائیدار حل نہیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات سے بے گناہ شہریوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے بجائے اس میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے انسانی پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جسے پالیسی کی زبان میں “کولیٹرل ڈیمیج” کہا جاتا ہے، درحقیقت وہ معصوم جانوں کا ضیاع ہے جن میں بچے، والدین اور خاندان کے دیگر افراد شامل ہوتے ہیں۔ انہوں نے پالیسی سازی کے عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فیصلے بند کمروں میں کیے جاتے ہیں اور متاثرہ عوام کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا، جبکہ خیبرپختونخوا بارہا ان پالیسیوں کا بوجھ اٹھا چکا ہے اور اب بھی اسی صورتحال کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈرون حملے زیادہ تر قبائلی علاقوں میں عام شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں اور سوال اٹھایا کہ ایسے حملے کبھی ہائی سکیورٹی زونز یا اشرافیہ کے علاقوں میں کیوں نہیں ہوتے۔
انہوں نے اس صورتحال کو ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ زمینی حقائق سے لاتعلقی کی عکاسی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ 22 سال سے جاری ان پالیسیوں کے باوجود نہ امن آیا، نہ ترقی ہوئی اور نہ ہی استحکام حاصل ہوا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات سے ردعمل اور انتقام کا سلسلہ بڑھتا ہے کیونکہ متاثرہ خاندانوں میں غم و غصہ جنم لیتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ایکشنز اِن ایڈ آف سول پاور کے قانونی فریم ورک کا حوالہ دیتے ہوئے اسے “کالا قانون” قرار دیا اور واضح کیا کہ صوبائی حکومت اس قانون کو واپس لینے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس فیصلے کے بعد متعلقہ حکام کو کئی بار باضابطہ خطوط ارسال کیے گئے جن میں اس قانون کے تحت حراست میں لیے گئے تقریباً 970 افراد کی مکمل اور تصدیق شدہ فہرست طلب کی گئی، تاہم آج تک یہ فہرست صوبائی اسمبلی کو فراہم نہیں کی گئی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ شفافیت نہ ہونے کی صورت میں اس بات کا خدشہ ہے کہ بعد میں یہ بیانیہ بنایا جائے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے دہشت گردوں کی رہائی میں کردار ادا کیا۔ قانون سازی کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے ایوان کو بتایا کہ ڈرون حملوں کے خلاف قانونی راستوں پر مشاورت کی گئی ہے، تاہم آئینی تحفظات کے باعث براہ راست کارروائی میں رکاوٹیں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کولیٹرل ڈیمیج کے معاملے پر قانون سازی ممکن ہے اور اس کے لیے حکومت اور اپوزیشن کو ایک مشترکہ موقف اپنانا ہوگا۔ سیاسی ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تمام جماعتوں کے اراکین اس بات پر متفق ہیں کہ صوبے کے عوام کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ متعلقہ سکیورٹی کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے تاکہ ایک واضح اور متفقہ لائحہ عمل ترتیب دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی کا تصور یکساں ہونا چاہیے، اگر بڑے شہروں اور حساس اداروں میں افراد محفوظ ہیں تو قبائلی علاقوں کے عوام کو بھی وہی تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے ہر قسم کی سیاسی اور ذاتی قربانی دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
گورننس کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے نشاندہی کی کہ بعض مواقع پر منتخب نمائندوں کے ساتھ چیک پوسٹس پر نامناسب رویہ اختیار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری اداروں کے وقار کا تحفظ ضروری ہے اور اس ضمن میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ سی این جی گیس کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا تقریباً 400 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کر رہا ہے جبکہ اس کی اپنی کھپت تقریباً 150 ایم ایم سی ایف ڈی ہے، جس سے واضح ہے کہ صوبہ قومی گرڈ میں نمایاں حصہ ڈال رہا ہے۔ انہوں نے سی این جی اسٹیشنز کی بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ناانصافی قرار دیا۔ انہوں نے آئینی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قدرتی وسائل پر پہلا حق متعلقہ صوبے کا ہوتا ہے اور اسے اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد ہی اضافی وسائل وفاق کو دینے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے گی اور اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو عوام کے مفاد میں مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ ڈرون حملوں کے معاملے پر مزید مشاورت کے لیے ہفتہ کے روز ایک گرینڈ قبائلی جرگہ منعقد کیا جائے گا، جس میں حکومت و اپوزیشن کے اراکین اور قبائلی عمائدین کو مدعو کیا گیا ہے تاکہ مشترکہ حکمت عملی ترتیب دی جا سکے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تمام فیصلے عوامی مفاد، صوبے کی فلاح اور قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔ انہوں نے اتحاد، عزم اور ثابت قدمی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ وہ ہر مرحلے پر اسمبلی اور عوام کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
