وزیر قانون کی زیر صدارت اجلاس، چترال ارندو گول اور کوہستان میں غیر قانونی طور پر کاٹی گئی قیمتی لکڑی کے تصرف کے حوالے سے تفصیلی جائزہ
۔
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) خیبر پختونخوا کے وزیر قانون ، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم نے کہا کہ صوبائی حکومت قانون کی حکمرانی، شفافیت اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مفاد سے متعلق تمام معاملات کو قانون اور آئین کے مطابق حل کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کابینہ کی تشکیل کردہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وزیر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان ، مشیر برائے جنگلات و ماحولیات پیر مصور خان غازی ، مشیر خزانہ مزمل اسلم نے زوم کے ذریعے شرکت کی جبکہ سیکرٹری محکمہ بلدیات،سیکرٹری محکمہ جنگلات و ماحولیات، ایڈووکیٹ جنرل آفس، محکمہ خزانہ، محکمہ داخلہ، محکمہ جنگلات، محکمہ ریلیف و سول ڈیفنس، محکمہ ٹرانسپورٹ اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔
اجلاس میں پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایکٹ 2017 اور اربن ایریاز ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایکٹ 2020 میں مجوزہ ترامیم کے حوالے سے کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی سفارشات کا بھی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں پلاٹ الاٹمنٹ پالیسی سے متعلق معاملات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ سابقہ پشاور اربن ڈویلپمنٹ بورڈ (PUDB) کی 1989 کی پالیسی کے تحت ہر ہاؤسنگ اسکیم میں ملازمین کے لیے دو فیصد کوٹہ مختص کیا گیا تھا، جس کے لیے کم از کم دو سالہ تسلی بخش سروس کی شرط رکھی گئی تھی۔ بعد ازاں 2016 میں اس شرط میں ترمیم کرتے ہوئے مدت کو ایک سال تک محدود کیا گیا، تاہم پشاور ہائی کورٹ نے مذکورہ ترمیم کو کالعدم قرار دے دیا۔
اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے معاملے کی تحقیقات اور جائزے کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی، جس کے بعد عدالتی احکامات کی روشنی میں کمیٹی قائم کی گئی۔ کابینہ کمیٹی نے اس حوالے سے قانونی، انتظامی اور پالیسی پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ محکموں کو قواعد و ضوابط اور عدالتی فیصلوں کے مطابق آئندہ لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایت کی۔ ایڈووکیٹ جنرل آفس اور متعلقہ اداروں نے عدالت عالیہ میں زیر سماعت مقدمے کے تناظر میں قانونی نکات سے آگاہ کیا۔ کمیٹی نے شہری منصوبہ بندی، گورننس اور ادارہ جاتی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے متوازن اور قابل عمل قانونی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس میں مختلف اہم قانونی، انتظامی اور پالیسی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے خیبر پختونخوا اور چین کلچرل سینٹر کے قیام کے لیے اراضی کی فراہمی سے متعلق تجویز پر غور کیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اس منصوبے سے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی روابط کو مزید فروغ ملے گا اور صوبے میں ثقافتی و تعلیمی سرگرمیوں کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ کمیٹی نے متعلقہ محکموں کو قانونی و انتظامی تقاضے مکمل کرکے سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی۔
کمیٹی نے چترال کے ارندو گول جنگلات سے غیر قانونی طور پر لکڑی کی نکاسی کی روک تھام اور اس حوالے سے مؤثر نفاذی نظام کے قیام پر بھی غور کیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ جنگلاتی وسائل کے تحفظ کے لیے مختلف اقدامات جاری ہیں تاہم بین المحکمہ جاتی رابطے اور نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ کمیٹی نے متعلقہ اداروں کو جامع حکمت عملی مرتب کرنے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
سول ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ کے انتظامی ڈھانچے اور اسے محکمہ داخلہ و قبائلی امور کے تحت مؤثر انداز میں فعال بنانے کے معاملے پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ادارے کی استعداد کار میں اضافے اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے اس کے انتظامی و مالیاتی امور کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ضروری ہے۔ کمیٹی نے اس ضمن میں جامع سفارشات تیار کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں پشاور کینٹونمنٹ بورڈ کے ساتھ بی آر ٹی منصوبے سے متعلق مالی معاملات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ حکام نے کمیٹی کو پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ باہمی مشاورت کے ذریعے زیر التوا امور کے حل کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ تمام واجبات اور مالی معاملات کو قانونی تقاضوں اور عوامی مفاد کے مطابق جلد از جلد نمٹانے کے لیے قابل عمل لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔وزیر قانون نے اس موقع پر متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں اور سفارشات پر مقررہ مدت میں عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو بہتر طرز حکمرانی اور مؤثر خدمات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔
