خیبرپختونخوا حکومت کا انقلابی اقدام، جامعات کے پنشنرز کے لیے 3.6 ارب روپے کے میگا فنڈز جاری
یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنوں کی سینیٹ نے حکومتی وژن کو سراہتے ہوئے اعترافی قرارداد منظور کرلی
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) حکومت خیبرپختونخوا نے اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور جامعہ پنشنرز کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے صوبے کی سرکاری جامعات کے لیے پنشنرز لائبلیٹیز کی مد میں 3.6 ارب روپے کے میگا فنڈز جاری کر دیے ہیں۔ اس غیرمعمولی پیش رفت پر یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنوں کی سینیٹ نے حالیہ اجلاس میں ایک اعترافی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور وزیر برائے اعلیٰ تعلیم، آرکائیوز و لائبریریز مینا خان آفریدی کے علم دوست وژن اور عملی اقدامات کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حکومت نے اعلیٰ تعلیم تک آسان رسائی اور جامعات کو مالی مشکلات سے نکالنے کے لیے متعدد اہم اور پائیدار اقدامات اٹھائے ہیں، جن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
اپنے آفس سے جاری ایک اخباری بیان میں وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے کہا کہ ہم خیبرپختونخوا کی تمام جامعات کے پنشنرز لائبلیٹیز کو ختم کر رہے ہیں تاکہ ہمارے اساتذہ اور سابقہ ملازمین کو اُن کا جائز حق بروقت ملے۔ صوبے میں اعلیٰ تعلیم کا فروغ ہماری اولین ترجیح ہے، اور اس ضمن میں تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جامعات کے چانسلر اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے صوبے کی جامعات کی ترقی کو اپنی حکومتی پالیسی کا حصہ بنایا ہے، اور ہم ان کی قیادت میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو ایک نئے دور میں داخل کر رہے ہیں۔مینا خان آفریدی نے یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنوں کی سینیٹ کی جانب سے اعترافی قرارداد منظور کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعتراف حکومت کی درست سمت میں کی جانے والی پالیسیوں کا مظہر ہے۔
