خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے افغانستان کے زلزلہ متاثرین کے لیے امدادی سامان روانہ کردیا گیا
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی خصوصی ہدایات پر پختونخوا حکومت کی جانب سے افغانستان کے زلزلہ متاثرین کے لیے امدادی سامان روانہ کردیا گیا۔ منگل کے روز وزیر اعلی کے معاون خصوصی برائے ریلیف نیک محمد خان، چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ اور دیگر حکام نے 35 ٹرکوں پر مشتمل امدادی سامان پشاور میں تعینات افغان قونصل جنرل حافظ محب اللہ شاکر کے حوالے کردیا۔ امدادی سامان میں 500 ونٹرائز ٹینٹس، 500 فیملی سائز ٹینٹس، 1000 ترپال، 1500 گدے، 3000 تکیے، 1500 رضائیاں اور 500 کمبل شامل شامل ہیں۔ امدادی سامان میں دو ٹرکوں پر مشتمل ضروری ادویات بھی شامل ہیں۔ یہ سامان زلزلہ متاثرہ خاندانوں کی فوری ضروریات پوری کرنے اور انہیں موسم کی سختیوں سے بچانے کے لیے فراہم کیا گیا ہے۔ اس موقع پر حکام نے صوبائی حکومت کی طرف سے افغانستان میں زلزلے سے جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔
افغان قونصل جنرل محب اللہ شاکر نے امدادی سامان کی فراہمی پر افغان حکومت کی طرف سے حکومتِ خیبر پختونخوا خصوصا وزیر اعلی علی امین گنڈاپور کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
اس سلسلے میں اپنے ایک بیان میں وزیر اعلی علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور صوبے کے عوام اپنے افعان بہن بھائیوں کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں اور صوبائی حکومت اس مشکل گھڑی میں اپنے متاثرہ خاندانوں اور افغان حکومت کی ہر ممکن مدد کرے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپورکا صوبے میں حالیہ بارشوں کے بعد ڈینگی کے پھیلنے کے خدشے کے پیش نظر فوری نوٹس لیتے ہوئے تمام متعلقہ محکموں کو ہنگامی بنیادوں پر انسداد ڈینگی اقدامات شروع کرنے کی ہدایت
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے صوبے میں حالیہ بارشوں کے بعد ڈینگی کے پھیلنے کے خدشے کے پیش نظر فوری نوٹس لیتے ہوئے تمام متعلقہ محکموں کو ہنگامی بنیادوں پر انسداد ڈینگی اقدامات شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کی جانب سے تمام ڈویژنل کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ محکموں کو مراسلہ ارسال کردیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بارشوں کے بعد کھڑا پانی ڈینگی مچھر کی افزائش کا باعث بن رہا ہے لہٰذا فوری طور پر صفائی اور انسداد ڈینگی مہم شروع کی جائے۔ اس مہم میں پبلک مقامات، تعمیراتی مقامات، مارکیٹس، اسکولوں، سرکاری دفاتر اور نالیوں میں کھڑے پانی کی نکاسی پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔مراسلے میں محکمہ صحت کو ہسپتالوں میں پیشگی انتظامات کرنے اور ڈینگی کے مریضوں کے علاج معالجے کے لئے ادویات، تشخیص اور دیگر سہولیات کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ صوبہ بھر میں ڈینگی کیسز کی موثر نگرانی اور بروقت رپورٹنگ کے لئے مربوط نظام وضع کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
اسی طرح بلدیاتی اداروں کو تمام حساس علاقوں میں باقاعدگی سے اسپرے اور لاروا کش اقدامات یقینی بنانے کا پابند بنایا گیا ہے۔مزید برآں محکمہ اطلاعات کو محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے بڑے پیمانے پر آگاہی مہم شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ شہریوں کو ڈینگی سے بچاو کے طریقہ کار سے مکمل طور پر آگاہ کیا جا سکے۔ اس مقصد کے لئے پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا سمیت ہر پلیٹ فارم کا موثر استعمال کیا جائے گا۔ شہریوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ اپنے گھروں اور محلوں میں کھڑے پانی کی نکاسی کریں، پانی کی ٹینکیوں کو ڈھانپ کر رکھیں اور احتیاطی تدابیر کے طور پر مچھر دانی، ریپیلنٹ اور حفاظتی لباس کا استعمال کریں۔ اس سلسلے میں مساجد، اسکولوں اور مقامی عمائدین کے ذریعے کمیونٹی کو متحرک کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ ڈینگی سے بچاو اجتماعی ذمہ داری ہے اور اس ضمن میں تمام محکمے عوام کو آگاہ کرنے اور موثر عملی اقدامات اٹھانے کے ذمہ دار اور جواب دہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام کمشنرز ڈینگی بچاو کے اقدامات، اسپتالوں کی تیاری اور آگاہی مہم پر ہفتہ وار رپورٹ جمع کرائیں تاکہ انسداد ڈینگی مہم کو موثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سے پاکستان میں تعینات جرمن سفیر اینا لیپل کی اسلام آباد میں ملاقات
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سے پاکستان میں تعینات جرمن سفیر اینا لیپل نے منگل کے روز اسلام آباد میں ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور خصوصی طور پر صوبے میں جرمن اداروں کے تعاون سے جاری عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں مختلف سماجی شعبوں میں اشتراک کار اور تعاون کے دائرے کو وسیع کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ ایم این اے فیصل امین گنڈاپور، محکمہ جنگلات کے اعلی حکام اور جرمن سفارتخانے کے دیگر حکام بھی ملاقات میں موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے جرمن سفیر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت سماجی شعبوں میں جرمن اداروں کے تعاون اور اشتراک کار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، ہم پوٹینشل شعبوں میں جرمن حکومت کے مزید تعاون کے خواہاں ہیں، ہم اپنی آمدن بڑھانے کے لئے پوٹینشل سیکٹرز میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور بین الاقوامی اداروں سے بھی انہی شعبوں میں مزید تعاون کی توقع رکھتے ہیں۔
وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ صوبے کو امن و امان اور کلائمیٹ چینج جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، صوبائی حکومت کلائمیٹ چینج کے اثرات سے نمٹنے کے لئے متعدد منصوبوں پر کام کررہی ہے، سیلاب کے نقصانات کو کم کرنے کے لئے چھوٹے ڈیموں اور واٹر شیڈز کے منصوبوں پر کام جاری ہے، صوبائی حکومت کو اس شعبے میں بین الاقوامی تعاون درکار ہے۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ جنگلات کے تحفظ اور ان کی سائینٹفک مینجمنٹ کے لئے جرمن اداروں کی تکنیکی معاونت کی ضرورت ہے،خصوصی طور پر جنگلات کے تحفظ اور فروغ کے لئے فارسٹ انسٹیٹیوٹ کو جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور عملے کو جدید تربیت فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
اسی طرح وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جنگلات کے تحفظ کے لئے پہاڑی علاقوں میں ایندھن کے متبادل ذرائع کی فراہمی ضروری ہے، اس شعبے میں صوبائی حکومت اور جرمن اداروں کے درمیان اشتراک کار کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ جنگلات کی غیر قانونی کٹائی اور ٹمبرز کی غیر قانونی نقل و حمل کو روکنے کے لئے جی پی ایس ٹیکنالوجی اور کیٹیلاگنگ کا استعمال کر رہے ہیں، صوبائی حکومت اس مقصد کے لئے فارسٹ فورس کے قیام پر بھی کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے اقدامات کے نتیجے میں صوبے میں جنگلی حیات کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔مزید برآں اس سلسلے میں فارسٹ مینجمنٹ سسٹم کا بھی اجراءکردیا گیا ہے۔
علی امین گنڈاپور نے دیگر اہم اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ موجود صوبائی حکومت سرکاری امور میں شفافیت اور عوامی خدمات کی بہتر فراہمی کے لئے ای گورننس کے شعبے میں اقدامات اٹھا رہی ہے، اب تک صوبائی حکومت نے 37 مختلف عوامی خدمات کو ڈیجیٹائز کردیا ہے، اگلے چھ مہینوں میں 76 خدمات کو ڈیجیٹائز کیا جائے گا، صوبائی کابینہ اجلاسوں اور سمریوں کو پیپر لیس کردیا گیا ہے۔ جرمن سفیر نے اس موقع پر اپنی گفتگو میں کہا کہ جرمن حکومت خیبر پختونخوا میں مختلف شعبوں میں عوامی فلاح و بہبود کے کام کر رہی ہے،ان شعبوں میں ماحولیات، صحت، سماجی تحفظ، قابل تجدید توانائی، فنی تربیت، معاشی ترقی، گورننس اور دیگر شامل ہیں۔ اینا لیپل نے کلائمیٹ چینج کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے صوبائی حکومت کے بلین ٹری پراجیکٹ کو ایک بہترین منصوبہ قرار دیا اور کہا کہ ماحولیات اور جنگلات کے تحفظ کے شعبے میں جرمن اور صوبائی حکومت اشتراک کار کو مزید وسعت دے سکتے ہیں۔
