وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں پہلے سو دنوں کی کارکردگی رپورٹ جاری
پشاور(نمائندہ چترال ٹائمز ) چیئرمین عمران خان کے وژن کے تحت وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں حکومت کے پہلے 100 دنوں کے دوران صحت، سماجی تحفظ اور اقلیتی فلاح کو ترجیحی بنیادوں پر فروغ دیا گیا، تاکہ ریاستی نظام کے ثمرات براہِ راست عام آدمی تک پہنچ سکیں۔ صوبائی حکومت نے ان شعبوں میں متعدد عملی اقدامات کرتے ہوئے عوامی ریلیف کو یقینی بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
جاری پریس ریلیز کے مطابق صحت کے شعبے میں 710 بنیادی و دیہی مراکز صحت میں ایمرجنسی زچگی اور نوزائیدہ سہولیات کو بہتر بنایا گیا، جبکہ 80 میٹرنل ہیلتھ سینٹرز کو فعال کیا گیا۔ سیلاب سے متاثرہ 89 طبی مراکز کی بحالی مکمل کی گئی اور محکمہ صحت میں ڈیش بورڈز کے ذریعے جدید مانیٹرنگ سسٹم قائم کیا گیا تاکہ خدمات کی مؤثر نگرانی ممکن ہو سکے۔
صحت کارڈ پروگرام کو مزید وسعت دیتے ہوئے 2 لاکھ 12 ہزار شہریوں کو رجسٹر کیا گیا، جبکہ 59 نئے ہسپتال اس پروگرام میں شامل کیے گئے۔ پروگرام کے تسلسل کے لیے 10 ارب 40 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔
ادویات کی دستیابی کے حوالے سے 90 میں سے 87 ضروری ادویات کی فراہمی یقینی بنائی گئی۔ ادویات کی جانچ کا دورانیہ 100 دن سے کم کر کے 20 دن کر دیا گیا۔ کینسر کے مریضوں کے لیے 140 ملین روپے کی ادویات فراہم کی گئیں۔ صوبے میں 78 جین ایکسپرٹ مشینوں کے ذریعے 40 ہزار سے زائد ٹی بی اسکریننگ کی گئی، جبکہ ڈینگی ایکشن پلان کو دوبارہ فعال کرتے ہوئے ضلعی سطح پر کارروائیاں شروع کی گئیں۔
سماجی تحفظ کے شعبے میں ایک لاکھ 29 ہزار ورکرز کو ای-کارڈ کے ذریعے طبی سہولت فراہم کی گئی۔ صنعتی مزدوروں کے لیے 2,256 رہائشی فلیٹس الاٹ کیے گئے، 876 خاندانوں کو شادی و وفات گرانٹس دی گئیں اور 2,666 کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیا گیا۔
اقلیتی برادریوں کی فلاح کے لیے 772 طلبہ کو 81 ملین روپے کے وظائف فراہم کیے گئے، 300 ملین روپے کے اوقاف فنڈز قائم کیے گئے اور دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کے لیے 200 ملین روپے مختص کیے گئے۔ کیلاش کمیونٹی کے لیے 100 ملین روپے کا اینڈومنٹ فنڈ قائم کیا گیا، عبادت گاہوں کی بحالی پر 500 ملین روپے خرچ کیے گئے جبکہ 11 اضلاع میں قبرستانوں کے لیے 50 ملین روپے فراہم کیے گئے۔ مدارس میں ہنر مندی پروگرامز اور لائبریریوں کے قیام کے لیے 253.7 ملین روپے کی سرمایہ کاری بھی کی گئی۔
صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں حکمرانی کو ایک جامع فلاحی ماڈل کی صورت دی جا رہی ہے، جس کا مقصد صحت، روزگار، تعلیم اور مذہبی ہم آہنگی کے ذریعے ایک باوقار اور بااختیار معاشرے کی تشکیل ہے۔
