The Voice of Chitral since 2004
Friday, 26 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

حکومت صوبے کے پیداواری شعبوں کی بحالی، پسماندہ علاقوں کی ترقی اور علاقائی عدم توازن کے خاتمے کے لیے ایک جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔  وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

Chitral Times

حکومت صوبے کے پیداواری شعبوں کی بحالی، پسماندہ علاقوں کی ترقی اور علاقائی عدم توازن کے خاتمے کے لیے ایک جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔  وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

حکومت صوبے کے پیداواری شعبوں کی بحالی، پسماندہ علاقوں کی ترقی اور علاقائی عدم توازن کے خاتمے کے لیے ایک جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔  وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

حکومت صوبے کے پیداواری شعبوں کی بحالی، پسماندہ علاقوں کی ترقی اور علاقائی عدم توازن کے خاتمے کے لیے ایک جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔  وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

۔

پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبائی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری پر تمام اسٹیک ہولڈرز، وزیر خزانہ، مشیر خزانہ اور ان کی ٹیم، حکومتی و اپوزیشن اراکین اسمبلی کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال صوبے کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کا سال ثابت ہوگا اور حکومت عوامی فلاح و بہبود، پائیدار ترقی اور معاشی استحکام کے اہداف کے حصول کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا ہم سب کاصوبہ ہے اور صوبے کے مفادات کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صوبے کے پیداواری شعبوں کی بحالی، پسماندہ علاقوں کی ترقی اور علاقائی عدم توازن کے خاتمے کے لیے ایک جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے اربوں روپے وفاق کے ذمہ واجب الادا ہیں جبکہ این ایف سی شیئر سمیت دیگر آئینی و قانونی حقوق کی مکمل ادائیگی نہیں کی جا رہی جس سے ترقیاتی منصوبے متاثر ہوتے ہیں۔

محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت نے محدود وسائل کے باوجود مالی نظم و ضبط کو بہتر بنایا ہے اور ٹیکس وصولیوں کو 66 ارب روپے سے بڑھا کر 129 ارب روپے تک پہنچایا ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ نئے مالی سال میں محصولات میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مثبت اور تعمیری تنقید کا خیرمقدم کرتی ہے تاہم وفاق میں اقتدار رکھنے والوں کو دوسروں پر تنقید کے بجائے اپنی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔وزیراعلیٰ نے ملکی معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے دور حکومت میں جی ڈی پی گروتھ کی شرح 6.1 فیصد تھی جو بعد ازاں مسلسل کم ہوتی گئی۔اس وقت ملک میں آبادی کی شرح نم2.5 فیصد جبکہ جی ڈی پی گروتھ تین فیصد ہے ،وفاق کے پاس اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے کوئی پالیسی نہیں، ان کے پاس ایک ہی فارمولا ہے کے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھا دی جائے انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے موثر پالیسی سازی کی ضرورت ہے جبکہ بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ اور معاشی مشکلات عوام کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

انہوں نے خیبر پختونخوا کے بجٹ کے خدوخال کا ذکر کرتے ہوے کہا کہ نئے بجٹ میں تمام ترجیحی شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے اور پشاور، مردان، ہزارہ سمیت مختلف ریجنز کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکجز رکھے گئے ہیں۔ صوبے کے ترقیاتی بجٹ کو 195 ارب روپے سے بڑھا کر 235 ارب روپے تک کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پشاور ری وائیٹلائزیشن پلان کو نئے مالی سال میں مکمل کیا جائے گا جبکہ امن و امان کے قیام کے لیے پولیس فورس کی استعداد کار بڑھانے کی غرض سے خطیر وسائل مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیم، صحت اور انسانی ترقی کے شعبوں میں بھرپور سرمایہ کاری کر رہی ہے اور تمام اضلاع کو ان کا جائز حق دیا جائے گا۔ ترقیاتی منصوبوں کی موثر تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے وہ خود بھی نگرانی کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے ڈی آئی خان موٹروے، دیر موٹروے اور سوات موٹروے کو صوبائی حکومت کے اہم اور ترجیحی منصوبے قرار دیا۔محمد سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ 60 سال یا اس سے زائد عمر کے مردوں اور خواتین کے لیے بزرگ کارڈ متعارف کرایا جا رہا ہے جس کے تحت وہ بی آر ٹی میں مفت سفر کر سکیں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جلد ہی جوندون کارڈ بھی متعارف کرایا جائے گا جو صوبے کے عوام کے لیے ایک اہم فلاحی اقدام ہوگا۔

وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت پر بعض اہم منصوبوں میں عدم تعاون کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کچ ہسپتال، ناردرن بائی پاس روڈ، کالام روڈ، ضم اضلاع کے ترقیاتی فنڈز اور سی آر بی سی منصوبے جیسے معاملات میں وفاق اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنے وسائل بروئے کار لا کر عوامی مفاد کے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع اور جنوبی اضلاع کی ترقی حکومت کی خصوصی ترجیحات میں شامل ہے اور روخانہ قبائل پیکج سمیت مختلف پروگراموں کے ذریعے ان علاقوں میں سرمایہ کاری کی جائے گی تاکہ وہاں کے عوام کو ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

سیاسی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے عوام نے مسلسل تیسری مرتبہ پاکستان تحریک انصاف کو مینڈیٹ دیا ہے جو حکومت کی کارکردگی پر عوام کے اعتماد کا اظہار ہے۔ انہوں نے عمران خان، ان کی اہلیہ اور جیل میں قید دیگر پارٹی قائدین کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام جمہوری اور قانونی راستے اختیار کرنے کے باوجود ملاقاتوں اور قانونی حقوق کی فراہمی میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ اب ہمارے پاس احتجاج کے علاوہ کون سا راستا باقی رہ جاتا ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ جہاں رات کے بارہ بارہ بجے بھی عدالتیں لگائی گئیں مگر دوسری طرف عمران خان کے مقدمات اب بھی التوا کا شکار ہے۔ہم حکومت کے پاس گئے عدالتوں کے چکر لگائیں مگر عمران خان سے ملاقات تک نہیں کرائی گئی۔ہم اپنا قانونی اور ائینی حق استعمال کرتے ہوے احتجاج کرے تو بھی معصوم شہری ظلم کا نشانہ بنتے ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا ” ہم تو برداشت کر رہے ہیں، مگر اتنا ظلم کرے جتنا خود برداشت کر سکے کیونکہ حالات بدلتے رہتے ہیں، ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔