خیبر پختونخوا کا تعلیمی المیہ: نئی داخلہ مہم یا اعترافِ ناکامی؟ – تحریر: قریش خٹک
.
خیبر پختونخوا میں تعلیم کا بیانیہ ایک دہائی سے تضادات میں گھرا ہوا ہے۔ اقتدار کے ایوانوں میں تعلیمی ایمرجنسی، گورننس روڈ میپ اور ’ڈیلیورولوجی‘ جیسے دلکش نعرے گونجتے ہیں، مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے: اس وقت 49 لاکھ سے زائد بچے اب بھی سکول سے باہر ہیں۔ یہ محض ایک عدد نہیں بلکہ ایک خاموش بحران ہے جو صوبے کے مستقبل کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔
صوبائی چیف سیکرٹری کی سربراہی میں 24 اپریل کو ہونے والی ایک میٹنگ میں ایک بار پھر ہر بچے کو سکول لانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ ویلج کونسل کی سطح تک سروے، ڈیٹا اکٹھا کرنے اور بین المحکمانہ تعاون کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ سننے میں سب کچھ درست لگتا ہے، مگر اصل سوال وہی پرانا ہے: تیرہ برس کی مسلسل حکمرانی کے باوجود اگر حکومت کو اپنے ہی اعداد و شمار پر یقین نہیں، تو مسئلہ کہاں ہے، نیت میں، صلاحیت میں یا ترجیحات میں؟
پی ٹی آئی نے پارٹی منشور 2013 میں تعلیم کو اولین ترجیح قرار دیا۔ 2018 میں آؤٹ آف سکول بچوں کی واپسی کا وعدہ کیا گیا، جبکہ 2024 میں ڈیجیٹل تعلیم اور بچیوں کی تعلیم کو مرکزی نعرہ بنایا گیا۔ مگر ایک دہائی بعد نتیجہ یہ ہے کہ نہ سکول سے باہر بچوں کی تعداد کم ہوئی، نہ تعلیمی ڈھانچہ مضبوط ہو سکا۔ وعدے برقرار ہیں، مگر کارکردگی ناپید ہے۔
سرکاری اعداد و شمار خود بولتے ہیں۔ اس وقت صوبے میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 49 لاکھ 20 ہزار بچے سکول سے باہر ہیں، جو اس عمر کے بچوں کا تقریباً 37 فیصد بنتے ہیں،یعنی ہر تیسرا بچہ تعلیم سے محروم ہے۔ سکول چھوڑنے کی شرح بلند ہے اور لاکھوں بچے ادھوری تعلیم کے ساتھ نظام سے باہر ہو جاتے ہیں۔ یہ محض تعلیمی ناکامی نہیں بلکہ ایک سنگین آبادیاتی خطرہ ہے۔ ایسی نوجوان آبادی جو تعلیم اور ہنر سے محروم ہو، وہ معاشی قوت نہیں بلکہ عدم استحکام کا ذریعہ بنتی ہے اور بے روزگاری، غربت اور جرائم کے دائرے کو مزید وسیع کرتی ہے۔
مسئلہ صرف رسائی کا نہیں بلکہ تعلیمی نظام کے ساختی عدم توازن کا بھی ہے۔ صوبے کی آبادی ملک کا تقریباً 16.92 فیصد ہے، مگر تعلیمی سہولیات اس تناسب سے کہیں کم ہیں۔ پرائمری سطح پر کچھ توازن نظر آتا ہے، مگر مڈل اور ہائی سکول کی سطح پر شدید خلا ہے۔ صوبے میں پرائمری سکولوں کی تعداد ملک کے کل پرائمری سکولوں کا 16.57 فیصد ہے، مگر جیسے جیسے تعلیم کا درجہ بلند ہوتا ہے، سہولیات کا بحران شدت اختیار کرتا جاتا ہے۔ مڈل سکولوں میں صوبے کا حصہ صرف 6.85 فیصد اور ہائی سکولوں میں محض 6.56 فیصد رہ جاتا ہے، جبکہ کالجوں کی تعداد ملک کے کل کالجوں کا صرف 2.67 فیصد ہے۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ نظام آگے بڑھنے کی گنجائش ہی فراہم نہیں کرتا۔ اگر تمام بچے پرائمری میں داخلہ لے بھی لیں تو مڈل اور ہائی سطح پر ان کے لیے گنجائش موجود نہیں، اور یوں تعلیمی سفر ناگزیر طور پر درمیان میں ہی ٹوٹ جاتا ہے۔
صوبے میں صنفی تفاوت اس تعلیمی بحران کو مزید گہرا کرتا ہے۔ مردوں میں شرح خواندگی 64 فیصد ہے، جبکہ خواتین میں صرف 37 فیصد ہے۔ دیہی علاقوں اور ضم شدہ اضلاع میں بچیوں کی تعلیم اب بھی سماجی رکاوٹوں کی نذر ہے۔ دوسری طرف سرکاری یونیورسٹیاں مالی بحران کا شکار ہیں، جہاں تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی تک متاثر ہو رہی ہے۔ پنشن کی عدم ادائیگی کے باعث بزرگ ملازمین کئی دنوں سے پشاور یونیورسٹی میں احتجاجی کیمپ لگائے بیٹھے ہیں، جبکہ عملے کو مارچ کی تنخواہیں تاحال ادا نہیں کی گئیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں تعلیمی نظام ترقی نہیں بلکہ بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔
یہ سب ایک ایسے صوبے میں ہو رہا ہے جہاں نوجوان آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اگر یہی نوجوان معیاری تعلیم سے آراستہ ہوں تو ترقی کا انجن بن سکتے ہیں؛ اگر نہیں، تو یہی قوت عدم استحکام کا ایندھن بن جائے گی۔ بدقسمتی سے خیبر پختونخوا میں تعلیمی بحران اب صرف پالیسی کی ناکامی نہیں رہا بلکہ حکمرانی کی مجموعی ناکامی بن چکا ہے۔ بار بار سروے اور ڈیٹا اکٹھا کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ سمجھنے کے باوجود اس پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔
مالی حقیقت بھی یہی کہتی ہے: بڑھتا ہوا قرض، محدود وسائل، اور ایسا تعلیمی بجٹ جس کا بڑا حصہ تنخواہوں اور پنشن میں صرف ہو جاتا ہے۔ ترقیاتی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔ نظام چل تو رہا ہے، مگر آگے نہیں بڑھ رہا۔ یہ موجودہ ڈھانچے کو برقرار تو رکھتا ہے، مگر اسے وسعت دینے اورنئے سکولوں اور کلاس رومز کے قیام کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اور یہاں ہم تعلیمی معیار کی بات بھی نہیں کر رہے؛ اداروں کی تعداد ہی ناکافی ہے، جبکہ معیار کی حالت اس سے بھی زیادہ دگرگوں ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ غربت اور سماجی رکاوٹیں بھی اہم عوامل ہیں۔ جب بچے کی مزدوری گھر کی آمدن کا حصہ ہو، یا بچیوں کی تعلیم سماجی بندشوں کا شکار ہو، تو محض داخلہ مہم ناکافی ثابت ہوتی ہے۔ حکومت کی حالیہ مہم کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ بچے سکول میں داخل تو ہوں گے، مگر سہولیات کی کمی کے باعث جلد ہی چھوڑ دیں گے۔ یوں داخلوں کے اعداد و شمار بہتر دکھائی دیں گے، مگر زمینی حقیقت تبدیل نہیں ہوگی۔
اصل ضرورت ترجیحات کے ازسرنو تعین کی ہے۔ خاص طور پر مڈل اور ہائی سکول کی سطح پر سرمایہ کاری ناگزیر ہے، کیونکہ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں سے زیادہ تر بچے نظام سے باہر ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر اختیارات کی منتقلی، اساتذہ کی مؤثر نگرانی، اور غریب خاندانوں کے لیے مشروط مالی معاونت جیسے اقدامات ضروری ہیں۔ اس کے علاوہ امن کے بغیر تعلیمی نظام نہیں چل سکتا، اور سب سے بڑھ کر موجود ڈیٹا پر عملدرآمد کی ضرورت ہے، نہ کہ بار بار نئے سروے کی۔
سوال یہ نہیں کہ ہم مزید کتنے سروے کریں گے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہماری سیاسی ترجیحات کیا ہیں ،اور ہم اس نظام کو بدلنے کا سنجیدہ فیصلہ کب کریں گے؟ کیونکہ جب تک تعلیم واقعی حکومتی ترجیحات میں سرِفہرست نہیں آتی، نعرے پالیسی اور پالیسی مؤثر عمل میں نہیں ڈھلتی، اور ہر نئی سرکاری مہم پرانی ناکامی کا نیا عنوان بن کر رہ جاتی ہے۔
