صوبائی کابینہ کااجلاس، عوامی فلاحی فیصلے، سکولوں میں مصنوعی ذہانت، جیل اصلاحات اور ترقیاتی منصوبوں کی منظوری
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان اور بشرا بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو نوے دن سے زائد عرصے سے تنہائی میں رکھا جا رہا ہے اور انہیں اہل خانہ اور دوستوں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ اسی طرح بشرا بی بی کو بھی تنہائی میں رکھا گیا ہے اور اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی جو کہ بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عمران خان اور بشرا بی بی کو سردی سے بچاؤ کا سامان فراہم نہ کرنا ظلم ہے اور جعلی حکومت آمریت کے تمام ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے ساتھ امتیازی اور سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے جو قابل قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایکشن ان ایڈ آف سول پاور واپس لینے کا فیصلہ ہو چکا ہے تاہم وفاق کی جانب سے دہشت گردوں کے حراستی مراکز کی تفصیلات فراہم نہ کرنے کے باعث اس عمل میں تاخیر ہو رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گرد قیدیوں کی تفصیلات نہ ملنے پر ایکشن ان ایڈ آف سول پاور کی واپسی سے سیکیورٹی خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے وفاق کی جانب سے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت سیاسی جماعتوں کو کالعدم قرار دینے کے اقدام کو غلط قرار دیا اور شیڈول فور میں شامل سیاسی کارکنان کی فہرست کا ازسر نو جائزہ لے کر ریلیف دینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نادرن بائی پاس منصوبہ دو ہزار دس سے وفاق کی جانب سے تاخیر کا شکار ہے جس کی لاگت تین ارب روپے سے بڑھ کر 31 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت نے اس منصوبے کے لیے صوبائی بجٹ سے پانچ ارب روپے فراہم کر کے منصوبے کو تیز کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آٹھ فروری کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے صوبائی اسمبلی میں خصوصی کمیٹی قائم کی جا رہی ہے اور صوبائی ملازمین کو طلب کر کے انتخابی دھاندلی سے متعلق پوچھ گچھ کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز ہماری محافظ ہیں اور ہمیں ان پر فخر ہے لیکن گلہ اپنوں سے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف دہشت گرد حملے کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف کولیٹرل ڈیمیج میں شہری شہادتیں ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈرون اور فضائی حملوں میں شہریوں کی شہادتوں پر قانون سازی کی ضرورت ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وفاق ٹی ڈی پیز کے لیے وعدہ شدہ فنڈز فراہم نہیں کر رہا اور صوبائی حکومت اب تک ساڑھے سات ارب روپے اپنی جیب سے خرچ کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشنز کے اعلان کے بعد خیبر پختونخوا کے لوگوں کو بے گھر کر کے صوبے کے ذمے چھوڑ دیا جاتا ہے جس سے صوبائی وسائل پر بھاری مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔ اب تک صوبے کے 10 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں اور مزید 100 ارب روپے نقصان کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں کے باعث جی ڈی پی چھ اعشاریہ ایک فیصد سے کم ہو کر دو۔ تین فیصد تک گر گیا ہے جبکہ قرضے 43 ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 80 ہزار ارب روپے ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بے روزگاری اور مہنگائی کے باعث نوجوان ملک چھوڑ رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ملٹری آپریشنز صوبائی اسمبلی اور صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر مسلط کیے جا رہے ہیں جبکہ تمام اسٹیک ہولڈرز، قبائلی مشران اور سیاسی و مذہبی قیادت کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ 22 بڑے آپریشنز اور 14 ہزار انٹیلیجنس آپریشنز کے باوجود دہشت گردی ختم نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ریڈیو پاکستان واقعہ پی ٹی آئی کے خلاف سازش تھا اور اس واقعے کی تحقیقات کے لیے صوبائی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جس کا ایک اجلاس ہو چکا ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 46واں اجلاس جمعرات کے روز پشاور میں منعقد ہوا جس میں کابینہ اراکین، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، انتظامی سیکرٹریز اور ایڈووکیٹ جنرل نے شرکت کی۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات وتعلقات عامہ شفیع جان نے کابینہ کے اہم فیصلوں سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ صوبائی کابینہ نے عوامی فلاح و بہبود کے تحت متعدد اہم فیصلے کئے جن میں سکولوں میں مصنوعی ذہانت کی تعلیم متعارف کرنے، نوجوانوں میں مثبت سرگرمیوں کے فروغ، جوڈیشیل انفراسٹرکچر کی بہتر ی، جیل اصلاحات، قانون سازی اور ترقیاتی سکیموں و ریلیف کے لئے فنڈ کی منظوری شامل ہیں۔انہوں نے بتایاکہ ا جلاس میں جیلوں میں سہولیات کی فراہمی اور سکیورٹی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے2684 ملین روپے کی منظوری دی گئی۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کے مطابق اس رقم سے مختلف جیلوں میں بنیادی سہولیات کی کمی کو پورا کیا جائے گا اور جدید سکیورٹی آلات کی خریداری عمل میں لائی جائے گی۔
کابینہ نے خیبر پختونخوا ایجوکیشن ٹیسٹنگ اینڈ ایویلیوایشن ایجنسی بل 2025 اور خیبر پختونخوا منرلز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی بل 2025 کی منظوری دے دی۔ معاون خصوصی کے مطابق خیبر پختونخوا منرلز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی بل صوبے میں قائم منرلز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی کو باضابطہ قانونی فریم ورک فراہم کرے گا۔معاون خصوصی کے مطابق اجلاس میں اطفال اکیڈمی وانا میں سائنس اور کمپیوٹر لیب کی تعمیر اور مالی معاونت کے لیے 32 ملین روپے کی گرانٹ اِن ایڈ کی منظوری دی گئی۔
اسی طرح 35ویں نیشنل گیمز میں تمغے حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے 28 ملین روپے کے نقد انعامات کی منظوری بھی دی گئی۔ کابینہ نے ضلع کرک میں جوان مرکز کے قیام کے لیے محکمہ کھیل کو سرکاری اراضی کی منتقلی کی منظوری دی، جبکہ ڈی آئی خان میں ہندو اور سکھ برادری کے لیے شمشان گھاٹ کے قیام کے لیے اراضی فراہم کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔اجلاس میں اگست 2025 کے سیلاب متاثرین کے لیے 1136 ملین روپے کے امدادی فنڈ کی منظوری دی گئی۔ اسی طرح ضم اضلاع میں محکمہ پاپولیشن کے آٹھ موبائل سروس یونٹس کے لیے گاڑیوں کی فراہمی اور ریجنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ ساؤتھ کے لیے بس کی خریداری کی بھی منظوری دی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے فاٹا یونیورسٹی پراجیکٹ کے تحت 2500 ملین روپے کی لاگت سے مائنز اینڈ منرلز ویلیو ایڈیشن حب کے قیام کی منظوری دی۔ اس کے علاوہ ضم اضلاع کے طلبہ کے لیے خیبر پختونخوا ایجوکیشن فاؤنڈیشن سکالرشپ اینڈوومنٹ فنڈ کے تحت 300 ملین روپے کی منظوری دی گئی۔شفیع جان کے مطابق اجلاس میں کوہاٹ میں نادرا دفتر کے قیام کے لیے دو کنال اراضی کی فراہمی اور کوہاٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی اسکیم کی لاگت میں اضافے کی منظوری بھی دی گئی۔
صوبائی کابینہ نے جوڈیشل انفراسٹرکچر کے منصوبوں کے لیے 298 ملین روپے کے فنڈز کی منظوری دی۔ اس کے ساتھ ساتھ سکولوں میں کمپیوٹر سائنس کے نصاب میں مصنوعی ذہانت کو شامل کر تے ہوئے گریڈ 6 سے 12 کے طلبہ کے لئے مصنوعی ذہانت سے متعلق اسباق شامل کرنے کی منظوری دی۔اجلاس میں نیویارک اور پشاور کو سسٹر سٹیز قرار دینے کے لیے مفاہمتی یادداشت کے مسودے کی منظوری بھی دی گئی۔ معاون خصوصی کے مطابق اس اقدام سے ثقافتی، تجارتی، معاشی، تعلیمی اور گورننس اصلاحات میں باہمی تعاون کو فروغ ملے گا۔کابینہ نے پشاور میں دو نئے قبرستانوں کے لیے مجموعی طور پر 198 کنال اراضی کی فراہمی کی بھی منظوری دی۔

