The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 13 September 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

خیبرپختونخوا کابینہ کا 58واں اجلاس، پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے پر اظہارِ تشویش، مختلف اہم فیصلوں کی منظوری

Chitral Times

خیبرپختونخوا کابینہ کا 58واں اجلاس، پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے پر اظہارِ تشویش، مختلف اہم فیصلوں کی منظوری

خیبرپختونخوا کابینہ کا 58واں اجلاس، پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے پر اظہارِ تشویش، مختلف اہم فیصلوں کی منظوری

خیبرپختونخوا کابینہ کا 58واں اجلاس، پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے پر اظہارِ تشویش، مختلف اہم فیصلوں کی منظوری

.

پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز)  وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 58واں اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کے انتظامی، ترقیاتی اور عوامی مفاد سے متعلق مختلف امور پر اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے وفاق کی جانب سے پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس کا براہِ راست بوجھ غریب اور متوسط طبقے پر پڑ رہا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وفاقی حکومت کے پاس کوئی واضح پالیسی نہیں۔ انہوں نے ملک کے بڑھتے ہوئے قرضوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قرضوں کا بوجھ بالآخر عوام کو برداشت کرنا پڑے گا۔ ان کے مطابق غریب، مڈل کلاس اور سفید پوش طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہے اور لوگوں کے لیے دو وقت کا کھانا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

محمد سہیل آفریدی نے پنجاب حکومت اور بعض وفاقی وزراء کے خیبرپختونخوا سے متعلق بیانات پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے صوبوں کے خلاف تعصب پر مبنی رویہ ملک میں نفرتوں کو بڑھا سکتا ہے، جو پاکستان اور اس کے اداروں کے لیے بہتر نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سب کا ہے اور قومی یکجہتی کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہیے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت عوامی مفاد میں بہتر سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ گزشتہ مالی سال صوبے نے 130 ارب روپے کے مقررہ ریونیو ہدف کے مقابلے میں 150 ارب روپے سے زائد ریونیو جمع کیا، جبکہ رواں مالی سال کے لیے 180 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نئے ٹیکس عائد کیے بغیر 200 ارب روپے سے زائد ریونیو جمع کرنے کی کوشش کرے گی۔

انہوں نے حکومتی اور محکمانہ امور میں غیر متعلقہ افراد کی مبینہ مداخلت پر بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ افسران کو ڈرانے دھمکانے یا ان کے کام میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ اپنی کابینہ اور افسران کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں اور میرٹ، شفافیت، گڈ گورننس اور سروس ڈلیوری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے این ایل سی کے سی اینڈ ڈبلیو منصوبوں میں ناقص کارکردگی اور کام نہ کرنے پر بعض کنٹریکٹس منسوخ کرنے کا بھی ذکر کیا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے منصوبوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کمپنیوں کی مکمل سکروٹنی کی گئی اور صرف میرٹ اور مکمل دستاویزات رکھنے والی کمپنیوں کو اہل قرار دیا گیا، جبکہ نامکمل کاغذات، مبینہ جعلی بینک گارنٹی یا سفارش کی بنیاد پر آنے والی کمپنیوں کو نااہل قرار دیا گیا۔

بعد ازاں وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ، سائنس، ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی شفیع جان نے میڈیا کو کابینہ کے فیصلوں کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اجلاس میں جیل خانہ جات، گواہان کے تحفظ، گاڑیوں کی رجسٹریشن، پانی کی تقسیم اور دیگر اہم امور سے متعلق فیصلوں کی منظوری دی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے خیبرپختونخوا وٹنس پروٹیکشن ایکٹ 2021 کے تحت خیبرپختونخوا وٹنس پروٹیکشن بورڈ اور اس کے ماتحت دو یونٹس کے قیام کی منظوری دی ہے۔ بورڈ پالیسی رہنما اصول وضع کرنے، ان پر عملدرآمد کی نگرانی اور ماتحت یونٹس کی نگرانی کا ذمہ دار ہوگا۔ یہ قانون دہشت گردی سمیت حساس نوعیت کے فوجداری مقدمات میں گواہان اور دیگر متعلقہ افراد کے تحفظ کے لیے نافذ کیا گیا تھا۔

وزیر اطلاعات کے مطابق کابینہ نے موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965 کے تحت گاڑیوں کی رجسٹریشن دستاویزات، جن میں پولی کاربونیٹ سمارٹ کارڈز، رجسٹریشن بکس اور ایڈہیسو اسٹیکرز شامل ہیں، کی چھپائی اور فراہمی کے لیے نئے جی ٹو جی معاہدے اور نظرثانی شدہ نرخوں کی بھی منظوری دی۔

شفیع جان نے بتایا کہ معمولی نوعیت کے جرائم میں سزا یافتہ قیدیوں کو دو ماہ کی خصوصی معافی دینے کی منظوری بھی دی گئی ہے، جس کے بعد قواعد و ضوابط اور سابقہ روایات کے مطابق باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔

کابینہ میں گلیات سے مری کو پانی کی تقسیم اور فراہمی کے طریقہ کار، نرخوں، واجبات اور پانی کی فراہمی کے حجم سے متعلق معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ کابینہ نے اس معاملے کو آئندہ اجلاس میں کونسل آف کامن انٹرسٹس (سی سی آئی) کے سامنے پیش کرنے کی منظوری دی۔

وزیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ صوبائی محتسب کے دفتر کی سال 2025ء کی سالانہ کارکردگی رپورٹ بھی کابینہ کے سامنے پیش کی گئی، جسے خیبرپختونخوا اسمبلی میں پیش کرنے کی منظوری دے دی گئی۔