The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 13 August 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

وزیراعلیٰ کے زیرصدارت کابینہ اجلاس،متعدد منصوبوں کی منظوری، چترال لینگ لینڈ اسکول کے لیے 6 کروڑ روپے گرانٹ منظور

Chitral Times

وزیراعلیٰ کے زیرصدارت کابینہ اجلاس،متعدد منصوبوں کی منظوری، چترال لینگ لینڈ اسکول کے لیے 6 کروڑ روپے گرانٹ منظور

وزیراعلیٰ کے زیرصدارت کابینہ اجلاس،متعدد منصوبوں کی منظوری، چترال لینگ لینڈ اسکول کے لیے 6 کروڑ روپے گرانٹ منظور

وزیراعلیٰ کے زیرصدارت کابینہ اجلاس،متعدد منصوبوں کی منظوری، چترال لینگ لینڈ اسکول کے لیے 6 کروڑ روپے گرانٹ منظور

.

پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کابینہ اراکین، معاونین خصوصی اور مشیران کی جانب سے صوبے کے مختلف علاقوں کے مسلسل دوروں اور عوام سے براہ راست رابطے کو سراہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوامی رابطوں اور فیلڈ وزٹس کا سلسلہ اسی طرح جاری رہنا چاہیے، کیونکہ ان دوروں کے ذریعے عوام کو درپیش مسائل، سرکاری افسران کے رویے اور سروس ڈلیوری میں موجود خامیوں کا براہ راست علم ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل اور سروس ڈلیوری میں بہتری کے لیے وزراء اور دیگر حکومتی نمائندوں کا عوام کے ساتھ براہ راست رابطہ انتہائی اہم ہے۔ وزیراعلیٰ نے صوبائی محکمہ خزانہ کی کارکردگی کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود خیبرپختونخوا کی معیشت کو مؤثر انداز میں سنبھالا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 129 ارب روپے کے مقررہ ہدف کے مقابلے میں صوبائی حکومت نے 150 ارب روپے کی ریونیو وصولی حاصل کی ہے، جبکہ رواں سال کے لیے 180 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور امید ہے کہ یہ ہدف بھی حاصل کر لیا جائے گا۔ محمد سہیل آفریدی نے کابینہ اراکین پر زور دیا کہ وہ اپنی تمام تر توجہ عوامی خدمت اور اپنے متعلقہ محکموں کی کارکردگی بہتر بنانے پر مرکوز رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ جب حکومت شفافیت اور کرپشن کے خاتمے پر توجہ دیتی ہے تو اس کے مخالفین بھی متحرک ہو جاتے ہیں، تاہم حکومتی اراکین کو تنقید اور منفی پروپیگنڈے سے متاثر ہوئے بغیر اپنے کام پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف آئی ایم ایف کی جانب سے 5300 ارب روپے کی کرپشن کی رپورٹ سامنے آتی ہے، جس کا تعلق عوام کے ٹیکس کے پیسے سے ہے، لیکن اس پر کوئی آواز نہیں اٹھائی جاتی۔ دوسری جانب جب کوئی حکومت حق اور سچ کے بیانیے کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے اور شفافیت و کرپشن کے خاتمے کی بات کرتی ہے تو اس کے خلاف مختلف حلقے اور کالے چینلز متحرک ہو جاتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کا بنیادی مقصد عوام کی خدمت اور صوبے کے مسائل کا حل ہے۔ صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ترقیاتی کام ہو رہے ہیں اور ان کے ثمرات عوام کو نظر آ رہے ہیں۔

انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ترقیاتی کاموں کی رفتار مزید تیز کی جائے۔ عمران خان کی صحت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پوری قوم میں اس حوالے سے تشویش پائی جا رہی ہے کہ میڈیا پر آنے والی خبریں درست ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان جب قید میں گئے تو ان کی صحت مکمل طور پر ٹھیک تھی اور وہ سپر فٹ تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان کو صحت کے حوالے سے کوئی مسئلہ درپیش ہے تو اس کی ذمہ داری جیل انتظامیہ اور وفاقی حکومت کی غفلت پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز عمران خان کی بہنوں سے ملاقات کا دن تھا لیکن انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، اسی طرح وکلاء کو بھی ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، جبکہ عمران خان کو ان کے ذاتی ڈاکٹروں تک بھی رسائی حاصل نہیں۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ پوری قوم میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے میڈیا پر آنے والی خبریں درست ہیں یا غلط۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً تین سال سے عمران خان نے اپنی صحت کو سیاسی ریلیف کے حصول کے لیے استعمال نہیں کیا اور نہ ہی صحت کو جواز بنا کر کسی رعایت کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر آج ان کی صحت کے بارے میں تشویشناک خبریں سامنے آ رہی ہیں تو فیصلہ سازوں اور منصوبہ سازوں کو سوچنا چاہیے کہ وہ پاکستان کو کس سمت لے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت خیبرپختونخوا کا پرزور مطالبہ ہے کہ عمران خان سے ان کے ذاتی ڈاکٹرز، اہل خانہ، وکلاء اور دوستوں کو ملاقات کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان تک ان کے ذاتی ڈاکٹرز اور قریبی لوگوں کی رسائی ان کا آئینی اور قانونی حق ہے، جسے یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اجلاس کے اہم فیصلوں سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخوا شفیع جان نے بتایا کہ صوبائی کابینہ نے اپنے 56ویں اجلاس میں تعلیم، صحت، توانائی اور قانون سازی سے متعلق اہم فیصلے منظور کیے۔کابینہ نے احساس نوجوان پروگرام کی لاگت میں اضافے کی منظوری دی، جس کے تحت اس پروگرام کی مالیت 3 ارب روپے سے بڑھا کر 5 ارب روپے کر دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں کی جانب سے بھرپور دلچسپی اور درخواستوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر یہ اضافہ کیا گیا۔ ان کے مطابق یہ صوبائی حکومت کا اہم منصوبہ ہے جس کا مقصد نوجوانوں میں کاروبار، خود روزگاری، اور پائیدار ذرائع معاش کے مواقع کو فروغ دینا ہے۔

کابینہ نے عید میلاد النبی ﷺ کے سلسلے میں عشرہ رحمت اللعالمین ﷺ کے انعقاد کا شیڈول اور طریقہ کار بھی منظور کیا، جو یکم سے 12 ربیع الاول 1448 ہجری تک منایا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے ضم اضلاع کے ماڈل سکولوں کے لیے رواں مالی سال میں یک وقتی امدادی گرانٹ کی مد میں 18 کروڑ 87 لاکھ 56 ہزار روپے کی منظوری دی۔ ان سکولوں میں مہمند کا ممد گٹ ماڈل سکول، جنوبی وزیرستان کا وانا ماڈل سکول، جنوبی وزیرستان (ٹانک) کا زام ماڈل سکول، مہمند کا غلانئی ماڈل سکول، کرم کا صدہ ماڈل سکول اور شمالی وزیرستان کا میران شاہ ماڈل سکول شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چترال کے لینگ لینڈ سکول اینڈ کالج کے لیے 6 کروڑ روپے کی گرانٹ بھی منظور کی گئی۔ان کے مطابق کابینہ نے خیبر پختونخوا میں سکول سے باہر بچوں کو سکولوں میں لانے کے لیے متعلقہ محکموں کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی منظوری بھی دی۔

تعلیمی شعبے میں ایک اہم اصلاح کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے کے جی سے پانچویں جماعت تک سمسٹر کے مطابق جیکٹڈ نصابی کتب کے نظام کی منظوری دی، جو آئندہ تعلیمی سال 2027-28 سے نافذ ہوگا، جبکہ چھٹی سے آٹھویں جماعت تک یہ نظام بعد میں لاگو کیا جائے گا۔ کابینہ نے نویں سے بارہویں جماعت تک طلبہ کو سو فیصد مفت نصابی کتب دینے کی بھی منظوری دی۔انہوں نے بتایا کہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے صوبے بھر میں سستی، معیاری اور دیرپا نصابی کتب کی فراہمی کے لیے کئی اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ کے پی ٹیکسٹ بک بورڈ کی تجویز کردہ جیکٹڈ نصابی کتب کا یہ نظام سکول بیگ وزن پالیسی کے مطابق بنایا گیا ہے، جس کے تحت منظور شدہ مواد میں کوئی تبدیلی کیے بغیر دو یا زیادہ بنیادی مضامین کی کتابیں ایک ہی جلد میں شامل کی جائیں گی۔پائلٹ منصوبے کے طور پر کے جی سے پانچویں جماعت تک کی بنیادی نصابی کتب گرمی اور سردی دونوں زونز کے سرکاری سکولوں کے لیے جیکٹڈ اور سمسٹر کے مطابق فارمیٹ میں تعلیمی سال 2027-28 سے مکمل طور پر فراہم کی جائیں گی۔ یہ نظام نصاب کے معیار کو برقرار رکھتے ہوئے جلد بندی کے مواد اور بیگ کا وزن کم کرے گا، جو سمسٹر نظام اور سکول بیگ وزن پالیسی سے ہم آہنگ ہے اور طلبہ کی جسمانی صحت کے تحفظ کو یقینی بنائے گا۔

شفیع جان کے مطابق کابینہ نے 21 مستحق مریضوں کے علاج معالجے کے لیے مالی امداد کی منظوری دی، جس کی مجموعی مالیت 6 کروڑ 65 لاکھ 60 ہزار روپے ہے۔ ان کے بقول اس اقدام کا مقصد بروقت علاج ممکن بنانا اور مالی طور پر پریشان حال خاندانوں کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ منظور شدہ رقم متاثرہ خاندانوں کو بلا تاخیر فراہم کی جائے۔ کابینہ نے خیبر پختونخوا ٹرانسمیشن اینڈ گرڈ سسٹم کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تقرری کی بھی منظوری دی۔ اس کے علاوہ کابینہ نے صوبائی حکومت کے اہم منصوبے 132/220 کے وی ڈبل سرکٹ گورکن متلتان ٹرانسمیشن لائن میں رائٹ آف وے سے متعلق مسائل کے حل کے لیے زمین کے نقصان کے معاوضے کی منظوری بھی دی۔انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے خیبر پختونخوا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی بل 2026 کو قانون سازی کے لیے منظور کر لیا۔ اس بل کے قانون بننے کے بعد ایک خودمختار اتھارٹی قائم کی جائے گی جس کی سربراہی ایک پیشہ ور چیف ایگزیکٹو آفیسر کرے گا، جو یا تو بی پی ایس-19 یا اس سے اوپر کا سرکاری افسر ہوگا یا پرائیویٹ سیکٹر کا ماہر بھی ہوسکتا ہے۔

اس اتھارٹی میں منظوری کے دو مراحل ہوں گے، جن میں ایک اعلیٰ سطحی باڈی اور ایک ایگزیکٹو کمیٹی شامل ہوگی۔ اس کے علاوہ اس میں منصوبوں کی جانچ کے لیے علیحدہ ونگ، علاقائی اور ڈویژنل سطح پر پی پی پی کنٹریکٹنگ اتھارٹیز، سیاسی، سرکاری اور نجی شعبے کے ماہرین کی نمائندگی، ایک مخصوص فنڈ اور مارکیٹ میں کام کرنے والے اداروں کے ساتھ براہ راست تعلقات کا انتظام بھی شامل ہوگا۔کابینہ نے خیبر پختونخوا آفس آف دی پروونشل اومبڈسمین ملازمین (شرائط و ضوابط ملازمت) رولز 2025 میں ترامیم کی بھی منظوری دی۔شفیع جان نے بتایا کہ کابینہ نے 114 ہاؤس جاب سلاٹس کے قیام کی منظوری دی، جس کے ساتھ ہاؤس افسران (ایچ اوز) اور ٹرینی میڈیکل افسران (ٹی ایم اوز) کے وظائف میں 15 فیصد اضافہ اور بعد ازاں ہر سال 5 فیصد سالانہ اضافے کی بھی منظوری دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل طلبہ کے لیے مواقع بڑھانے اور تدریسی ہسپتالوں میں افرادی قوت مضبوط بنانے کی خاطر مزید سلاٹس میں اضافے کی تجاویز پیش کی جائیں۔کابینہ نے موجودہ پالیسی میں نرمی کرتے ہوئے ضلع باجوڑ میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں متاثر ہونے والے شہری متاثرین کے لیے معاوضے میں اضافے کی منظوری دی۔ اس کے تحت جاں بحق ہونے والوں کے ورثاء کو ایک کروڑ روپے، جبکہ شدید زخمی ہونے والوں کو 25 لاکھ روپے فراہم کیے جائیں گے۔اس کے علاوہ کابینہ نے اس نوعیت کے واقعات کے لیے عمومی معاوضہ پیکج میں بھی اضافے کی منظوری دی، جس کے تحت جاں بحق ہونے والوں کے ورثاء کا معاوضہ 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 50 لاکھ روپے، جبکہ شدید زخمی ہونے والوں کا معاوضہ بڑھا کر 15 لاکھ روپے کر دیا گیا۔

کابینہ نے خیبر پختونخوا اساتذہ (تقرری اور خدمات کی مستقلی) بل 2026 کی منظوری دی، جس کے تحت ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں عارضی بنیادوں پر تعینات اور قانون سازی کے بعد مختلف وجوہات کی بنا پر رہ جانے والے باقی ماندہ اساتذہ کی خدمات کو مستقل کیا جائے گا۔شفیع جان نے بتایا کہ کابینہ نے دو مسودہ نوٹیفکیشنز کی منظوری بھی دی، جن کے تحت سابقہ فاٹا/پاٹا میں سروس فراہم کنندگان کو خدمات پر سیلز ٹیکس، اور سابقہ فاٹا/پاٹا میں قائم صنعتوں کو ودہولڈنگ سیلز ٹیکس سے استثنیٰ دیا جائے گا