خیبرپختونخوا میں 125 میڈیکل آفیسرز کی کنٹریکٹ پر تعیناتی، چترال کےلئے 34 ڈاکٹرز بھی شامل، محکمہ صحت کا نوٹیفکیشن جاری
۔
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز ) صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن اور سیکریٹری ہیلتھ شاہد اللہ کی کوششوں سے خیبرپختونخوا کے محکمہ صحت نے صوبے میں 125 میڈیکل آفیسرز (فکسڈ پے) کی تعیناتی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ یہ تعیناتیاں ایک سالہ کنٹریکٹ بنیاد پر کی گئی ہیں جن کا اطلاق 8 اپریل 2026 سے ہوگا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ان ڈاکٹروں کو صوبے کے مختلف اضلاع کے ضلعی ہیڈکوارٹر (DHQ) ہسپتالوں میں تعینات کیا گیا ہے، جن میں پسماندہ اضلاع سرفہرست ہیں ، ان اضلاع میں چترال، کوہستان، ہنگو، بٹگرام ، اپر کرم (پراچنار) سمیت دیگر علاقے شامل ہیں۔ان 125 میڈیکل آفیسرز میں 30ڈاکٹرز ٹی ایچ کیو ہسپتال لوئیر چترال کے ہیں اورچار ڈاکٹروں کی اپرچترال میں تعیناتی ہوئی ہے ، زرائع کے مطابق دوسرے فیز چھبیس ڈاکٹرز اپرچترال میں تعینات ہونگے ۔ ہیلتھ زرائع کے مطابق تیسرے فیز میں مذید چالیس ڈاکٹرز جن میں ڈینٹل سرجن بھی شامل ہونگے چترال تعینات کیئے جائیں گے۔ ان ڈاکٹروں کی تعیناتی میں ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی ، ایم پی اے چترال لوئیر فاتح الملک علی ناصر کی کوشش قابل ذکر ہیں، جبکہ پشاور سیکٹریٹ میں تعینات چترال کے مختلف سپوتوں کی کاوشیں بھی شامل حال رہی ہیں۔
محکمہ صحت کے مطابق یہ تقرریاں عوامی مفاد کے تحت کی گئی ہیں تاکہ سرکاری ہسپتالوں میں طبی سہولیات کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ تمام تعینات شدہ میڈیکل آفیسرز کو مقررہ شرائط و ضوابط کے تحت خدمات انجام دینا ہوں گی اور انہیں جاری ہونے کی تاریخ سے سات دن کے اندر اپنی ڈیوٹی سنبھالنا ہوگی، بصورت دیگر ان کی تقرری خود بخود منسوخ تصور ہوگی۔
مزید کہا گیا ہے کہ یہ آسامیاں مکمل طور پر کنٹریکٹ بنیاد پر ہوں گی، جو کہ نان ٹرانسفریبل ہوں گی، اور مدت ختم ہونے پر از خود ختم ہو جائیں گی، جب تک کہ مجاز اتھارٹی کی جانب سے توسیع نہ دی جائے۔
محکمہ صحت نے متعلقہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو ہدایت کی ہے کہ وہ ڈاکٹروں کی اسناد کی تصدیق کو یقینی بنائیں، بصورت دیگر کسی بھی غلطی کی صورت میں ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔
