دو نوجوان جو فری سٹائل پولو کے سفیر بنے – تحریر: احتشام الرحمن
.
چترال اور گلگت بلتستان میں فری اسٹائل پولو محض ایک کھیل نہیں بلکہ ثقافت، روایات اور مقامی شناخت کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہاں کے لوگ اسے اپنی تہذیبی اقدار کا حصہ سمجھتے ہیں، جبکہ کھلاڑی اس کھیل کو اپنے آباؤ اجداد کی میراث تصور کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شندور کے میدانوں سے لے کر چترال اور گلگت کی وادیوں تک فری پولو آج بھی اپنی اصل روح کے ساتھ زندہ ہے۔
فری اسٹائل پولو کو ہمیشہ سے “شاہانہ کھیل” کہا جاتا ہے، کیونکہ اس کے لیے غیر معمولی وسائل درکار ہوتے ہیں۔ ایک بہترین گھوڑے کی خریداری، اس کی پرورش، خوراک، تربیت، کھلاڑیوں کی مسلسل مشق اور مقابلوں کے انعقاد تک ہر مرحلہ بھاری اخراجات کا متقاضی ہے۔ انفرادی سطح پر اس شوق کو زندہ رکھنا اگرچہ ممکن ہے، لیکن کسی بڑے ٹورنامنٹ کا انعقاد انتہائی مشکل کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چترال میں ضلعی سطح پر بنیادی طور پر صرف پری شندور پولو ٹورنامنٹ منعقد کیا جاتا ہے، جبکہ گلگت بلتستان میں جشن بہاراں پولو ٹورنامنٹ اور دونوں خطوں کے درمیان تاریخی شندور پولو فیسٹیول سال میں ایک مرتبہ منعقد ہوتا ہے۔ ان مقابلوں کے لیے سرکاری سرپرستی اور خاطر خواہ مالی وسائل ناگزیر ہوتے ہیں۔
حکومت فری اسٹائل پولو کے فروغ کے لیے فنڈز بھی فراہم کرتی ہے اور ایک پولو ایسوسی ایشن بھی موجود ہے جو اس کھیل کی نگرانی کرتی ہے۔ تاہم کھلاڑیوں اور شائقین کی جانب سے اکثر یہ شکایت سامنے آتی رہی ہے کہ سالانہ چند روایتی مقابلوں کے علاوہ مزید ایونٹس منعقد نہیں کیے جاتے۔ بظاہر اس کی ایک بڑی وجہ محدود وسائل ہیں، مگر چترال کے علاقے کوشٹ سے تعلق رکھنے والے دو نوجوانوں نے اس تصور کو عملی طور پر غلط ثابت کر دیا۔
اشفاق احمد اور سلیم ایوبی نے اپنی ذاتی محنت، عزم اور سرمایہ کاری سے گزشتہ دو برسوں میں کوشٹ پولو فیسٹیول کے نام سے ایک ایسا ایونٹ متعارف کرایا، جس نے مختصر عرصے میں اپنی منفرد شناخت قائم کر لی۔ اس فیسٹیول کا پہلا ایڈیشن گزشتہ سال جبکہ دوسرا حال ہی میں نہایت کامیابی سے منعقد ہوا۔ یہ اپنی نوعیت کا ایک بڑا مقابلہ تھا جس میں نہ صرف چترال بلکہ گلگت بلتستان کے نامور کھلاڑیوں نے بھی شرکت کی۔ گلگت اور چترال کے ممتاز کھلاڑی ذولفقار حمید، اسرار ولی اور دیگر معروف ناموں کی موجودگی نے اس ٹورنامنٹ کے معیار اور وقار میں مزید اضافہ کیا۔
اس ایونٹ کی خاص بات یہ تھی کہ اسے کسی بڑے تجارتی ادارے یا وسیع سرکاری سرپرستی کے بجائے دو نوجوانوں نے اپنی ذاتی کوششوں سے ممکن بنایا۔ انہوں نے صرف مالی وسائل ہی فراہم نہیں کیے بلکہ انتظامی امور میں بھی بھرپور کردار ادا کیا، تاکہ فری پولو کو ایک ایسا پلیٹ فارم مل سکے جہاں نوجوان کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکیں اور اس تاریخی کھیل کی روایت نئی نسل تک منتقل ہو سکے۔
حالیہ کوشٹ پولو فیسٹیول میں سنسنی خیز مقابلوں کے بعد کوشٹ اے کی ٹیم فاتح قرار پائی۔ انفرادی اعزازات میں معراج کو مین آف دی میچ، ضیاء الرحمٰن کو مین آف دی ٹورنامنٹ اور فواد رضا کو بیسٹ ہارس کا ایوارڈ دیا گیا۔ اشفاق احمد نے اپنی جانب سے معراج اور ضیاء الرحمٰن کو پندرہ، پندرہ ہزار روپے جبکہ فواد رضا کو پانچ ہزار روپے نقد انعام بھی پیش کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے پارکنگ اور دیگر انتظامات کے لیے مقامی افراد کی خدمات حاصل کیں، جس سے نہ صرف شائقین کو سہولت ملی بلکہ مقامی لوگوں کو روزگار کا ایک عارضی ذریعہ بھی فراہم ہوا۔
اس کامیابی میں صرف منتظمین ہی نہیں بلکہ اہل کوشٹ کا کردار بھی مثالی رہا۔ کوشٹ ایک نسبتاً چھوٹا دیہی علاقہ ہے جہاں اس نوعیت کے بڑے ایونٹ کا انعقاد آسان نہیں۔ ہزاروں تماشائیوں کی آمد سے مقامی لوگوں کی زمینیں، باغات اور نجی املاک متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے، لیکن اہل کوشٹ نے ان تمام مشکلات کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ انہوں نے نہ صرف دور دراز سے آنے والے مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا بلکہ کئی دنوں تک کھلاڑیوں اور ان کے گھوڑوں کی اپنے گھروں میں میزبانی بھی کی۔ ایسی بے لوث مہمان نوازی اور اجتماعی تعاون کسی بھی معاشرے کی اصل طاقت ہوتی ہے، اور اہل کوشٹ نے ایک مرتبہ پھر اپنی روایتی اقدار کو عملی شکل دے کر اس کا ثبوت دیا۔
کوشٹ پولو فیسٹیول کی کامیابی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ جب ارادے مضبوط ہوں، قیادت مخلص ہو اور پوری کمیونٹی ایک مقصد کے لیے متحد ہو جائے تو محدود وسائل بھی بڑی کامیابیوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتے۔ یہ درست ہے کہ حکومت کھیلوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہے، لیکن صرف فنڈز ہی کسی روایت کو زندہ نہیں رکھتے۔ اصل قوت وژن، ول پاور اور خدمت کے جذبے میں ہوتی ہے، اور یہی جذبہ اشفاق احمد، سلیم ایوبی اور اہل کوشٹ نے عملی طور پر ثابت کیا ہے۔
اس موقع پر شمیم احمد کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کا ذکر بھی ضروری ہے، جن کی رہنمائی اور دلچسپی نے اس ایونٹ کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی اخلاقی حمایت نے منتظمین کے حوصلے کو مزید تقویت بخشی اور اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے میں مدد فراہم کی۔
آج شندور پولو فیسٹیول اور پری شندور پولو ٹورنامنٹ کے بعد کوشٹ پولو فیسٹیول بھی فری پولو کے نمایاں ایونٹس میں شمار ہونے لگا ہے۔ یہ صرف ایک کھیلوں کا مقابلہ نہیں بلکہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ اگر جذبہ، صلاحیت اور اجتماعی تعاون موجود ہو تو مقامی سطح پر بھی ایسے عظیم ایونٹس منعقد کیے جا سکتے ہیں۔ بلاشبہ اشفاق احمد، سلیم ایوبی، شمیم احمد اور اہل کوشٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ فری پولو کی بقا صرف وسائل کی نہیں بلکہ محبت، عزم اور اجتماعی شعور کی بھی مرہون منت ہے۔
اس ٹورنامنٹ کی اہم اور منفرد بات یہ تھی کہ اس ٹورنامنٹ کے منتظم اعلی بھی اشفاق احمد تھے، اسپانسر بھی وہی تھے اور جیت بھی ان ہی کی ٹیم کی ہوئی۔ اکثر ایسے ٹورنامنٹس میں مہمان خصوصی سیاسی شخصیات ہوتی ہیں یا بیروکریسی کے افراد۔ اس ٹورنامنٹ کی منفرد بات یہ بھی تھی کہ اس کے مہمان خصوصی بھی اشفاق احمد ہی تھے جس نے اس ٹورنامنٹ کو مزید خوبصورت بنایا۔
