کوہستان کرپشن ایک واحد غیر سیاسی کرپشن کیس ہے جس میں نا کسی پی ٹی آئی رہنما کے اکاؤنٹ میں فنڈز گئے ہیں نہ مقصود چپراسی اور نا کسی پاپڑ والے کے اکاؤنٹ میں پیمنٹ گئی ہے، مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
پاکستان تحریک انصاف پر ناحق بات پر سینکڑوں کیس بنائے گئے ہیں اگر کوہستان کیس میں تحریک انصاف کی کسی بھی طرح کی شمولیت ہوتی تو نہ جانے کتنے کیسز بن چکے ہوتے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
کوہستان کرپشن کیس میں نیب نے ریکوری کرلی ہے اور صوبے کو رقم واپس ملنی چاہیئے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے کہ کوہستان کرپشن ایک واحد غیر سیاسی کرپشن کیس ہے جس میں نا کسی پی ٹی آئی رہنما کے اکاؤنٹ میں فنڈز گئے ہیں نہ مقصود چپراسی اور نا کسی پاپڑ والے کے اکاؤنٹ میں پیمنٹ گئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف پر ناحق بات بات پر سینکڑوں کیس بنائے گئے ہیں اگر اسی کیس میں تحریک انصاف کی کسی بھی طرح کی شمولیت ہوتی تو نہ جانے کتنے کیسز بن چکے ہوتے دوسری طرف کہیں بھی تحریک انصاف نے اسے سیاسی انتقام کا بیانیہ نہیں بنایا ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوانے اعلان کیا ہے کہ حکومت ہرتعاون کے لئے تیار ہے اور صوبے کو کوہستان کرپشن کیس کی رقم واپس ملنی چاہیے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ حقیقت یہی ہے کہ جنہوں نے 75 سال مل کر حکومت کی انہوں نے نظام میں جھول چھوڑے تاکہ معاملات چلتے رہیں۔
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ دراصل اٹھارویں ترمیم صوبائی خود مختاری کے بعد بھی وفاق نے خیبر پختونخواہ کے پیمنٹ ترسیلات کے نظام میں اپنا کردار شامل رکھا اور تمام ادائیگیوں پر چیک وفاق کی جانب سے ادا کیا جاتا ہے تاکہ صوبائی حکومت اور ان اکاؤنٹ کا چیک اور بیلنس بھی برقرار رہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ محکمہ خزانہ خیبر پختونخواکا اس کے ساتھ کسی قسم کا واسطہ یا ذمہ داری نہیں بنتی۔ مزمل اسلم نے کہا کہ وقت نے ثابت کیا کہ اس میں صوبائی حکومت کسی بھی طرح ملوث نہیں ہے۔
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کرپشن اور پاکستان میں جاری بیانیہ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا دنیا میں کرپشن پرسیپشن انڈکس 135/180 نمبر ہے اور یہ کئی دہائیوں سے 130-135 کے درمیان ہے جبکہ پاکستان عدلیہ رینکنگ 129/142 اور پاکستان ہیومین ڈیویلپمنٹ انڈکس 168/193 ہے اور یہی تین اعشاریوں سے پاکستان کی 78 سالہ کارکردگی عیاں ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ اب سوال یہ ہے کہ پاکستان کو یہاں تک پہنچے کیلئے کس نے کتنے سال حکومت کی تو جواب ہے کہ سیاسی جماعتوں (پی پی پی اور ن لیگ) مائنس پی ٹی آئی عمران خان نے 42 سال حکومت کی جبکہ ملک میں 32 سال ڈیکٹیٹرشپ رہی اور عمران خان نے صرف 3.5 سال حکومت کی مگر کمال کی صفائی سے اس ملک کی زوال کی داستان ایسے بیان کی جارہی ہے جیسے عمران خان کے دور میں ساری خرابیاں پیدا ہوئی ہیں۔
مزمل اسلم نے کہا کہ کوہستان کا سکینڈل شروع ہو کر انجام کے قریب بھی پہنچ گیا اور نیب نے اس کی ریکوری بھی کرلی۔ مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو خبروں کی زینت بنا کر اس ملک کے بڑے سکینڈلز سے توجہ ہٹانے کی کوششں کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ چینی اسکینڈل 250 ارب روپے، گندم درآمد اسکینڈل نگران حکومت اور پی ڈی ایم حکومت کی 400 ارب روپے کا کیا بنا جبکہ 1100 ارب روپے پر مشتمل نیب NRO پی ڈی ایم کا کیا پوزیشن ہے۔
اسی طرح حالیہ اسلام آباد کی سڑکوں کی ترقیاتی فنڈز کہاں گئے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ پنجاب 1,000 ارب مالیاتی بے ضابطگی اور نیلم جہلم 500 ارب روپے کرپشن کیس کہاں تک پہنچا ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ گردشی قرضے اور آئی پی پی 5000 ارب اور توشہ خانہ 1947 سے 2025 تک کا کیس کہاں تک پہنچا ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ جب خیبر پختونخوا میں قدرتی آفات سے نقصان ہو تو پی ٹی آئی حکومت نااہل ہوتی ہے جبکہ اگر پنجاب اور وفاق میں قدرتی آفات سے نقصان ہوجائے تو الٹا اخبار میں شاباشی والا اشتہار شائع کیا جاتا ہے۔ یہ سب چاپلوسی 1990 کی دہائی کی ہے اور یہ نہیں جانتے کہ عوام بدل گئے ہیں اب سب کچھ نوجوانوں کے ہاتھ میں آگیا ہے۔