کیچڑ ۔ تحریر میر سیما آمان
پانی ایک ہی جگہ کھڑا رہے توکیچڑ بن جاتا ہے اور کیچڑ سے بدبو آ نے لگتی ہے ہم میں سے کہیں لوگوں کی زندگیاں بھی بلکل اسی مانند ہیں جو کہیں دہائیوں سے ایک ہی طرز پر ہیں بلکل کسی بدبو دار کیچڑ کی طرح۔۔ آج سے چالیس پہلے جس غلطی پر تھے آج بھی بڑی ڈھٹائی کیساتھ اس پر قائم کھڑے ہیں ۔ نہ اپنے پچھلے کئے پر نادم ہیں نہ موجودہ صورتحال پر پریشان ۔جو تھا جو ہے سب صحیح ہے ۔۔اور چالیس سال پہلے بھی انکی نظر میں غلط گنہگار اور مجرم دوسروں کی ذات تھی اور آ ج بھی مجرم کوئی اور ہے ۔۔یہ کیچڑ جیسی فطرت رکھنے والے لوگ کل بھی معصوم تھے آج بھی ۔۔کتنی عجیب بات ہے ۔۔وہ جو اردو کا ایک محاورہ ہے نہ کہ کتے کی دم ہمیشہ ٹیڑھی ہی رہتی ہے یا وہی ڈھاک کے تین پتے مرغی کی ایک ٹانگ ۔۔
یہ وہی بات ہے ۔انسان کی فطرت کبھی بھی نہیں بدلتی ۔ہم دوسروں کی دل آزاریوں کو معاف کرتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں ہمیں لگتا ہے کہ دوسرے بھی اتنے ہی سادہ ہیں مگر ایسا نہیں ہوتا ۔۔وہ لوگ جو بظاہر ہمارے ساتھ ہیں وہ صرف ہمارا تماشہ دیکھنے کے لیے ساتھ ہیں ۔کیونکہ انکے دلوں میں جو بعض ہے وہ انکو نارمل انسان کی طرح جینے نہیں دیتا ۔۔ ایسے لوگ نہ خود جیتے ہیں نہ دوسروں کو جینے دیتے ہیں ۔اگر آ پ اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکے ہیں اپنی ماضی کی غلطیوں کو دہرانا نہیں چاہتے ۔تو سب سے پہلے ان لوگوں کو اپنی زندگی سے نکال پھینکیں جو صرف آپ کو ذہنی طور پر ٹارچر کرنے کے لیے آپکے ساتھ ہیں جو وقتاً فوقتاً آپ کو اپ کی ماضی کی کمزوریاں یاد دلاتے رہتے ہیں جو خود تو کیچر کی طرح اسی سٹیج پہ کھڑے ہیں لیکن آپ کو بھی کیچر بنانے پر تلے رہتے ہیں ۔
آپ کو تلخ وقتوں سے یادوں سے موو نہیں کرنے دیتے ۔۔خدارا ایسے لوگوں سے خود کو اپنی اولاد کو بچا کے رکھیں ۔اپ نہیں جانتے انکے دل کس قدر کینے سے بھرے ہوئے ہیں ۔اور اگر آپ خود وہ انسان ہیں جو مہذب لفظوں میں نار سسٹ کہلاتا ہے جو کبھی غلط نہیں ہوتا جسکی ہمیشہ سننی چاہیے جو ہمیشہ دوسروں سے برتر ہوتا ہے جو کبھی کوئی غلطی کر ہی نہیں سکتا جسکو دوسروں کے جذبات کی کبھی پرواہ نہیں ہوتی جو صرف تعریف کا حقدار ہے جو کبھی اپنے خلاف ایک بات برداشت نہیں کرسکتا اور جو دوسروں پر سفاکانہ تنقید کو اپنا حق سمجھتا ہے تو آپ میری زبان میں کیچڑ کہلاتے ہیں اور کیچڑ بھی وہ جو پورے ماحول کو بدبودار کر رہا ہے اور مہذب انداز میں آپ ایک نارسسٹ کہلاتے ہیں جسکو اپنی علاج کی اشد ضرورت ہے ۔۔ کیونکہ ہماری مختصر زندگی کسی بیکار رشتے کو خوش کرنے کے لیے نہیں ہیں نہ اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیاں ایسے رشتوں پر قربان کرنے کے لیے ہیں لہذا خود کو بھی کیچڑ بننے سے بچائیں اور اردگرد موجود کیچڑ کی چھینٹیں لگنے سے بھی بچائیں ۔
