خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل؛ احتساب یا نئی لوٹ مار؟ – قریش خٹک
۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی بحث کے ساتھ ہی صوبے کے قدرتی وسائل پر اختیار اور ان سے حاصل ہونے والی آمدن کا سوال بھی ایک مرتبہ پھر زیرِ بحث ہے۔ یہ محض معدنی لائسنسوں یا چند کمپنیوں کے کاروبار کا معاملہ نہیں، بلکہ صوبائی خودمختاری، آئینی حقوق، شفافیت اور مقامی آبادی کے معاشی مستقبل کا سوال ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کی زمین سے نکلنے والی معدنی دولت سے فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے، اور اس دولت کے اصل مالک، یعنی صوبے کے عوام، اس سے محروم کیوں ہیں؟
وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف سے منسوب بیانات کے مطابق، پاکستان کے قیام سے 2010ء تک معدنی لائسنسوں کی تعداد 482 تھی، جو تحریکِ انصاف کے دورِ حکومت میں فروری 2024ء تک بڑھ کر 3,962 اور بعد ازاں 4,917 تک پہنچ گئی۔ اسی مؤقف کے مطابق، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کو 2015ء میں شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں تعمیراتی کام کے لیے ایک لائسنس ملا تھا، جبکہ معدنیات کے شعبے میں فوج کے کسی بڑے براہِ راست کردار کی تردید کی گئی۔ تاہم، لائسنسوں کی تعداد میں اضافے سے بذاتِ خود یہ ثابت نہیں ہوتا کہ تمام لائسنس فعال تھے، ان سے کتنی پیداوار ہوئی یا ان کے معاشی فوائد کس کو حاصل ہوئے۔ ان سوالات کے جواب کے لیے لائسنسوں کی نوعیت، مدت، شرائط، پیداوار اور مالی ادائیگیوں کا مکمل ریکارڈ ضروری ہے۔
اس مؤقف کے برعکس، عوامی نیشنل پارٹی کے رکنِ صوبائی اسمبلی نثار باز خان، جو معدنیات و کان کنی سے متعلق قائمہ کمیٹی کے رکن بھی ہیں، سے منسوب ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ بڑے پیمانے پر فعال کان کنی کا ایک اہم لائسنس وزیرستان میں تانبے کی کان سے متعلق ہے، جو ایف ڈبلیو او کے پاس ہے۔ اس دعوے کے مطابق، متعلقہ علاقہ تقریباً 30 مربع کلومیٹر، یعنی تقریباً 7,410 ایکڑ، پر مشتمل ہے اور اس کان سے 2016ء سے 2024ء کے دوران تقریباً 987,000 ٹن تانبا نکالا گیا۔ اسی بیان میں تقریباً دس لاکھ ٹن تانبے کی فروخت یا برآمد کا بھی ذکر کیا گیا، جس کی مجموعی مالیت تقریباً 6.9 ٹریلین روپے بتائی گئی۔ ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ لائسنس، پیداوار، فروخت اور ادائیگیوں کا ریکارڈ سامنے لانا ضروری ہے۔ اتنے بڑے معاشی مفاد سے متعلق معاملات محض سیاسی بیانات کی بنیاد پر طے نہیں ہونے چاہییں۔
ان اعداد و شمار کو درست تسلیم کیا جائے تو 2017ء کے خیبر پختونخوا مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے تحت پانچ فیصد رائلٹی کی بنیاد پر صوبائی حکومت کا حصہ تقریباً 34.5 ارب روپے بنتا ہے۔ تاہم، سرکاری ریکارڈ میں رائلٹی کی مد میں صرف 16.9 کروڑ روپے کی ادائیگی درج ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جبکہ باقی واجبات کی ادائیگی کے بارے میں سوالات موجود ہیں۔ اس دعوے کی تصدیق اور وضاحت کے لیے ایک آزادانہ مالیاتی آڈٹ ہونا چاہیے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ کسی سیاسی فریق نے کتنی بڑی رقم کا دعویٰ کیا ہے، بلکہ یہ ہے کہ قانون کے تحت کتنی رقم واجب الادا تھی، حقیقت میں کتنی وصول ہوئی، اور اگر کوئی رقم واجب الادا ہونے کے باوجود وصول نہیں کی گئی تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔
یہیں خیبر پختونخوا کے قدرتی وسائل کا سوال صوبے کے وسیع تر مالی حقوق سے جڑ جاتا ہے۔ صوبہ طویل عرصے سے وفاق سے خالص پن بجلی منافع کی ادائیگی اور اس کے بقایاجات کے تعین کا مطالبہ کرتا آیا ہے۔ صوبائی حکومت کی مالیاتی دستاویزات میں پن بجلی منافع کے بقایاجات اور انضمام شدہ اضلاع کے لیے ناکافی وفاقی رقوم کو صوبے کے مالی دباؤ کی اہم وجوہات میں شمار کیا گیا ہے۔ اگست 2026ء میں صوبائی حکومت نے وفاق کے ذمے خالص پن بجلی منافع کی مد میں 27 ارب روپے کے بقایاجات کا معاملہ بھی اٹھایا، جبکہ صوبائی مالیاتی دستاویزات میں مجموعی بقایاجات کے مختلف تخمینے سامنے آتے رہے ہیں۔ ان اعداد و شمار میں فرق کی وجوہات، متعلقہ حسابی مدت اور منظور شدہ فارمولوں کی بنیاد پر ایک واضح اور قابلِ تصدیق حساب عوام کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔
اسی طرح قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت صوبے کو وفاقی محاصل میں ملنے والے حصے اور بالخصوص انضمام شدہ قبائلی اضلاع کے مالی وسائل کا معاملہ بھی اہم ہے۔ جنوری 2026ء میں صوبائی حکومت نے وفاقی محاصل میں اپنے حصے کے مقابلے میں 54.4 ارب روپے کی کمی کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ وفاقی حکومت اس سے پہلے یہ مؤقف اختیار کر چکی تھی کہ صوبے کو اس کا حصہ باقاعدگی سے منتقل کیا جا رہا ہے اور کوئی بقایا واجب الادا نہیں۔ ان متضاد مؤقفوں کا فیصلہ سیاسی الزام تراشی کے بجائے شفاف حسابات، متعلقہ مالیاتی ریکارڈ اور آئینی طریقۂ کار کے ذریعے ہونا چاہیے۔
جب ایک طرف صوبہ پن بجلی منافع، وفاقی محاصل اور انضمام شدہ اضلاع کے لیے وسائل کی فراہمی کے معاملے میں اپنے مالی حقوق کا مطالبہ کر رہا ہو، اور دوسری طرف معدنی دولت سے حاصل ہونے والی آمدن، رائلٹی اور اس سے فائدہ اٹھانے والوں کے بارے میں سوالات موجود ہوں، تو شفافیت کی ضرورت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ صوبے کے عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان کے وسائل سے کتنی آمدن حاصل ہوئی، کتنی رقم صوبائی خزانے میں جمع ہوئی، کس ادارے یا کمپنی کو کتنا فائدہ پہنچا، اور مقامی آبادی کی ترقی پر کتنی رقم خرچ کی گئی۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم محض مالی مطالبہ نہیں، بلکہ وفاقی اعتماد اور قومی یکجہتی کے لیے بھی ضروری ہے۔
دوسری جانب، یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ معدنی شعبے میں ہزاروں چھوٹے لائسنس ہولڈرز موجود ہیں۔ ان کی تعداد چار ہزار سے زیادہ بتائی جاتی ہے اور ان کی سالانہ آمدن تقریباً 14 ارب روپے بیان کی جاتی ہے۔ ان لائسنسوں کے حامل افراد میں عام شہریوں کے علاوہ سیاسی وابستگی رکھنے والے افراد اور ریٹائرڈ فوجی افسران بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ اگر کسی لائسنس کے اجرا میں بدعنوانی، اقرباپروری یا قانونی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اس کی تحقیقات ہونی چاہییں، لیکن ہر چھوٹے لائسنس ہولڈر کو بلاامتیاز مشکوک قرار دینا یا شفاف طریقے سے حاصل کیے گئے لائسنس منسوخ کرکے بڑے کاروباری اداروں کے لیے راستہ ہموار کرنا بھی انصاف نہیں ہوگا۔
بتایا جاتا ہے کہ 2017ء کے بعد لائسنسوں کے اجرا کے لیے آن لائن طریقۂ کار اختیار کیا گیا اور 2024ء میں نیب کی پریوینشن کمیٹی کی سفارشات بھی زیرِ بحث آئیں۔ اگر یہ درست ہے تو ان اقدامات، لائسنسوں کی منظوری، منسوخی اور منتقلی کے ریکارڈ کو عام کیا جانا چاہیے۔ کسی بھی اصلاحاتی عمل کا معیار یہ ہونا چاہیے کہ اس سے بدعنوانی کم ہو، ریاستی آمدن بڑھے اور مقامی لوگوں کے حقوق محفوظ ہوں، نہ کہ چھوٹے کاروباری افراد کو میدان سے نکال کر معدنی وسائل چند بڑے اداروں کے حوالے کر دیے جائیں۔
یہاں سوال کسی ادارے یا کمپنی کے نام سے زیادہ اس اصول کا ہے کہ قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ اگر کسی چھوٹے لائسنس ہولڈر نے قانون توڑا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہو، اور اگر کسی بڑی کمپنی یا طاقتور ادارے نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو اسے بھی جواب دہ ہونا چاہیے۔ قومی سلامتی، تعمیراتی خدمات یا سرمایہ کاری کا حوالہ کسی کو قانونی احتساب سے بالاتر نہیں کر سکتا۔ اسی طرح محض سیاسی اختلاف کی بنیاد پر کسی ادارے یا فرد پر الزام لگانا بھی درست نہیں۔ فیصلہ دستاویزات، آڈٹ اور قانون کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
صوبائی حکومت کو چاہیے کہ تمام فعال اور غیر فعال معدنی لائسنسوں کی فہرست، ان کے مالکان یا حقیقی مستفید ہونے والے افراد، لائسنسوں کی مدت، پیداوار، فروخت، رائلٹی اور دیگر واجبات کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھے۔ بڑے منصوبوں کا آزادانہ مالیاتی اور قانونی آڈٹ کیا جائے، اور یہ بھی واضح کیا جائے کہ مقامی آبادی کو روزگار، تربیت، بنیادی سہولتوں اور ماحولیاتی تحفظ کی صورت میں کیا فائدہ پہنچا۔ جہاں واجبات کی عدم ادائیگی یا غیر قانونی رعایت ثابت ہو، وہاں رقم کی وصولی اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ یہ عمل صرف چھوٹے لائسنس ہولڈرز تک محدود نہ رہے، بلکہ تمام طاقتور اداروں اور کمپنیوں پر یکساں لاگو ہو۔
قدرتی وسائل کسی حکومت، سیاسی جماعت یا طاقتور ادارے کی ذاتی جاگیر نہیں، بلکہ عوام کی امانت ہوتے ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد مقامی معیشت کو مستحکم کرنا، روزگار فراہم کرنا اور پسماندہ علاقوں کو قومی ترقی کے دھارے میں لانا ہونا چاہیے۔ اگر معدنی دولت سے حاصل ہونے والی آمدن عوام کی محرومی دور کرنے کے بجائے چند بااثر حلقوں کی تجوریاں بھرنے کا ذریعہ بن جائے، تو یہ محض ایک انتظامی ناکامی نہیں، بلکہ وفاقی انصاف اور عوامی اعتماد کا سنگین بحران ہے۔
وسائل عوام کے، منافع چند طاقتور اداروں کا اور محرومی پختونخوا کے مقدر میں، یہ معاشی ماڈل کسی طور قابلِ قبول نہیں۔ خیبر پختونخوا کو اس کے آئینی و مالی حقوق بلا تاخیر ملنے چاہییں تاکہ مقامی آبادی اپنی ہی زمین کی دولت سے فیضیاب ہو سکے۔ سیاسی شکایات کے ماحول میں اگر معاشی استحصال بھی شامل ہو جائے تو یہ موجودہ بے چینی اور بدامنی کو مزید ہوا دینے کا باعث بنے گا۔ لہٰذا، خیبر پختونخوا کو اس کا جائز حق دینا محض مالیاتی تقسیم کا معاملہ نہیں، بلکہ قومی یکجہتی، وفاق پر اعتماد اور پائیدار امن کی ناگزیر ضرورت ہے۔