The Voice of Chitral since 2004
Tuesday, 27 October 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

گزشتہ سال چار لاکھ کلو سے زائد مضرِ صحت خوراک تلف، جعلی فیکٹریاں بند، حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی پر کروڑوں روپے جرمانے عائد، خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی رپورٹ جاری

Chitral Times

گزشتہ سال چار لاکھ کلو سے زائد مضرِ صحت خوراک تلف، جعلی فیکٹریاں بند، حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی پر کروڑوں روپے جرمانے عائد، خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی رپورٹ جاری

گزشتہ سال چار لاکھ کلو سے زائد مضرِ صحت خوراک تلف، جعلی فیکٹریاں بند، حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی پر کروڑوں روپے جرمانے عائد، خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی رپورٹ جاری

گزشتہ سال چار لاکھ کلو سے زائد مضرِ صحت خوراک تلف، جعلی فیکٹریاں بند، حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی پر کروڑوں روپے جرمانے عائد، خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی رپورٹ جاری

پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے سال 2025 کی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی۔ رپورٹ کے مطابق صوبہ بھر میں 92 ہزار 312 مختلف خوردونوش اشیاء سے منسلک کاروباروں کے معائنے کیے گئے، جبکہ 4 لاکھ 13 ہزار 888 کلوگرام و لیٹرز غیر معیاری اور مضرِ صحت خوراکی اشیاء تلف کی گئیں۔سالانہ کارکردگی رپورٹ میں بتایا گیا کہ فوڈ اتھارٹی نے قوانین کی خلاف ورزی پر 7 ہزار 685 بہتری کے نوٹسز جاری کیے، جبکہ حفظانِ صحت کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی پر 142 خوراکی کاروبار سیل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق خوراک سے منسلک کاروباروں کے لیے 89 تربیتی اور 1,167 آگاہی سیشنز منعقد کیے گئے۔سال 2025 کے دوران 40 ہزار 932 نئے لائسنس جاری اور تجدید کیے گئے، جبکہ 1,318 فوڈ پراڈکٹس رجسٹرڈ کی گئیں۔ پراڈکٹ رجسٹریشن، لائسنسز اور جرمانوں کی مد میں 253.8 ملین روپے سرکاری خزانے میں جمع کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق مجموعی معائنوں میں 29,905 کریانہ سٹورز، 6,338 ہول سیل ڈیلرز، 6,228 بیکری شاپس، 5,184 ڈھابہ، ٹی سٹالز، شوارمہ و دہی بلے شاپس، 4,836 پولٹری و فش شاپس، 4,764 ہوٹلز، 4,688 ڈیری شاپس و فارمز، 4,579 فروٹس و سبزی شاپس، 3,426 میٹ شاپس، 2,115 کباب شاپس اور 1,832 ریسٹورنٹس شامل ہیں۔اسی طرح 1,411 ڈسٹری بیوشن پوائنٹس، 895 چپس و پاپس فیکٹریز، 446 مصالحہ جات کارخانے، 442 فاسٹ فوڈ پوائنٹس، 411 شہد کی دکانیں اور 68 ڈیری انڈسٹریز کا بھی معائنہ کیا گیا۔تلف شدہ اشیاء میں 184,379 لیٹرز مشروبات، 36,854 کلوگرام گوشت، 21,741 کلو مصالحہ جات، 20,559 کلو پاپس و چپس، 17,065 کلو آئل و گھی، 14,614 لیٹرز دودھ اور 12,376 کلو بیکری آئٹمز شامل ہیں۔

پبی، نوشہرہ اور حطار انڈسٹریل زون ہری پور میں جعلی مشروبات اور جعلی و مصنوعی دودھ تیار کرنے میں ملوث 3 بڑی فیکٹریاں بند کر کے کروڑوں روپے مالیت کی مشینری ضبط کی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کی سٹیٹک پراونشل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری میں 2,813 خوراکی نمونوں کی جانچ کی گئی، جن میں 2,074 نمونے تسلی بخش جبکہ 738 غیر معیاری قرار پائے۔ ٹیسٹنگ میں پانی، گھی و آئل، مشروبات، مصالحہ جات، پاپس، نمکو، چائے کی پتی، سرکہ،کیچپ، جیم، اور کسٹرڈ پاؤڈر وغیرہ شامل تھے۔

اسی طرح موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کے ذریعے دودھ، آئل، گھی، شہد، مشروبات، مصالحہ جات، گوشت اور جوسز، آئس کریم، گرین ٹی،گڑ،فروزن فوڈز دیگر کئی فوڈز کے 14,213 نمونے چیک کیے گئے، جن میں 10,139 نمونے تسلی بخش جبکہ 4,074 غیر معیاری قرار پائے۔رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں فوڈ سیفٹی کے حوالے سے 8 خصوصی مہمات چلائی گئیں، جن میں مصالحہ جات، نمکو، چپس، واٹر فلٹریشن پلانٹس، بوتل بند پانی اور لائسنس و پراڈکٹ رجسٹریشن شامل ہیں۔ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید نے سالانہ رپورٹ جاری کرنے کے موقع پر بتایا کہ حکومت خیبرپختونخوا کی ھدایات پر صوبے میں خوراکی اشیاء کی جانچ کے لیے سرکاری سطح پر اپنی نوعیت کی پہلی پراونشل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری اینڈ سینٹر فار ریسرچ قائم کرکے باقاعدہ افتتاح کیا گیا ہے، جبکہ فوڈ اتھارٹی کے تمام امور کو تقریباً مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

.

.

*ریسکیو1122 سالانہ کارکردگی رپورٹ (2025)جاری*

.
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) خیبر پختونخوا ایمرجنسی ریسکیو سروس (ریسکیو 1122) کے صوبائی ہیڈ کوارٹر میں سالانہ کارکردگی اجلاس منعقد ہوا، اس موقع پر بلال احمد فیضی ترجمان ریسکیو1122 نے کہا کہ ریسکیو1122 نے گزشتہ سال 2025 میں 2 لاکھ 71 ہزار سے زائد ایمرجنسیز میں خدمات فراہم کیں، جن میں 1 لاکھ 69 ہزار سے زائد میڈیکل، 25 ہزار سے زائد ٹریفک حادثات،5691 آگ لگنے کے واقعات، 780 ڈوبنے کے واقعات، 4439 جرائم, 194عمارتیں و چھتیں منہدم، مائنز 10، مختلف نوعیت کے گیس و سلینڈر دھماکے 93 اور دیگر مختلف ایمرجنسیز 6924 شامل ہیں، بلال احمد فیضی نے بتایا کہ ریسکیو1122 نے 2 لاکھ 89 ہزار سے زائد زخمیوں و مریضوں کوطبی امداد فراہم کی اور علاج معالجے کے لیے ہسپتال منتقل کیا، ریسکیو1122 نے ہیلتھ ایمبولینس (ریفرل) کے ذریعے 58800 شدید زخمیوں و مریضوں کو بہتر علاج معالجے کے ضلع کے اندر اور دوسرے اضلاع کے بڑے ہسپتالوں کو منتقل کیاجبکہ اس دوران مختلف واقعات میں 6185 افراد جاں بحق ہوئے۔ ریسکیو1122 شہری علاقوں کے ساتھ ساتھ ضم شدہ اضلاع اور سابق ایف آر ز میں بھی عوام الناس کو ان کی دہلیز پر یکساں خدمات فراہم کررہا ہے۔ ریسکیو1122 نے صوبے کے مختلف سیاحتی مقامات پر عارضی ریسکیو پوائنٹس و سٹیشنز بھی قائم کیے ہیں جہاں سیاحوں کے ساتھ ساتھ مقامی افراد کو بھی ایمرجنسیز کے دوران سہولیات فراہم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔