The Voice of Chitral since 2004
Monday, 22 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

خاموشی، مایوسی اور اعتماد کا بحران –  میری بات/روہیل اکبر

Chitral Times

خاموشی، مایوسی اور اعتماد کا بحران –  میری بات/روہیل اکبر

خاموشی، مایوسی اور اعتماد کا بحران –  میری بات/روہیل اکبر

خاموشی، مایوسی اور اعتماد کا بحران –  میری بات/روہیل اکبر

.
اپنے اردگرد نظر دوڑاتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا معاشرہ آہستہ آہستہ خاموشی کی ایسی چادر اوڑھ چکا ہے جہاں ہر شخص سب کچھ دیکھتا ہے مگر بولنے سے ڈرتا ہے۔ کہیں ظلم ہو رہا ہے، کہیں عورت غیر محفوظ ہے، کہیں غریب اپنے حق کے لیے دربدر پھر رہا ہے، کہیں نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں مایوس بیٹھا ہے اور کہیں مہنگائی نے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ رشتوں میں محبت کم ہوتی جا رہی ہے اور سوشل میڈیا نے ایک ہی گھر میں رہنے والوں کے درمیان بھی فاصلے پیدا کر دیے ہیں مگر ان تمام مسائل کے باوجود ہم خاموش ہیں۔ہم ظلم کی خبر پڑھتے ہیں افسوس کرتے ہیں اور پھر اگلی خبر کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ رشوت غلط ہے،ناانصافی غلط ہے، جھوٹ غلط ہے، عورت پر تشدد غلط ہے اور بچوں کے ساتھ زیادتی ایک سنگین جرم ہے مگر جب ان برائیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کا وقت آتا ہے تو اکثر لوگ خاموش رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

شاید ہم یہ بھول چکے ہیں کہ خاموشی ہمیشہ امن کی علامت نہیں ہوتی بعض اوقات یہی خاموشی برائی کو طاقت دیتی ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں لوگ حق بات کہنے سے ڈریں وہاں ظلم آہستہ آہستہ معمول بن جاتا ہے۔اسی خاموشی کے پس منظر میں ایک اور اہم سوال جنم لیتا ہے کہ آخر اس ملک کا عام آدمی کس پر بھروسہ کرے؟ ہر الیکشن سے پہلے عوام کو نئے خواب دکھائے جاتے ہیں ترقی کے وعدے کیے جاتے ہیں، مہنگائی ختم کرنے اور نوجوانوں کو روزگار دینے کے دعوے کیے جاتے ہیں لیکن اقتدار ملنے کے بعد اکثر یہ وعدے تقریروں اور نعروں تک محدود ہو کر رہ جاتے ہیں۔عوام انتظار کرتی رہتی ہے کہ شاید اب حالات بدلیں گے، شاید اب زندگی آسان ہوگی مگر وقت گزرنے کے ساتھ امیدیں مایوسی میں تبدیل ہونے لگتی ہیں۔ایک عام آدمی کی زندگی کو دیکھیں تو اس کی صبح فکر سے شروع ہوتی ہے اور رات پریشانی پر ختم ہوتی ہے۔

مہنگائی نے گھر کا بجٹ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ باپ اپنی اولاد کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دن رات محنت کرتا ہے مگر پھر بھی اس کے چہرے پر اطمینان نظر نہیں آتا۔ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے دربدر نوکریوں کی تلاش میں ہیں مگر مواقع محدود ہیں۔ ایسے میں جب وہ سیاسی تقریریں سنتے ہیں تو ان کے دل میں امید سے زیادہ سوال پیدا ہوتے ہیں۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے مسائل کا حل کب نکلے گا؟ ان کے خواب کب پورے ہوں گے؟ اور وہ دن کب آئے گا جب سیاست صرف وعدوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ عملی تبدیلی بھی نظر آئے گی؟حقیقت یہ ہے کہ اگر ایک عورت کی عزت پامال ہوتی ہے تو یہ صرف اس کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ناکامی ہے۔ اگر ایک غریب بھوکا سوتا ہے تو یہ صرف اس کی قسمت نہیں بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر نوجوان مایوسی کا شکار ہیں تو اس کا اثر صرف ان کی زندگی تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے ملک کے مستقبل پر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرتی مسائل اور سیاسی ناکامیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ جب انصاف کمزور ہو، روزگار کے مواقع محدود ہوں اور عوام کا اعتماد متزلزل ہو جائے تو معاشرہ خاموشی، بے بسی اور مایوسی کی دلدل میں پھنستا چلا جاتا ہے۔

عوام اب صرف خوبصورت الفاظ سننا نہیں چاہتی بلکہ ایسے رہنما چاہتی ہے جو ان کے درمیان رہیں، ان کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھیں اور ان کے مسائل کے حل کے لیے مخلصانہ کوشش کریں۔ قومیں صرف نعروں سے ترقی نہیں کرتیں بلکہ سچائی، دیانت، محنت اور عملی اقدامات سے آگے بڑھتی ہیں۔ عوام کا اعتماد ایک دن میں حاصل نہیں ہوتا بلکہ اچھے کردار، سچے وعدوں اور مسلسل خدمت سے جیتا جاتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاست کو ذاتی مفادات سے نکال کر عوامی خدمت کا ذریعہ بنایا جائے اور معاشرے کو بے حسی اور خاموشی کے اندھیروں سے باہر نکالا جائے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے مگر ایسا اختلاف جو ملک کی ترقی میں رکاوٹ بن جائے، وہ قوموں کو کمزور کر دیتا ہے۔ اگر سیاست دان اپنی توانائیاں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے بجائے عوام کی بھلائی پر صرف کریں اور اگر معاشرے کے افراد ظلم، ناانصافی اور برائی کے خلاف آواز بلند کرنے کا حوصلہ پیدا کریں تو یقیناً بہت کچھ بدل سکتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس ملک کے لوگ بہت صبر کرنے والے ہیں۔ وہ آج بھی امید رکھتے ہیں کہ ایک دن ایسا آئے گا جب وعدے صرف الفاظ نہیں رہیں گے بلکہ حقیقت بنیں گے،

جب عام آدمی خود کو تنہا محسوس نہیں کرے گا، جب نوجوان اپنے مستقبل سے مایوس نہیں ہوں گے اور جب عوام کو یہ سوچنے کی ضرورت نہیں پڑے گی کہ آخر وہ کس پر بھروسہ کریں۔ لیکن اس خواب کی تعبیر اسی وقت ممکن ہے جب ہم خاموش تماشائی بننے کے بجائے اپنے حصے کی ذمہ داری قبول کریں۔کیونکہ ایک مضبوط ملک کی بنیاد عوام کے اعتماد پر ہوتی ہے اور جب یہ اعتماد قائم ہو جائے تو ترقی کا راستہ خود بخود کھل جاتا ہے ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ خاموش معاشرے، ٹوٹے ہوئے اعتماد اور مایوس نسلیں کسی قوم کو منزل تک نہیں پہنچا سکتیں۔ آج ہمیں خود سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ جب معاشرہ بدلنے کے لیے آواز بلند کرنے کا وقت تھا تو ہم کہاں کھڑے تھے؟ اس لیے کہ بعض اوقات خاموشی صرف خاموشی نہیں رہتی بلکہ ایک ایسا جرم بن جاتی ہے جس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے۔