ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ہنگو، خالد خان کی شجاعت خاندانی میراث کا حصہ ۔ تحریر: احتشام الرحمن
پچھلے دنوں چترال کے قابل فخر سپوت، ڈی پی او ہنگو جناب خالد نے غیرمعمولی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشتگردوں سے لڑتے ہوئے زخم کھائے۔ سینے پر گولیاں کھا کر بھی سینہ تان کر کھڑے رہے۔ پیٹھ دکھانے کے بجائے، روشن علی خان کی طرح دشمنوں کا ڈٹ کر سامنا کرتے ہوئے اپنی جرات کو تاریخ کا حصہ بنا دیا۔ یہ پہلا واقعہ نہیں، بلکہ چترالیوں کی بے مثال بہادری کی ایک اور روشن کڑی ہے۔ اس سے قبل بھی موردیر/مروئی/گولدور سے تعلق رکھنے والے غلام احمد (سابق سیکریٹری لوکل کونسل بورڈ) نے بطور اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ ڈاکوؤں کا سامنا کرتے ہوئے زخمی ہو کر صدر رفیق تارڑ سے تمغۂ شجاعت حاصل کیا تھا۔
خالد کی حالیہ شجاعت ان کی خاندانی روایت کا تسلسل ہے۔ ان کے پردادا محمد عیسیٰ خان کی جرات مندانہ داستانیں آج بھی چترال کے گلی کوچوں میں زبان زدِ عام ہیں، اور ان کے مخالف انگریز بھی ان کے شجاع ہونے کا اعتراف کرتے نظر آتے ہیں۔ اسی خانوادے کے ایک اور فرزند کیپٹن اجمل شہید نے بھی دہشتگردوں سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا اور تمغۂ بسالت سے سرفراز ہوئے۔ خالد کی جرات، ان کے خاندان کی بہادری، اور قبائلی وقار اس امر کا ثبوت ہیں کہ انہوں نے اپنی مٹی سے وفاداری کا وہ عہد نبھایا جو نسل در نسل اس خاندان کا طرۂ امتیاز رہا ہے۔
اس مضمون میں محمد عیسیٰ خان سے متعلق ایک لوک روایت اور انگریزوں سے جنگ میں ان کی شجاعت کا ذکر کر کے یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ خالد کی بہادری، قربانی اور دلیری کوئی انوکھی بات نہیں، بلکہ ان کی خاندانی میراث کا عکس ہے۔
یہ واقعہ مجھے موردیر کے حوالدار میجر محمد کریم صاحب نے بیان کیا تھا۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ محمد عیسیٰ خان اپر چترال سے لوئر چترال کی جانب رات کے وقت سفر کر رہے تھے۔ موری لشٹ کے قبرستان کے پاس روشنی دکھائی دی تو اس سمت چل پڑے۔ قریب پہنچ کر دیکھا کہ ایک نئی قبر کھلی ہوئی ہے، لاش سفید کفن میں لپٹی ہے، اور ایک عورت قبر کے اندر موجود ہے۔ خوف زدہ ہونے کے بجائے، محمد عیسیٰ خان بے دھڑک قبر میں کود پڑے۔ عورت کو بالوں سے پکڑا، تلوار گردن پر رکھی اور پوچھا: “کیا تم انسان ہو یا چڑیل؟” عورت کانپ اٹھی اور بولی: “مجھے معاف کر دو، میں انسان ہوں۔”
محمد عیسیٰ نے استفسار کیا کہ “رات کے اس پہر، قبرستان میں، ایک نئی قبر کھود کر، لاش کے کفن کے ساتھ یہ سب کیا کر رہی ہو؟” تب اس عورت نے ایک دل دہلا دینے والا راز افشا کیا:
“میرے شوہر نے دوسری شادی کر لی۔ میں ایک عامل کے پاس گئی تاکہ میری سوتن سے اس کا تعلق ختم ہو جائے۔ اس نے کہا کہ اگر عورت کی لاش کی چھاتی پر آٹا گوندھ کر شوہر کو کھلا دوں، تو دونوں میں جدائی ہو جائے گی۔ اسی عمل کی نیت سے میں یہ کر رہی تھی۔”
عورت نے جان کی بھیک مانگی، تو محمد عیسیٰ نے اسے چھوڑ دیا اور چترال روانہ ہو گئے۔
چترال پہنچ کر مہتر کے دربار میں شریک ہوئے۔ گفتگو کے دوران مہتر نے حاضرین سے کہا: “کوئی ایسی بات کہو جو سچ ہو لیکن جھوٹ لگے۔” سب نے اپنی اپنی بات کہی۔ آخر میں محمد عیسیٰ نے موری لشٹ کا واقعہ سنایا۔ مہتر برہم ہوئے اور کہا: “اگر یہ جھوٹ نکلا تو تمہاری گردن اڑا دی جائے گی۔” محمد عیسیٰ نے فوراً اس عورت کی کٹی ہوئی چوٹی پیش کی جو وہ بطور ثبوت ساتھ لائے تھے۔ حکم ہوا کہ اس عورت کو تلاش کیا جائے، جس کی چوٹی کٹی ہو اور جس کا شوہر دوسری شادی کر چکا ہو۔ تفتیش کے بعد ساری بات سچ نکلی اور عورت کو سزا دی گئی۔
جہاں محمد عیسیٰ خان کی بہادری کے یہ لوک قصے آج بھی چترال کے دیہاتوں میں دہرائے جاتے ہیں، وہیں تاریخ کے اوراق بھی ان کے حوصلے سے روشن ہیں۔ ان کے دشمن بھی ان کی جرات کے معترف تھے۔
محمد عیسیٰ خان ایک نڈر اور سرفروش جنگجو تھے۔ ان چند چترالی جنگجوؤں میں شامل تھے جنہوں نے جندول کے عمرا خان کے ساتھ مل کر انگریزوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ وہ صرف تلوار کے دھنی ہی نہیں، بلکہ دشمن کے سامنے سینہ سپر ہو کر لڑنے والے سچے سپاہی بھی تھے۔ ان کی جرات نے انگریزوں کو بھی مرعوب کر دیا، اور ان کے کارنامے نہ صرف چترالی تاریخ کا حصہ ہیں بلکہ نوآبادیاتی ریکارڈ میں بھی محفوظ ہیں۔
اسی عظیم روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے خالد نے پولیس فورس جوائن کی۔ اپنی اہلیت اور عزم سے ترقی کرتے ہوئے ڈی پی او ہنگو کے عہدے تک پہنچے۔ اپنے خطابات میں دہشتگردی کے خلاف کھل کر بولے، اور اپنے جوانوں کی قربانیوں کا تذکرہ کر کے دشمنوں کو للکارتے رہے۔ ان کے ان بیانات اور عزم نے انہیں دہشتگردوں کا ہدف بنا دیا۔ مگر وہ اپنی بات سے نہ ہٹے۔ آخرکار، جرات اور بہادری سے دہشتگردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے، اپنی مٹی، قوم اور وطن کے لیے گولیاں کھا کر اپنا خون دے کر امر ہو گئے۔
تحریر: احتشام الرحمن


