کالاش ویلی : رومبور میں نوک تھوں چشمہ سے آیون واٹر سپلائی منصوبے کے خلاف احتجاج، ضلعی انتظامیہ کو سات روز کی مہلت
۔
رومبور (نمائندہ چترال ٹائمز ) وادی رمبور کے عوام نے نوک تھوں چشمہ سے آیون کے لیے مجوزہ واٹر سپلائی منصوبے کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے منصوبے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور ضلعی انتظامیہ و متعلقہ اداروں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
احتجاجی جلسہ سے برزنگی کالاش، میر گجر، اقلیتی کونسلر نور شالی، دوردن صوبیدار، ریاض احمد، رحمت حاصل ودا، آبی حیات، قادر نواز، مولانا اسحاق، صورم خان صوبیدار، شیر تاج، سابق چیئرمین ویلج کونسل رمبور، رحمت زار، سلطان اور خواتین نمائندگان رکیم گل، فلم اور رابی گل سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ نوک تھوں چشمہ صدیوں سے کالاش اور مسلم برادری کے لیے پانی کا بنیادی ذریعہ رہا ہے اور مقامی آبادی پینے کے پانی، گھریلو استعمال، زراعت، پن چکیوں اور دیگر ضروریات کے لیے اسی چشمے پر انحصار کرتی ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ مقامی آبادی کو اعتماد میں لیے بغیر شروع کیا گیا، جبکہ چند افراد کی رضامندی کو پورے علاقے کی رائے قرار نہیں دیا جا سکتا۔
برزنگی کالاش نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوک تھوں چشمہ کالاش برادری کے لیے مذہبی، ثقافتی اور تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ محض پانی کا ذریعہ نہیں بلکہ مقامی شناخت اور طرزِ زندگی کا حصہ ہے، اس لیے عوامی تحفظات کو نظر انداز کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
مقررین نے تجویز پیش کی کہ آیون کے لیے پانی کی فراہمی کے حوالے سے نوک تھوں سے نیچے موجود دیگر چشموں اور متبادل آبی ذرائع کا تکنیکی جائزہ لیا جائے تاکہ ایسا حل تلاش کیا جا سکے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
احتجاجی شرکاء نے خدشہ ظاہر کیا کہ منصوبے کے نتیجے میں پانی کی دستیابی، مقامی زراعت، ماحولیاتی توازن، بجلی کی پیداوار اور کالاش برادری کی مذہبی و ثقافتی سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ منصوبے پر فوری طور پر عمل درآمد روکا جائے اور تمام قانونی، سماجی، ثقافتی اور ماحولیاتی پہلوؤں کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے۔
اس موقع پر خواتین مقررین نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مقامی آبادی کے خدشات کو نظر انداز کیا گیا تو خواتین بھی اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے احتجاجی تحریک کا حصہ بنیں گی۔
اجتماع کے اختتام پر عوام نے ضلعی انتظامیہ کو سات دن کی مہلت دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ منتخب نمائندوں، عمائدین، خواتین، نوجوانوں اور متعلقہ اداروں پر مشتمل مشترکہ جرگہ یا اجلاس طلب کیا جائے اور مسئلے کا قابل قبول حل نکالا جائے۔ شرکاء نے خبردار کیا کہ اگر مقررہ مدت میں پیش رفت نہ ہوئی تو عوام آئینی اور پُرامن طریقے سے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے مزید لائحہ عمل اختیار کریں گے۔
