کالاش قبیلے کی سرمائی تہوار چومس اپنی تمام تررعنائیوں کے ساتھ اختتام پذیر
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) قدیم تہذیب کے حامل کالاش قبیلے کا سرمائی فیسٹول چیٹرامس(چومس) پندر دن تک جاری رہنے کے بعد گزشتہ دن کالاش کی سب سے بڑی وادی بمبوریت میں احتتام پذیر ہوئی۔ بمبوریت وادی میں احتتامی تقریب برون گاؤں میں واقع رقص گاہ (جسٹخان) میں منعقد ہوا۔ موسم انتہائی سرد اور بارش کے باوجود احتتامی تقریب کی رنگینیاں دیدنی تھی اور بڑی تعداد میں تماشائی چترال کے دوسرے حصوں اور ملک کے دیگر شہروں سے بمبوریت پہنچ چکے تھے۔
کالاش مردوخواتین اور بچے اور بچیاں نت نئی روایتی ملبوسات میں ملبوس تھے۔ مرکزی تقریب ظہر کے بعد شروع ہوئی لیکن کالاش خواتین اور بچے صبح سے ہی برون کے جسٹخان میں ناچ گانا شروع کردیا تھا اور مختلف گاؤں سے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ٹولیوں کی صورت میں مخصوص گانا گاتے ہوئے جسٹخان میں داخل ہوتے رہے۔ پانچ دن پہلے حیوانات کے باڑ میں گوشہ نشینی اختیار کرنے والے جوان سال لڑکے اور لڑکیاں اس دن باہر آگئے اور تقریب میں شرکت کی جبکہ کالاش بزرگوں نے ان کا خیر مقدم کیا۔
فیسٹول کی انتظامات کالاش ویلیز ڈویلپمنٹ آتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ نے ملکر کیئے تھے۔ کالاش ڈویلپمٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مناس الدین اور ڈپٹی کمشنر راو ہاشم عظیم احتتامی تقریب میں موجود رہے جہاں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ 7دسمبر کو شروع ہونے والا یہ فیسٹول خیروخوبی سے احتتام پذیر ہواجس کے دوران کالاش قبیلے کے لوگ انتہائی سکون واطمینان کے ساتھ اس فیسٹول کے رسومات ادا کرتے رہے۔ا نہوں نے کہاکہ کالاش ویلیز ڈویلپمنٹ اتھارٹی ضلعی انتظامیہ اور چترال پولیس کے ساتھ مل کر فیسٹول کے لئے خصوصی انتظامات کئے تھے اور باہر سے آنے والے کسی کو بھی ان کے رسومات کی ادائیگی میں دخل اندازی کا موقع نہیں دیا گیا جبکہ سیاح اس سے لطف اندوز بھی ہوتے رہے۔غیر مقامی سیاحوں نے اس فیسٹول کونہایت دلچسپ اور کالاش وادیوں کی رعنائی اور خوبصورتی کی تعریف کی لیکن کالاش ویلی کی سڑکوں کی زبون حالی پر تشویش کا اظہار کیا۔



