کالاش قبیلے کی مذہبی و ثقافتی تہوار ’’زوشی‘‘ یا ’’چیلم جوشٹ‘‘ کا آغاز، کالاش مردوخواتین رنگ برنگے ملبوسات زیب تن کرکے ڈھول کی تھاپ پر روائتی رقص میں شامل
۔
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) وادی کالاش کی معروف مذہبی و ثقافتی تہوار “زوشی” یا چلم جوشٹ باقاعدہ طور پر شروع ہوگیا، جس میں شرکت کے لیے ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی بڑی تعداد تینوں کالاش وادیوں بمبوریت، رمبور اور بریر پہنچ گئی ہے۔
زوشی تہوار ہر سال مئی کے دوسرے ہفتے میں موسمِ بہار کی خوشیوں کے طور پر منایا جاتا ہے۔ تہوار کے دوران کالاش مرد و خواتین اپنے مخصوص رنگ برنگے روایتی لباس زیب تن کرکے ڈھول کی تھاپ پر روایتی رقص پیش کرتے ہیں، جو سیاحوں کی خصوصی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ خواتین کی خوبصورت روایتی ٹوپیوں اور ثقافتی زیورات نے بھی سیاحوں کو بے حد متاثر کیا۔
تینوں کالاش وادیوں میں تہوار کی تقریبات جاری ہیں، جہاں ثقافتی سرگرمیوں کے ساتھ مقامی روایات کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب سیاحوں کی سہولت کے لیے ضلعی انتظامیہ ، ٹی ایم اے اور کالاش ویلیز ڈویلپمنٹ آتھارٹی کے زیر اہتمام انتظامات کو حتمی شکل دید ی گئی ہے۔
تاہم وادی کالاش کو جانے والی خستہ حال اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکوں نے سیاحوں اور مقامی افراد کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ سیاحتی رش بڑھنے کے باعث بعض علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بھی سست روی کا شکار ہو گئی ہے۔
زوشی تہوار کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ مختلف حساس مقامات پر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں تاکہ تہوار پُرامن ماحول میں جاری رہ سکے۔ کالاش قبیلے کا یہ تہوار ۱۴ مئی کو شروع ہوکر ۱۶مئی تک جاری رہیگا،۔اخری دن مرکزی مقام بمبوریت میں بڑی اختتامی تقریب منعقد ہوگی ۔

