جے یو آئی دروش کا اجلاس، ارندو متاثرین کو فوری آئی ڈی پیز قرار دینے کا مطالبہ
۔
دروش (نمائندہ چترال ٹائمز) جمعیت علمائے اسلام تحصیل دروش، ضلع لوئر چترال کی مجلسِ عمومی کا ایک اہم اجلاس بروز اتوار مسجد فاروق اعظم بازار دروش میں زیرِ صدارت تحصیل امیر مولانا قاضی محمد انعام الحق (سابق ناظم عشریت دروش) منعقد ہوا۔
اجلاس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کی سعادت قاری گل حسن نے حاصل کی، جبکہ تحصیل ناظمِ عمومی مفتی فہیم رضا نے ایجنڈا پیش کیا۔ اجلاس میں مجلسِ عمومی کے اراکین نے کھل کر اظہارِ خیال کیا، جس کے بعد ایک متفقہ قرارداد منظور کی گئی۔
قرارداد میں کہا گیا کہ ارندو کے متاثرین پاکستان کے غیرت مند شہری ہیں، جو پاک افغان کشیدگی کے باعث اپنا گھر بار چھوڑ کر دروش کالج اور دروش کے مختلف علاقوں میں کرایہ کے مکانات اور رشتہ داروں کے ہاں مقیم ہیں۔ اگرچہ ضلعی انتظامیہ اور فلاحی ادارے اپنی استطاعت کے مطابق مدد کر رہے ہیں، تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ دو ماہ گزرنے کے باوجود متاثرین کو تاحال آئی ڈی پیز (IDPs) قرار نہیں دیا گیا۔
اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ متاثرین کو فوری طور پر آئی ڈی پیز ڈکلیئر کیا جائے اور انہیں تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔ ساتھ ہی ارندو کو آفت زدہ قرار دے کر ہنگامی بنیادوں پر امدادی سرگرمیوں کا آغاز کیا جائے۔
قرارداد میں متنبہ کیا گیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو جمعیت علمائے اسلام تحصیل دروش عوام کو ساتھ لے کر متاثرین کے حقوق کے لیے بھرپور تحریک شروع کرے گی۔ اس کے علاوہ جے یو آئی دروش کے پلیٹ فارم سے آل پارٹیز کانفرنس طلب کر کے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان بھی کیا جائے گا۔
اجلاس میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ متاثرین ارندو کو سرکاری اداروں میں رکھنے کے بجائے علیحدہ کیمپ میں منتقل کیا جائے اور حکومت کیسو، کلکٹک یا دروش کے کسی اور مقام پر ہنگامی بنیادوں پر ایک باقاعدہ کالونی قائم کرے جہاں پانی، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات میسر ہوں، جبکہ اس کے اخراجات حکومت مستقل بنیادوں پر برداشت کرے۔

