آیون میں جمیعت علماء اسلام کے زیر اہتمام فضلاء کانفرنس اور مفتی محمود ایوارڈ کی تقریب
۔
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) جمیعت علماء اسلام حلقہ آیون کے زیر اہتمام یونین کونسل آیون سے تعلق رکھنے والے مدارس، کالجوں اور یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل طلبہ کے اعزاز میں گزشتہ برسوں کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے امسال بھی فضلاء کانفرنس اور مفتی محمود ایوارڈ کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں ضلعی سطح کے علماء کرام، اساتذہ، عمائدین علاقہ، طلبہ اور ان کے والدین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تقریب کے مہمان خصوصی جمیعت علماء اسلام کے پی کے-1 چترال کے سابق امیدوار مولانا فیض محمد مقصود تھے، جبکہ صدارت کے فرائض ضلعی رہنما قاری وزیر احمد نے انجام دیے۔ پروگرام کی نظامت قاری محمد قاسم اور قاضی رشید الاعظم نے کی۔ تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت قاری ہدایت الرحمن نے حاصل کی جبکہ نعت رسول مقبول ﷺ قاری محمد قاسم نے پیش کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین وی سی آیون ون وجیہ الدین نے طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے اس پروگرام کو سراہتے ہوئے کہا کہ دینی اور عصری علوم کے حامل طلبہ کی یکساں حوصلہ افزائی ایک مثبت اور قابلِ تقلید عمل ہے۔ سابق ناظم مجیب الرحمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسلم معاشرہ دینی اور عصری علوم دونوں میں کمزوری کا شکار ہے، اس لیے ضروری ہے کہ دونوں شعبوں میں متوازن ترقی پر توجہ دی جائے۔
قاری شیر جمیل بمبوریت نے اس نوعیت کے پروگرامز کو سیاست سے بالاتر قرار دیتے ہوئے دیگر علاقوں میں بھی ایسے پروگرام منعقد کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور بمبوریت میں اس سلسلے کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر شاہ فہد علی خان نے دینی اور عصری تعلیم کے درمیان موجود خلا کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ طلبہ جدید علوم کے ساتھ ساتھ عملی مہارتیں بھی حاصل کریں تاکہ تعلیم مکمل ہونے کے بعد روزگار کے مسائل سے بچا جا سکے۔
خطیب شاہی مسجد چترال و صدر دارالعلوم چترال مولانا خلیق الزمان نے مدارس سے فارغ ہونے والے طلبہ کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا اور انہیں دین کی خدمت کے لیے متحرک رہنے کی تلقین کی۔ مہمان خصوصی مولانا فیض محمد مقصود نے اپنے خطاب میں اخلاقیات کو علم کی بنیاد قرار دیتے ہوئے والدین، اساتذہ اور بزرگوں کے احترام کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ کامیابی کے لیے دینی و عصری تعلیم کا امتزاج ناگزیر ہے۔
معروف عالم دین مولانا حبیب اللہ نے عبادت کو انسان کی تخلیق کا بنیادی مقصد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر شعبے میں مہارت حاصل کرنا ضروری ہے اور دینی مسائل میں مستند علماء سے رجوع کیا جانا چاہیے۔
تقریب کے اختتام پر منتظمین کی جانب سے فارغ التحصیل طلبہ اور اساتذہ میں شیلڈز اور مفتی محمود ایوارڈ تقسیم کیے گئے، جبکہ طلبہ کی حوصلہ افزائی کو علم کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا گیا۔


