The Voice of Chitral since 2004
Monday, 26 October 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

ہندوکُش کے دامن سے ۔ جے یو آئی کا سابق درآمدی امیدوار ۔ عبدالباقی چترالی

Chitral Times

ہندوکُش کے دامن سے ۔ جے یو آئی کا سابق درآمدی امیدوار ۔ عبدالباقی چترالی

ہندوکُش کے دامن سے ۔ جے یو آئی کا سابق درآمدی امیدوار ۔ عبدالباقی چترالی

ہندوکُش کے دامن سے ۔ جے یو آئی کا سابق درآمدی امیدوار ۔ عبدالباقی چترالی

جے یو آئی ایک دینی سیاسی جماعت ہے۔ وہ 1984سے چترال کی سیاست میں سرگرم عمل ہے۔ لوئر اور اپر چترال میں اس کا مستحکم ووٹ بنک موجود ہے۔ 2002کے انتخابات میں ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے مولانا جہانگیر صاحب مرحوم صوبائی اسمبلی کی سیٹ جیتنے میں کامیاب ہوئے۔ آپ نے ایم ایم اے کی حکومت کے دوران اپنے حلقہ اپر چترال میں ریکارڈ ترقیاتی کام انجام دیئے۔ اپر چترال کے عوام ان کی بے لوث خدمات کو برسوں یاد رکھیں گے۔ 2018 کے انتخابات میں تحصیل موڑکھو سے تعلق رکھنے والے مولانا ہدایت الرحمن صاحب جے یو آئی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کی سیٹ جیتنے میں کامیاب ہوا لیکن وہ اپنی سیاسی ناتجربہ کاری اور ناقص کارکردگی سے چترال کے مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوا۔ 8فروری 2024کے انتخابات میں جے یو آئی کے امیدوار کو سابق ایم پی اے کی ناقص کارکردگی کا خمیازہ بھگتنا پڑا اور وہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود صوبائی کی سیٹ جیتنے میں ناکام رہا۔
8فروری 2024کے موقع پر جے یوآئی کی قیادت نے این اے 1 کے لیے چترال سے باہر کے رہائشی ابن الوقت شخص کو پارٹی ٹکٹ دیا۔ جے یوآئی کے قومی اسمبلی کے امیدوار طلحہ محمود انتخابات کے موقع پر لوگوں میں بے تحاشہ نقد رقم اور اشیائے خوردونوش تقسیم کرکے پارٹی قائدین اور کارکنوں کی دن رات کی کوششوں کے باوجود قومی کی سیٹ جیتنے میں ناکام رہے لیکن وہ 43ہزار ووٹ لے کر دوسری پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے جوکہ چترال سے باہر کے رہائشی شخص کے لیے مقامی امیدواروں کا مقابلہ کرکے دوسری پوزیشن حاصل کرنا اعزاز سے کم نہیں۔ طلحہ محمود صاحب پہلی بار جے یوآئی کے ٹکٹ پر دوسری پوزیشن حاصل کرنے کے باوجود بغیر کوئی ٹھوس اختلاف کے وہ اچانک جے یو آئی سے خلع لے کر پاکستان پیپلز پارٹی سے نکاح کرنے پر جے یوآئی کے قائدین اور کارکنان نہایت دل شکستہ اور مایوس دیکھائی دے رہے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے جیالے خوشیاں منا رہے ہیں لیکن ان کی خوشیاں بھی عارضی ثابت ہونے کا امکان ہے کیونکہ پاکستان کی سیاست بدلنے میں دیر نہیں لگتی وہ موسم کی طرح بدلتی رہتی ہے۔
اس وقت طلحہ محمود صاحب جے یوآئی کے قائدین اور کارکنوں کو بے یارو مددگار چھوڑ کر اب پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے چترال میں دوبارہ اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے۔ اس وقت وہ پیپلز پارٹی کی قیادت میں آنے والے ممکنہ ضمنی انتخابات میں اپنے صاحبزادے کے لیے سیاسی فضا ہموار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اگر طلحہ محمود صاحب سیاست سے بالاتر ہوکر حقیقی معنوں میں چترالی عوام کی خدمت کرنا چاہتا ہے لوگوں میں نقد رقم تقسیم کرکے ان کو بھکاری بنانے  کے بجائے اپنے فاؤنڈیشن کو لوئر اور اپر چترال میں مذید فعال بناکر بے روزگار نوجوانوں اور خواتین کو کوئی ہنر سیکھا کر یا ان کو کاروبار کے مواقع فراہم کرکے ان کو باعزت طریقے سے اپنے لیے حلال روزی کمانے کے قابل بنائے۔  جس طرح الخدمت فاؤنڈیشن اور آغاخان فاؤنڈیشن عرصہ دراز سے چترال میں سیاست سے بالاتر ہوکر لوگوں کی بیلوث خدمت انجام دے رہے ہیں اس طرح طلحہ محمود صاحب بھی اپنے فاؤنڈیشن کو چترال میں پوری طرح فعال کرکے چترال کی پسماندگی، غربت اور بے روزگاری دُور کرنے کے لیے ٹھوس عملی اقدامات کرکے دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔
طلحہ محمود صاحب 8فروری 2024کے انتخابات میں ناکامی کے باوجود مسلسل عوامی رابطہ مہم جاری رکھا ہوا ہے۔ اس سلسلے میں وہ چترال کے دُور دراز علاقوں کا دورہ کرکے عوام کے مسائل سے آگاہی حاصل کررہا ہے۔ طلحہ محمود صاحب عوام سے مسلسل رابطہ قائم کرکے قلیل مدت میں چترال کی سیاست میں نمایان مقام حاصل کیا ہے جس سے ان کی سیاسی مخالفین کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں۔ 8فروری 2024کے انتخابات میں عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے نمائندگان عوام سے رابطے رکھنا تو درکنار موجودہ عوامی نمائندوں کو عوامی مسائل کی طرف توجہ دلانے پر شدید ناراضگی اور برہمی کا اظہار کرتے ہیں حالانکہ عوام کے مسائل حل کرنا عوامی نمائندوں کی آئینی، قانونی اور اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے۔ وہ عوام کے ووٹؤں سے منتخب ہوکر اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں کوئی ٹسٹ انٹرویو دے کر اپنی قابلیت سے یہ عہدے حاصل نہیں کیے ہیں۔لہٰذا ان کو پارٹی مفادات سے بالاتر ہوکر اپنے حلقے کے عوام کے مسائل حل کرنے کی طرف بھرپور توجہ دینی چاہیے۔