جمعیت علماء اسلام ضلع لوئر چترال کی ضلعی کابینہ تحلیل، دو ماہ کے اندر ضلعی سطح پر نئے انتخابات کرانے کی ہدایت
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) جمعیت علماء اسلام خیبرپختونخوا کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عطاء الرحمن نے دستور کی دفعہ 10 شق نمبر 1 کی خلاف ورزی پر دفعہ 12 شق نمبر 8 کے تحت جمعیت علماء اسلام ضلع لوئر چترال کی ضلعی کابینہ تحلیل کر دی ہے۔جاری پریس ریلیز کے مطابق مولانا عبد الرحمن قریشی کو کنوینئر مقرر کرتے ہوئے دو ماہ کے اندر اندر ضلعی انتخابات کرانے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ اس فیصلے کا باضابطہ نوٹیفکیشن صوبائی جنرل سیکریٹری سینیٹر مولانا عطاء الحق درویش نے جاری کر دیا۔
پریس ریلیز میں مذید کہا گیا ہے کہ 19 اکتوبر 2025 کو دنین کے ایک مقامی مدرسہ میں جمعیت علماء اسلام ضلع لوئر چترال کا دستوری اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں ضلعی مجلسِ عمومی کے اراکین نے شرکت کی، تاہم دستور کے مطابق کورم پورا نہ ہو سکا۔ کورم کی نشان دہی کے باوجود ہاؤس کی اکثریت نے اجلاس جاری رکھنے کے حق میں رائے دی اور اجلاس طویل مشاورت کے بعد عصر کے وقت اختتام پذیر ہوا۔جس میں مولانا عبد الشکور ضلعی امیر اور سابق تحصیل ناظم مولانا محمد الیاس ضلعی جنرل سیکریٹری منتخب ہوگئے تھے۔
دستورِ جمعیت کے مطابق کورم کی نشان دہی کی صورت میں 24 گھنٹے کے بعد اور 15 دن کے اندر دوبارہ اجلاس بلانا لازم ہوتا ہے، مگر ضلعی جماعت کی جانب سے مقررہ مدت میں نیا اجلاس طلب نہیں کیا گیا۔ اس معاملے کو اپوزیشن کی جانب سے صوبائی قیادت کے سامنے اٹھایا گیا، جس پر تحقیق کے بعد صوبائی جماعت نے ضلعی کابینہ تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا۔
صوبائی قیادت کے مطابق اب مولانا عبد الرحمن قریشی کنوینئر کی حیثیت سے دو ماہ کے اندر ضلعی سطح پر نئے انتخابات کرائیں گے۔
