جے۔یو۔آئی دروش کا اجلاس، سڑکوں کی تعمیر میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی پرتحفظات کا اظہار، سوشل میڈیا ایکٹویسٹ کے خلاف کاروائی پر ڈی پی او چترال کو خراج تحسین
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) جمعیت علماء اسلام تحصیل دروش ضلع چترال لوئر کی تحصیل کابینہ کا ایک اہم اجلاس آج بروز اتوار پیر شہباز نقشبندی مسجد دروش میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں 28 دسمبر 2025 کو ہونے والے مجلسِ عمومی اجلاس کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا اور خطوط کی ترسیل مکمل کی گئی۔
اجلاس میں متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں سڑکوں میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی پر اصولی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ کمیٹی غیر جانبدار افراد پر مشتمل ہونی چاہیے تھی، تاہم اس کے باوجود جمعیت علماء اسلام تحصیل دروش کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار کرے گی اور رپورٹ کی روشنی میں عوامِ دروش کو اعتماد میں لے کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
اجلاس میں ڈی پی او چترال لوئر کی جانب سے مسجد کوٹاکئے، کیلاش کمیونٹی اور چترالی اقدار کے منافی نازیبا وائرل ویڈیو کا نوٹس لیتے ہوئے ملزم کو تھری ایم پی او کے تحت ضلع بدر کرنے اور ایک پولیس اہلکار کو معطل کرنے کے اقدام کو سراہا گیا اور ڈی پی او کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ ساتھ ہی مطالبہ کیا گیا کہ کراچی، پشاور اور لاہور میں بیٹھ کر سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز ویڈیوز اپ لوڈ کرنے والے افراد کے خلاف بھی فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
اجلاس میں اس امر پر بھی شدید افسوس کا اظہار کیا گیا کہ پشاور میں مقیم ایک شخص کی جانب سے علماء اور صوفیاء کی توہین پر مبنی مواد سوشل میڈیا پر مسلسل اپ لوڈ کیا جا رہا ہے، جس کے شواہد تھانے میں جمع کرانے کے باوجود تاحال کارروائی نہیں کی گئی۔ اس مسئلے پر علماء کی ایک کمیٹی تشکیل دے کر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا گیا۔اسی طرح کراچی میں بیٹھے ہوئے گلوبٹ نامی شخص کو بھی لگام دینے کا مطالبہ کیا گیا ۔
اجلاس کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ مجلسِ عمومی کے وہ اراکین جو مسلسل دو اجلاسوں میں غیر حاضر رہے ہیں، دستور کی دفعہ 12 کے تحت انہیں شوکاز نوٹس جاری کر کے ان کی بنیادی رکنیت ختم کی جائے گی۔
