اسلامی جمعیت طلبہ خیبرپختونخوا کا تعلیمی اداروں کی آؤٹ سورسنگ اور صوبائی حکومت کی ناکام تعلیمی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز )اسلامی جمعیت طلبہ خیبرپختونخوا کے زیرِ اہتمام پشاور پریس کلب کے سامنے تعلیمی اداروں کی آؤٹ سورسنگ اور صوبائی حکومت کی ناقص تعلیمی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں صوبے بھر کے مختلف سرکاری کالجز کے ناظمین اور طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء نے حکومتِ خیبرپختونخوا کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ تعلیم دشمن فیصلے فوراً واپس لیے جائیں۔ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ناظم اسلامی جمعیت طلبہ خیبرپختونخوا اسفندیار عزت نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے تعلیمی شعبے کو تجربہ گاہ بنا دیا ہے۔ آؤٹ سورسنگ کے نام پر تعلیمی ادارے نجی کنٹرول میں دینے کی کوشش دراصل تعلیم کو کاروبار بنانے کی سازش ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے تعلیم کا نظام تباہ کر دیا ہے، نہ نصاب میں بہتری آئی اور نہ ہی اساتذہ کے مسائل حل ہوئے۔ صوبے میں امن و امان کی صورتحال بھی تعلیمی سرگرمیوں پر براہِ راست اثر انداز ہو رہی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ اور ان کی ٹیم اقتدار کی لڑائی میں مصروف ہیں جبکہ تعلیمی ادارے زبوں حالی کا شکار ہیں۔ صوبائی حکومت کو شرم آنی چاہیے کہ تعلیم جیسے حساس شعبے کو بھی سیاسی مفادات کی نذر کیا جا رہا ہے۔ اسفندیار عزت نے اعلان کیا کہ اگر حکومت نے آؤٹ سورسنگ کا فیصلہ واپس نہ لیا تو اسلامی جمعیت طلبہ اگلے مرحلے میں وزیراعلیٰ ہاؤس کا گھیراؤ کرے گی۔
اس موقع پر صوبائی سیکرٹری جنرل محمد انیس،اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل حنیف اللہ اور سیکرٹری اطلاعات رومان ایوب بھی موجودتھے۔
