نوجوانوں کی بے روزگاری، خاموشی سے بڑھتا ہوا جرم اور مایوسی – اقبال عیسیٰ خان
جرم اکثر اچانک پھیلتے ہوئے طوفان کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، مگر حقیقت میں معاشرے ایک لمحے میں نہیں ٹوٹتے۔ وہ آہستہ آہستہ بکھرتے ہیں، جب مواقع ختم ہونے لگتے ہیں، امید کمزور پڑتی ہے اور انسانی وقار مجروح ہوتا ہے۔ اس خاموش زوال کی سب سے بڑی وجہ نوجوانوں کی بے روزگاری ہے، جو معاشی بحران کے ساتھ ساتھ مایوسی، محرومی اور جرم کو جنم دیتی ہے۔
دنیا بھر میں نوجوانوں کی بے روزگاری ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ 2023 میں اگرچہ اس کی شرح پندرہ سال کی کم ترین سطح پر تھی، پھر بھی کروڑوں نوجوان روزگار سے محروم رہے، جبکہ ایک بڑی تعداد نہ تعلیم میں شامل تھی اور نہ تربیت میں۔ یہ اعداد و شمار محض نمبرز نہیں بلکہ رکے ہوئے خوابوں اور ٹوٹتی ہوئی امیدوں کی کہانی ہیں۔
جب تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نوجوان بامعنی کام نہیں پاتے تو ان کا نقصان صرف مالی نہیں ہوتا، بلکہ نفسیاتی بھی ہوتا ہے۔ خود اعتمادی کمزور پڑتی ہے، اداروں پر اعتماد متزلزل ہوتا ہے اور یہی مایوسی بعض اوقات سماجی تنہائی، منفی عادات اور جرم کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ اس صورتحال کی جڑیں ناقص تعلیمی نظام، عملی مہارتوں کی کمی اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات میں پیوست ہیں۔
سماجی غفلت اور کمزور پالیسیاں اس بحران کو مزید گہرا کر دیتی ہیں۔ قلیل مدتی سیاسی حل وقتی سہارا تو دیتے ہیں، مگر پائیدار روزگار کے مواقع پیدا نہیں کر پاتے۔ نتیجتاً نوجوان انہی نظاموں سے بددل ہو جاتے ہیں جن سے انہیں امید ہونی چاہیے تھی۔
تاہم یہ بحران ناقابلِ حل نہیں۔ یورپ کا یوتھ گارنٹی پروگرام اور جنوبی افریقہ کا حرامبی یوتھ ایمپلائمنٹ ایکسیلیریٹر اس بات کا ثبوت ہیں کہ درست حکمتِ عملی، سرکاری و نجی شراکت اور ہدفی اقدامات نوجوانوں کو باعزت روزگار کی طرف لا سکتے ہیں۔
حل کا راستہ واضح ہے, روزگار کو خیرات نہیں بلکہ سماجی استحکام میں سرمایہ کاری سمجھا جائے، تعلیم کو منڈی کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے، نجی شعبے کو شراکت دار بنایا جائے، اور ذہنی صحت کو معاشی پالیسی کا لازمی جزو تسلیم کیا جائے۔ سب سے بڑھ کر، نوجوانوں کو مسئلہ نہیں بلکہ قوم کا قیمتی اثاثہ سمجھا جائے۔
جرم کی روک تھام پولیس سے نہیں، مواقع سے شروع ہوتی ہے۔ جب نوجوانوں کو سیکھنے، کام کرنے اور مقصد کے ساتھ جینے کا موقع ملتا ہے، تو مایوسی دم توڑ دیتی ہے۔ بامعنی روزگار نہ صرف آمدن پیدا کرتا ہے بلکہ زندگی کو مقصد دیتا ہے، اور یہی مقصد جرم اور نااُمیدی کے خلاف سب سے مضبوط ڈھال ہے۔

